کامریڈ منو بھائی کو سرخ سلام!
پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد اور انقلابی پارٹی کی تعمیر میں منوبھائی کا ناقابل فراموش کردار ہے جو کالم نگاری، اردو ادب، ٹی وی ڈرامے اورشاعری میں ان کے بے مثال کردار سے بھی زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔
پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد اور انقلابی پارٹی کی تعمیر میں منوبھائی کا ناقابل فراموش کردار ہے جو کالم نگاری، اردو ادب، ٹی وی ڈرامے اورشاعری میں ان کے بے مثال کردار سے بھی زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔
بھارت کے قانون، عدل اور انصاف کے سب سے اعلیٰ بھگوان پر اس کے اپنے ججوں کے یہ الزامات پورے ریاستی نظام کی حقیقت کو عیاں اور عدلیہ کی اصلیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ایک متروک نظام کے نمائندے کبھی بھی ترقی پسند اور سائنسی فکر کے مالک نہیں ہو سکتے۔
جب سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کا کوئی حل نہ ہو تو مذہبی انتہاپسندی اور تعصبات کو ہوا دے کر سماج کو تقسیم کر کے طبقاتی جبر اور استحصال کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
حالیہ انتخابات میں عوام کی خاطر خواہ شرکت کو شاید کچھ حلقوں میں ’’جمہوریت‘‘ کی کامیابی گردانا جا رہا ہے لیکن اِس سے نیپالی عوام، بالخصوص نوجوانوں کے بائیں جانب جھکاؤ اور دباؤ کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
یہ کھوکھلی بڑھک بازیاں اور پالیسیوں میں تزلزل تاریخ کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی قوت امریکی سامراج کے زوال کا اظہار ہے۔
سینکڑوں طلبہ و طالبات اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پی ٹی یو ڈی سی سمیت دیگر طلبہ تنظیموں اور ترقی پسند پارٹیوں کے رہنماؤں و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
آج بالعموم پوری دنیا ایک عدم استحکام اور انتشار کی زد میں نظر آتی ہے۔
سعودی عرب کی یاترا اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نوا ز شریف کو مقتدر اداروں سے مصالحت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انور پنہور نے شیخ ایاز کی انقلاب، مزاحمت، سچ اور عشق پر شاعری پر روشنی ڈالی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ آج سے ایک سو سال پہلے روس میں بالشویک پارٹی کی قیادت میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا تھا۔
مورخہ 30 دسمبر2017ء کو جوہی میں دو موضوعات پر مارکسی اسکول منعقد کیا گیا جس میں نوجوانوں اور مزدوروں نے شرکت کی۔
کائنات اور تاریخ کا یہ اصول اور قانون ہے کہ ہر چیز مسلسل تغیر اور تبدیلی کا شکار رہتی ہے۔
ایران کے تمام بڑے شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں نے ایرانی ملاں ریاست کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔
رجعت سے آلودہ سوچ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ طلبا و طالبات آپس میں فن، ادب، سائنس، تعلیم، نصاب، فلسفہ، سیاست، ثقافت، تاریخ، فلم، عالمی حالات اور معاشرے کے بحران جیسے موضوعات پربات چیت یا بحث ومباحثہ کر سکتے ہیں۔