ینگ ڈاکٹروں کی گرفتاری اور ان پر بہیمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں: پی ٹی یو ڈی سی

’’قاتل وزیر اعلیٰ کوہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مریضوں کے قتل کی سر عام سزا دی جائے‘‘
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے مرکزی وائس چئیرمین کامریڈ چنگیز ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اتواریکم جولائی کی رات پنجاب پولیس کی جانب سے ڈاکٹروں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹر اپنے جائز مطالبات کے لیے ہڑتال پر تھے جبکہ پنجاب حکومت اپنی عیاشیوں کو کم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی پر قائم تھی۔پاکستان میں صحت اور علاج کے لیے بجٹ میں کم ترین رقم رکھی جاتی ہے اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ صحت مند آدمی بھی وہاں جا کر بیمار ہو جاتا ہے۔جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ سمیت تمام صوبائی وزرا اور بیوروکریٹ اپنا علاج بیرون ملک یا نجی ہسپتالوں سے کرواتے ہیں۔ اس عیاشی نما مہنگے ترین علاج کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔

کامریڈ چنگیز نے کہا کہ مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات دینے اور ڈاکٹروں کے مطالبات منظور کرنے کی بجائے لاہور میں سروسز ہسپتال میں ینگ ڈاکٹروں کے جنرل اجلاس پر رات گئے پولیس نے حملہ کر دیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جیلوں میں بند کر دیا۔اسی طرح کا حملہ دیگر ہسپتالوں اورپنجاب کے تمام شہروں میں کیا گیا۔اس حملے کے بعد بہت سے ینگ ڈاکٹر روپوش ہوگئے جس کے باعث ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور ان ڈور کا کام شدید متاثر ہوا جس کی تمام تر ذمہ داری شہباز شریف پر عائد ہوتی ہے۔اس دوران ایمرجنسی میں جتنے مریض جاں بحق ہوں گے ان کا ذمہ دار شہباز شریف ہو گا۔ نام نہاد آزاد عدلیہ تو کچھ نہیں کرے گی لیکن عوام قاتل وزیر اعلیٰ کو کیفر کردار تک ضرور پہنچائیں گے۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین مطالبہ کرتی ہے کہ تمام گرفتار ڈاکٹروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کا سروس اسٹرکچر کا مطالبہ فوری طور پر تسلیم کر کے پنجاب میں لاگو کیا جائے۔وزیر اعلیٰ، وزرااور تمام افسران کو سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروانے کا پابند کیا جائے۔پی ٹی یو ڈی سی دوسری مزدور یونینوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ بہتر علاج کی اس جدوجہد میں نوجوان ڈاکٹروں کا ساتھ دیں۔ اگر یہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو پی ٹی یو ڈی سی ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کو جاری رکھے گی۔ اس مقصد کے لیے یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مزدور یونینوں سے بھی یکجہتی کی اپیل کی جائے گی کہ وہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔