بین الاقوامی پیش منظر 2016ء
ہم اپنے قارئین کے لئے کانگریس 2016ء کی تیسری مجوزہ دستاویز ’’بین الاقوامی پیش منظر 2016ء‘‘ شائع کر رہے ہیں۔
ہم اپنے قارئین کے لئے کانگریس 2016ء کی تیسری مجوزہ دستاویز ’’بین الاقوامی پیش منظر 2016ء‘‘ شائع کر رہے ہیں۔
’’جب محکمے میں چھوٹے سٹاف کا استحصال ہوتے ہوئے دیکھا تو میرے اندر اس استحصال کے خلاف لڑنے کا جذبہ پیدا ہوا‘‘
مقررین نے کہا کہ کشمیر کی مکمل آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔
| تحریر : لال خان | اڑی حملے پر انڈین میڈیا کی جانب سے بھڑکائے گئے ہیجان اور جنگی جنون اورجواب میں اسی انداز میں پاکستانی چینلوں کی جانب سے تنگ نظر حب الوطنی کی جذباتی نعرے بازی عالمی سیاسی حلقوں،میڈیا اور وسیع تر عوام میں متوقع پذیرائی حاصل نہیں […]
مرتضیٰ بھٹو نے حکمران سیاست اور نظام سے دشمنی مول لی تھی۔ مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے والوں کو ایک کہیں زیادہ مسلح اوردیوہیکل حاکمیت کبھی فراموش کرتی ہے نہ کبھی چھوڑا کرتی ہے۔
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے… جنگ مسئلوں کا حل کیا دے گی؟
یونان کا بحران ختم نہیں ہوا بلکہ منظر عام سے غائب کر دیا گیا ہے۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر 24 ستمبر کو پلندی میں عظیم الشان ’سوشلسٹ کشمیر کانفرنس‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے…
مذہبی فرقہ واریت ان تھیوکریٹک ریاستوں کے ہاتھ میں ایک ایسا اوزار ہے جسے داخلی اور خارجی جبر میں استعمال کرتی ہیں۔
برہمن چمار کی لاش کیسے اٹھاتے؟ بھلا ایسا کسی شاستر پوران میں لکھا ہو، کہیں کوئی دکھا دے۔
آج کے نام اور آج کے غم کے نام…
”حامد ۔“ وہ سات آٹھ سال کا غریب صورت بچہ ہے۔ جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہوگیا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا…
مودی سرکار کے برے دن آ گئے ہیں۔ کشمیر بھڑک اٹھا ہے اور اسی دوران 18 کروڑ محنت کشوں کی عام ہڑتال نے طبقاتی جدوجہد کا ایک نیا آغاز کر دیا ہے۔