گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی نئی لہر
اس کھیل کے پیچھے چھپی معاشی بنیادوں کو زیر بحث لایا جانا اور ان کے تدارک کیلئے اقدامات ہی وقت کی ضرورت ہیں۔
اس کھیل کے پیچھے چھپی معاشی بنیادوں کو زیر بحث لایا جانا اور ان کے تدارک کیلئے اقدامات ہی وقت کی ضرورت ہیں۔
ان کارپوریشنوں نے محنت کشوں کا خون پسینہ نچوڑ کر دولت کے انبار لگائے ہیں لیکن ان کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی۔
’’یہ مزدور تحریک کی طاقت تھی جس کے نتیجے میں سویڈن کی فلاحی ریاست وجود میں آئی۔‘‘
پاکستان میں سینکڑوں ایسے افراد اور لیڈر ہیں جن کا تعلق سماج کے نچلے حصوں سے تھا جو اب بڑے بڑے سیاستدان اور نودولتیے بن کر ارب پتی ہوگئے ہیں۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نذیر عباسی ایک عظیم انقلابی تھا جس نے آمر جنرل ضیاالحق کی بدترین آمریت کے دوران بھی انقلاب کا علم اٹھائے رکھا۔
تمام مقررین نے حقیقی معاشی اور سماجی آزادی کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بظاہر ان طلبہ مظاہروں کا مرکز و محور’روڈ سیفٹی‘ ہے لیکن درحقیقت یہ عوام بالخصوص نوجوانوں کا پورے نظام کے خلاف غم و غصہ کا اظہار ہے۔
لوگوں کی ٹولیاں الیکشن کے دن علی کو ووٹ ڈالنے ایسے آ رہی تھیں جیسے انقلابی سرکشی کا سماں ہو۔
پہلا سیشن ’سوشلزم کیا ہے؟‘ کے عنوان سے تھا جبکہ دوسرے سیشن میں خاموش پانی فلم دکھائی گئی۔
’جب تک جنتا بھوکی ہے یہ آزادی جھوٹی ہے‘ کے نعرے کے ساتھ مہنگائی ، بیروزگاری اور نجکاری کے خلاف گول باغ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
سیفی، بابر پطرس، عمر شاہد، شمس اور دیگر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے تقسیم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنے پر زور دیا۔
بٹوارے کی سات دہائیوں بعد تاریخ کا کوئی ناقابلِ تردید سبق ہے تو وہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ان سماجوں کو آگے بڑھانے کی سکت نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی نامرادی کا آغاز برسراقتدار آنے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔
کوک سٹوڈیو کے صوفی میوزک پر تھرکتی ہوئی مڈل کلاس اب اس بات پہ شاد نظر آتی ہے کہ اس نے ریاست کے ’استحصالی طبقات‘ کو ووٹ کے ذریعے شکست دے دی ہے۔۔۔
سماج کی کوکھ میں ایک عرصے سے پلنے والے سماجی معاشی تضادات ایک خاص مقام پر پہنچ کر اچانک ایک دھماکے کو جنم دے سکتے ہیں۔