زبوں حال اقتصادی مستقل
کوئی بھی پارٹی کسی حقیقی سماجی مسئلے اور اقتصادی ایشو کو اپنی کمپئین کے ایجنڈے پر نہیں آنے دے رہی۔ کیونکہ حل کسی کے پاس نہیں ہے۔
کوئی بھی پارٹی کسی حقیقی سماجی مسئلے اور اقتصادی ایشو کو اپنی کمپئین کے ایجنڈے پر نہیں آنے دے رہی۔ کیونکہ حل کسی کے پاس نہیں ہے۔
طاقت کا بے پناہ اجتماع فرد کو حقیقت سے دور کر کے اپنے عقل کل اور نجات دہندہ ہونے کی خوش فہمی پیدا کر دیتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ پہلے ہی متعدد ریڈ لائنیں گزر چکی ہیں…
شجاعت بخاری کا قتل وہ چنگاری ثابت ہوا ہے جس نے بھڑک کر اس مخلوط حکومت کو بھسم کر دیا ہے ۔ لیکن اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک طویل داستان کشمیری عوام نے رقم کی ہے۔
چند ہفتے پیشتر ہی ٹرمپ نے کِم کو ’راکٹ مین‘ اور ’تاریک جوکر‘ کے خطابات سے نوازا تھا جبکہ کِم نے ٹرمپ کو ذہنی مریض اور ’ہلڑ باز‘ قرار دیا تھا۔
شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جس پر ’جسٹس فار مزمل‘ اور ’مشال خان، مرجان اور اب مزمل، کیا اگلی باری میری ہے؟‘
جس نظام اور جس اقتدار میں عوام کی کوئی نمائندگی ہو نہ ہی عام لوگوں کو اس سے کوئی امیدیں باقی رہیں وہ کتنا مستحکم ہو سکتا ہے اور کب تک چل سکتا ہے؟
چہلہ مظفرآباد کے مقام پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر انتظام افطار پارٹی کے موقع پر سیمینار بعنوان ’گلگت بلتستان آرڈر2018ء نامنظور‘ کا انعقاد کیا گیا۔
مقررین نے جی بی آرڈر اور ایکٹ 74ء میں ترامیم کو ان خطوں پر بیرونی کنٹرول کو مزید گہرا کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا۔
چھ جون کو اردن کے مزدوروں اور ٹریڈ یونین کے سرگرم کارکنان کی عام ہڑتال اتنی شدید تھی کہ پوری ریاست لرز کے رہ گئی۔
دادو میں ایک روزہ مارکسی سکول منعقد کیا گیا جس میں دو موضوعات زیر بحث آئے۔
محنت کش اگر لبرلز اور کنزرویٹوز کے بیچ گھڑیال کے پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر بھاگنا نہیں چاہتے تو انہیں اس فرسودہ گھڑیال ہی کو توڑنا پڑے گا۔
لوگ جب اپنے تجربات سے تلخ اسباق سیکھتے ہیں تو ایک وقت میں انقلابیوں کو قیادت کا ملنا نا گزیر ہو جاتا ہے۔
مظفرآباد طبقاتی جدوجہد کے دفتر میں ’’قومی سوال کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔
سعودی عرب میں ایک بار پھر شدید اذیت میں زندگی بسر کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں کو نکالنے پر زور دیا جارہا ہے۔