عوام کو مفت علاج کی فراہمی کے لیے ینگ ڈاکٹروں کی بھوک ہڑتال

حکمرانو جواب دو۔۔۔عوام کو علاج دو!

[رپورٹ: PTUDCلاہور]

نوجوان ڈاکٹرز مطالبات کی منظوری تک  پانی کے سوا کچھ نہ کھانے پینے کا حلف لے رہے ہیں

پنجاب میں ینگ ڈاکٹروں کی پنجاب حکومت کے مظالم کے خلاف جدوجہد مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مفت دوائیوں کی سہولت حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ختم کی جا چکی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہے۔ ہسپتال گندگی اور غلاظت سے اٹے ہوئے ہیں اور اکثر مشینیں خراب ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں صحت کے شعبے سے ہونے والے بلاد کار کے نتیجے میں خسرہ، خناق اور دیگر موذی وبائیں دوبارہ پھیل رہی ہیں اور مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ گزشتہ 20سالوں سے کوئی نیا ہسپتال نہیں بنا۔کھانسی کا سیرپ پینے سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور پورے ملک میں جعلی ادویات کی بھرمار ہے جبکہ تمام قاتلوں کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہے۔
آج 4فروری کو لاہور میں ینگ ڈاکٹروں نے اپنے ذاتی مطالبات سے بالا تر ہو کر عوام کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے جس میں پنجاب بھر سے 110ینگ ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر شامل ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس سماج میں عام انسانوں کو بھی زندہ رہنے کا حق دیا جائے جو یہ عوام کا خون پینے والے حکمران تیزی سے چھین رہے ہیں۔ پنجاب میں یورپ اور امریکہ کے ہسپتالوں سے علاج کروانے والے حکمرانوں نے ایک طویل جدوجہد کے باوجود نوجوان ڈاکٹرز کے مطالبات پر توجہ نہیں دی اور ان کی جدوجہد کو محض نوجوان ڈاکٹرز کی ذاتی مفادات کی لڑائی بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔سروس سٹرکچر کے حصول کی کامیابی کے لیے بھی ینگ ڈاکٹروں کو طویل جدوجہد کرنا پڑی لیکن اس کامیابی سے بھی نہ صرف پیرا میڈیکل سمیت دیگر شعبوں میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کا آغاز ہوا بلکہ صحت کے شعبے میں بھی بہتری کے امکان روشن ہوئے۔ا س صورتحالمیں حکمران طبقہ ینگ ڈاکٹروں کی تحریک کو کچلنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا۔ ایسے میں3جنوری کو گوجرانوالہ کے سول ہسپتال میں بدمزگی پیش آئی جس کی تلاش میں حکمران طبقہ اور پنجاب حکومت ایک عرصے سے تھی۔اس دوران چند ینگ ڈاکٹروں سے جو غلطی ہوئی اس پر پنجاب قیادت کئی دفعہ معذرت کر چکی ہے لیکن جو ٹی وی سکرینوں پر نہیں دکھایا گیا وہ اسی دوران لاہور سے گئے ہوئے ینگ ڈاکٹروں پر ریاستی غنڈوں کی جانب سے بد ترین تشدد تھا جسکا مقدمہ ابھی تک درج نہیں ہو سکا۔
لیکن اب یہ تحریک ایک اہم مرحلے کی جانب بڑھ چکی ہے۔ جدوجہد کے اس اہم مرحلے پر نوجوان ڈاکٹرز نے پہلے اپنے مطالبات جس میں تمام مریضوں کے لئے علاج کی مفت فراہمی کا مطالبہ سر فہرستہیکے حصول کے لئے ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا جس میں نوجوان ڈاکٹرز نے تمام ہسپتالوں میں OPD’s کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے جن میں مریضوں کا چیک اپ کیا جاتا رہا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی خراب اور نا قابل برداشت صورت حال کی وجوہات بتاتے رہے۔ اس کے باوجود بھی جب ان کے مطالبات پر کان نہ دھرا گیا تو انہوں نے پورے پنجاب سے نوجوان ڈاکٹرز کے مخصوص نمائندوں کے ساتھ سروسز ہسپتال لاہور کے سامنے ایک بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان کیا۔ان تمام تر ڈاکٹرز نے بھوک ہڑتال پر بیٹھتے ہوئے اجتماعی طور پر یہ کہا کہ ہمیں حکومت پنجاب اور بالخصوص فراڈ اعلیٰ شہباز شریف نے بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور کیا ہے اور اس بھوک ہڑتال میں ہونے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے مطالبات کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور بالکل اسی جگہ کھڑے ہو کر یہ عزم کر رہے ہیں جہاں آج سے 82سال پہلے عظیم شہید بھگت سنگھ نے نسل انسانی کے بہتر اور خوشحال مستقبل کے لئے برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوما تھا۔
مارکسی بھوک ہڑتال کے طریقہ احتجاج کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ محنت کش طبقے کی ایک بہت بڑی اکثریت پہلے ہی قحط جیسی کیفیت میں زندگی گزار رہی ہے۔لیکن ینگ ڈاکٹروں کے مطالبات اور ان کے سچے جذبے کی قدر کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ان کی حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ینگ ڈاکٹروں کے وفد مختلف مزدور تنظیموں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں جن میں ریلوے، پی ٹی سی ایل، پوسٹ، پروفیسر اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ان ملاقاتوں میں ینگ ڈاکٹر محنت کشوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی کی جدوجہد میں انہیں ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹریڈ یونین قائدین نے ینگ ڈاکٹروں کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام لوگوں کو علاج کی مفت سہولیات فراہم کرے لیکن حکمرانوں کی لوٹ مار کے باعث علاج انتہائی مہنگا ہو چکا ہے اور بہت سے محنت کش قابل علاج بیماریوں سے صرف اس لیے مر جاتے ہیں کہ ان کے پاس علاج کرانے کے پیسے نہیں ہوتے۔سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث بھی بہت سے مریض دم توڑ جاتے ہیں۔ جہاں کچھ سال قبل تک کم از کم ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو کچھ سہولیات میسر تھیں وہ بھی ان مریضوں سے چھین لی ہیں اور اب سرکاری ہسپتالوں میں نہ تو مریضوں کے لئے کوئی دوائی ہے اور نہ ہی مرض کی تشخیص کے لئے کسی قسم کے ٹیسٹ کی کوئی سہولت۔ ایسے میں صحت کے شعبے میں بیٹھی بیوروکریسی اور منیجمنٹ جو رہا سہا فنڈ ہسپتالوں کے لئے بچتا بھی ہے اس کو بھی ہڑپ کر جاتی ہے۔انہوں نے ینگ ڈاکٹروں کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ مفت ادویات کی سرکاری ہسپتالوں میں فراہمی ہر محنت کش کا مطالبہ ہے اور اس جدوجہد میں ہم ان کا ساتھ دیں گے۔آنے والے دنوں میں مختلف مزدور تنظیموں کی قیادت اپنے وفد کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتالی کیمپ کا دورہ کرے گی جبکہ کل 5فروری کو پی ٹی یو ڈی سی کی مرکزی قیادت بھی اس کیمپ کا دورہ کرے گی اور عوام کے لیے مفت علاج کی سہولت کے حق کے لیے اپنی جدوجہد کا تجدیدِ عہد کرے گی۔ سچے جذبو ں کی قسم جیت ہماری ہوگی! ہم ہونگے کامیاب!