جامشورو: شہید بھگت سنگھ کی برسی کے موقع پرخصوصی لیکچر
عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر ونود کمار نے کہا کہ بھگت سنگھ کو ہم سے بچھڑے آج کئی دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن ان کے نظریات کی صورت میں وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر ونود کمار نے کہا کہ بھگت سنگھ کو ہم سے بچھڑے آج کئی دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن ان کے نظریات کی صورت میں وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکمرانو ں نے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے جس میں ہمیں صرف بادشاہوں کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔
ریفرنس میں PTUDC کی قیادت، کراچی کے مزدور رہنماؤں، محنت کشوں، سیاسی کارکنوں، طلبہ و طالبات کے علاوہ کامریڈ ہردل کمار کے لواحقین نے بھی شرکت کی۔
مورخہ 5 مارچ 2017ء کو دادو میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا جو دو نکاتی ایجنڈا پر مشتمل تھا۔
سیمینار میں 60 سے زائد محنت کشوں، نوجوانوں اور سیاسی کارکنان نے شرکت کی۔
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے مو قع پر پشاور یونیورسٹی میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پشاور یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔
اکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) ملتان نے دفتر طبقاتی جدوجہد میں ایک سیمینار بعنوان ’’محنت کش خواتین کے مسائل اور مارکسی تناظر میں اُن کا حل‘‘ کا انعقاد کیا جس کی صدارت محنت کش خاتون امیراں بی بی نے کی۔
طبقاتی جدوجہد اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی جانب سے 5 مارچ 2017 ء کو حیدرآباد پریس کلب میں ’’خواتین پر جبر اور آزادی کی جدوجہد‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔
’’پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہر ادارے کی جدوجہد میں محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
س موقع پر جے کے این ایس ایف کے مرکزی چیف آرگنائزر تنویر انور، ضلعی جنرل سیکرٹری سہیل اسماعیل، این ایس ایف ہجیرہ کے رہنما ارسلان شانی و صدام حسین نے خصوصی شرکت کی۔
طبقاتی جدوجہد اور بیروزگار نوجوان تحریک کی طرف سے ایک تعزیتی نشست رکھی گئی جس میں سندھ بھر سے انقلابی ساتھیوں نے شرکت کی۔
تقریب بشارت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایس ایف کی پچاس سالہ جدوجہد پر دستاویز نئی نوجوان نسل میں سیاسی شعور کو بیدار کرنے اور نوجوانوں میں سائنسی سوشلزم کے نظریات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مقررین نے خطاب میں کہا کہ سرمایہ داری اپنی طبعی عمر پوری کر چکی اور یہ انسانیت کے خون پر مصنوعی طور پر زندہ ہے۔
مشکل کی اس گھڑی میں پی آئی اے مزدور رہنماؤں اور سینکڑوں محنت کشوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور نجکاری سمیت تمام مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف محنت کشوں کے اتحاد کے لئے کوشاں ہیں۔
طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف، طلبہ یونین کے بحالی کے لئے اور یونیورسٹی میں رینجرز کی تعیناتی کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔