او جی ڈی سی ایل ملازمین کا سہولیات کے خاتمے کے خلاف جدوجہد کا آغاز
پچھلے کچھ دنوں سے ملازمین کی حیدرآباد ٹنڈو عالم آئل فیلڈ سمیت پورے ملک میں تحریک جاری ہے اور کئی فیلڈز کے مین گیٹس پر محنت کش دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے ملازمین کی حیدرآباد ٹنڈو عالم آئل فیلڈ سمیت پورے ملک میں تحریک جاری ہے اور کئی فیلڈز کے مین گیٹس پر محنت کش دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔
یہاں ایک فیصد پیسے والے لوگوں کے پاس ووٹ لینے کا حق ہوتا ہے، باقی 99 فیصد لوگوں کے پاس صرف ووٹ دینے کا۔
افغانستان میں صرف ایک سامراج کی مداخلت نہیں ہے بلکہ مختلف عالمی اور علاقائی سامراجی طاقتوں کی بھی گہری مداخلت ہے، جن کے مفادات مشترک بھی ہیں اور متضاد بھی!
اس وقت محنت کشوں کے غم و غصے کا اظہار صنعتی میدان کی بجائے سیاسی میدا ن میں ہو رہا ہے۔ یہ محض اس عمل کی شروعات ہے اور طبقہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بہت سے اسباق اخذ کرے گا۔
نومنتخب صدر نے پیرامیڈیکل اسٹاف کے نمائندوں سے اپنے پہلے صدارتی خطاب میں کہا کہ جس طرح پیرامیڈیکل نے نئی کابینہ پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے موقع فراہم کیا ہے تو میں بھی اپنی کابینہ کے ہمراہ اس پر پورا اترنے کا یقین دلاتا ہوں۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک ہی ملک کے اندروفاق اور صوبوں میں دو مختلف سروس اسٹرکچر ہوں یہ آئین کی کھلی پامالی ہے، سراسر اور کھلی ناانصافی ہے۔
مورخہ 5 جون 2016ء کو شدید گرمی کے باوجود کے این شاہ میں شاندار ایک روزہ ایریا مارکسی اسکول رکھا گیا جس میں 30 سے زائد محنت کشوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
مورخہ 17 جون 2016ء کو راولاکوٹ میں ایریا مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول مجموعی طور پر دو موضوعات پر مشتمل تھا۔
ہیلری کلنٹن بورژوازی کے سنجیدہ حلقوں کی نور نظر اور ان کی حقیقی امیدوار ہے۔ لیکن منتخب ہونے پر وہ اوباما سے زیادہ جارج بش کی طرح ہو گی۔
پاکستانی سیاست میں لنگوٹ کسے ہوئے پہلوان خواہ کسی بھی پارٹی سے وابستہ ہوں، فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ’لائن‘سے آگے پیچھے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں نہ اس کرپٹ سیاسی اشرافیہ میں اتنی صلاحیت تاریخی طور پر موجود ہے۔
محنت کش طبقہ کبھی بھی چھوٹی تنظیموں کی طرف نہیں جاتا حتیٰ کہ ان تنظیموں کے پروگرام ہزار فیصد درست ہی کیوں نہ ہوں، وہ ان گروہوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتا اور ناگزیر طور پر پہلے سے موجود عوامی تنظیموں کے ذریعے اپنا اظہار کرتا ہے۔
بنیادی طور جنسی تفریق اور جنسی بنیادوں پر استحصال اور جبر کا ذمہ دار کوئی فرد یا قانون سازی کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ بحیثیت مجموعی یہ پورا نظام ہے۔
دنیا کے دو غریب ترین ممالک کے حکمرانوں کا ایٹمی طاقت ہونے کا جنون مضحکہ خیز نہیں تو شرمناک ضرور ہے۔
سماج ان سنگین اور اندوہناک جرائم، تشدد اور زندہ جلا کر ماردینے کے واقعات پر ’’معمول‘‘ کا ردعمل ظاہر کررہا ہے، گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے انتہائی ریڈیکل اصلاحات کی بھی حدود ہوتی ہیں اور یہ اصلاحات جلد یا بدیر اپنی الٹ میں بدل جاتی ہیں۔