۔7نومبر: نوجوان ڈاکٹرز کا لاہور کی طرف لانگ مارچ

صدا دبے گی تو حشر ہو گا!

[رپورٹ: کامریڈ غفار]
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن 7نومبر کو پورے پنجاب سے لاہور کی جانب لانگ مارچ کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت ایک لمبے وقت سے نوجوان ڈاکٹرز کے ساتھ ایک کھلواڑ میں مصروف ہے اور نوجوان ڈاکٹرزکے مطالبات یقین دہانیوں کے باوجود پورے نہیں کئے گئے۔ نوجوان ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حصول کے لئے تمام تر دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں مگر ہر دروازے سے سوائے مایوسی اور دھتکار کے انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کو مجبوراََ پھر سے احتجاج اور ہڑتال کی طرف جا نا پڑتا ہے۔ ارباب اختیار نوجوان ڈاکٹرز کے ساتھ بلی چوہے والے کھیل میں مصروف ہیں اور جب ڈاکٹرز ہسپتالوں سے باہر آتے ہیں تو ان کے مطالبات کو ماننے کی یقین دہانیاں کروائی جاتی ہیں مگر جب نوجوان ڈاکٹرز وعدوں پر یقین کرتے ہوئے واپس اپنے کام پر جاتے ہیں تو ارباب اختیار کی طرف سے یہ فرمان جاری ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز کے مطالبات مانے ہی نہیں جا سکتے۔ حالانکہ نوجوان ڈاکٹرز کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اتنے وسائل درکار نہیں ہیں جتنے ان حکمرانوں کی شہ خرچیوں پر صرف ہوتے ہیں۔ حکمران کسی بھی طور علاج اور تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہیں بلکہ سرکاری سطح پر ان شعبوں کو باقی سرکاری شعبوں کی طرح برباد کرتے ہوئے ان کی نجکاری کا منصوبہ حکمرانوں کی رالیں ٹپکا رہا ہے۔ نوجوان ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ہم محنت کش اور غریب عوام کا بہتر علاج کرنے کے لئے بہتر حالات مانگ رہے ہیں تو یہ ہمارا بنیادی حق ہے اور اس حکومت ڈاکٹرز کے ہی نہیں بلکہ عوام کے علاج کروانے کے حقوق کو بھی غصب کر رہی ہے اور غریب عوام کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں اور شو بازیوں میں خرچ ہو رہا ہے۔ مالی سال 2012-13ء کے لئے پنجاب کا صحت کا بجٹ 16.5ارب روپے ہے جو پنجاب کے کل بجٹ کا 0.02فیصد ہے جبکہ اس بجٹ سے دوگنا شاہانِ وقت اپنی ’سیاسی بصیرت‘ کی نمائش کے لئے لاہور میں بنائی جانے والی صرف ایک سڑک کی تعمیر پر لگا چکے ہیں جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔اور اس بجٹ کو دیکھا جائے تو صحت کے شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں کے بعد ایک عام آدمی کے لئے ڈسپرین کی ایک گولی بھی نہیں دی جا سکتی۔ انہی وجوہات کی بنا پر روزانہ سینکڑوں بچے اپنی زندگیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ڈاکٹرز ہڑتال یا احتجاج پر جاتے ہیں تو انہیں قاتل کا لقب دے دیا جاتا ہے۔نوجوان ڈاکٹرز اس عزم کا اعادہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ ان کا حق مار کر حکمرانوں کو عیاشیوں کی اجازت نہیں دیں گے اور اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔