عذابوں کے سیلاب!
اداریہ جدوجہد:- آفتوں کے سیلاب کتنی بار ہی کیوں نہ آئیں ان کی اذیت کم نہیں ہوتی۔ زخم ہر بار جب بھی لگے، درد تو ہوتا ہے۔ غالب شراب کے عارضی آسرے میں کہیں لکھ گیا تھا کہ رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ […]
اداریہ جدوجہد:- آفتوں کے سیلاب کتنی بار ہی کیوں نہ آئیں ان کی اذیت کم نہیں ہوتی۔ زخم ہر بار جب بھی لگے، درد تو ہوتا ہے۔ غالب شراب کے عارضی آسرے میں کہیں لکھ گیا تھا کہ رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ […]