طلبہ سیاست کی تنزلی؟
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
کراچی میں 100 سے زائد تھانے ہیں جن میں سے 52 تھانوں کے ریکارڈ میں جرائم بڑھے ہیں۔
ریاست اور حکمران طبقے کے تقدس اور اتھارٹی کو کئی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کے ذہنوں اور نفسیات پر مسلط کیا جاتا ہے۔
صحت، تعلیم، پانی، نکاسی آب اور دوسرے سماجی شعبوں کی نجکاری نے عوام کی زندگیوں پر قہر نازل کردیا ہے۔
اگر نوازشریف کو اوپر سے کسی بھی طریقے سے ہٹا دیا جاتا ہے، جس کے امکانات ہیں، تو نئی حکومت اس سے کم بدعنوان، استحصالی، منافق اور جھوٹی نہیں ہوگی۔
طبقہ جلد یا بدیر اس نتیجے پر پہنچے گا کہ مسائل کا حل آسان طریقوں اور راستوں پر نہیں ہے۔
موجودہ بے یقینی کا عالم اس وجہ سے بھی پایا جاتا ہے کہ صرف چند دنوں میں چیف کی تبدیلی سے پیشتر کوئی ایسا دھماکہ، دہشت گردی کی واردات یا پھر کوئی بھاری واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو فوجی مداخلت کروانے کا موجب بن سکتا ہے۔
حکمران طبقے نے بہت چالاکی سے کراچی پر حکمرانی کرنے والے ظالموں کے پہلے گروہوں کی جگہ پردیگر ظالم گروہوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔
بحرانوں میں اپوزیشن پارٹیاں اپنے مجرمانہ کردار کے حامل قیدیوں کو چھڑاتی ہیں۔ دھرنوں اور لاک ڈاؤن کی دھمکیوں اور یلغار کی آڑ میں کئی طرح کی سودے بازیاں ہوتی ہیں۔
تحریک انصاف ایک ایسا غبارہ ہے جس کی ہوا کئی بار نکلنے کے بعد ریاست اور میڈیا کے کچھ حصوں کی جانب سے دوبارہ بھرتی جاتی رہی ہے لیکن یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔
ایسی کیفیات میں جھوٹ اور منافقت کا راج زوروں پر ہوتا ہے اور جن کے منہ سے حادثاتی طور پر بھی سچ نکل جائے وہ پہلا نشانہ بنتے ہیں۔
مرتضیٰ بھٹو نے حکمران سیاست اور نظام سے دشمنی مول لی تھی۔ مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے والوں کو ایک کہیں زیادہ مسلح اوردیوہیکل حاکمیت کبھی فراموش کرتی ہے نہ کبھی چھوڑا کرتی ہے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کے محنت کش عوام کو مسلسل منتشر اور شہر کو مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا رکھنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں ایم کیو ایم کی ضرورت ہے۔
موجودہ ریاستی کاروائی اس کے وجود کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اس کو تبدیل اور پھر سے تابع کرنے کی کاوش ہے۔
سندھ کے عوام نے بار بار پیپلز پارٹی سے امیدیں وابستہ کی ہیں لیکن پارٹی وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے نرغے میں ہے۔