اسلام آباد: واپڈا کے محنت کشوں کا نجکاری کے خلاف احتجاج

| رپورٹ: PTUDC اسلام آباد |
18 فروری دن گیارہ بجے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے جلسہ عام کا آغاز ہوا جس میں پورے پاکستان سے واپڈا کے مزدورں نے ریلیوں کی شکل میں سرخ جھنڈوں اور نجکاری کے خلاف بینرز کے ساتھ شرکت کی۔ نجکاری کے خلاف ہونے والا واپڈا کا یہ سب سے بڑا احتجاج تھا، مزدورں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ جلسہ کے بعد آبپارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مزدوروں کے جوش و جذبہ اور نجکاری کے خلاف بھرپور مزاحمت کے باعث فیصلہ 3، 4 اور 5 مارچ کو پورے پاکستان میں تالا بند ہڑتال کی کال دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کے اگر واپڈا کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا توہڑتال کو نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ بجلی بھی مکمل بند کر دی جائے گی۔ مزدوروں نے مزید مطالبات کیے کہ

* تمام کمپنیوں کو تحلیل کر کے واپڈا کو ایک اکائی کے طور پر بحال کیا جائے۔
* پن بجلی کے علاوہ دیگر سستے طریقوں سے بھی ہنگامی بنیادوں پر بجلی پیدا کر کے شارٹ فال کو کم کیا جائے۔
* تمام مزدوروں کو جدید سیفٹی آلات فراہم کیے جائیں تاکہ قیمتی جانو ں کے زیاں کو روکا جائے۔
* تمام IPPs کو قومی تحویل میں لے کر بجلی کاکا روبار بند کیا جائے۔
جلسہ عام میں واپڈا کی مرکزی قیادت، خورشید خان (سیکرٹری جنرل)، عبدالطیف نظامانی (چیئرمین)، جاوید بلوچ، ملک فتح خان کے علاوہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے اور دیگر اداروں کی مزدور قیادت نے بھی شرکت کی۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) راولپنڈی اسلام آباد کے کارکنان نے پروگرام میں بھرپور مداخلت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے آئے ہو ئےPTUDC کے ساتھیوں نے بھی ٹولیو ں کی شکل میں مزدوروں کے سامنے نجکاری کی غلاظت اور سرمایہ دارانہ نظام کی پالیسیوں کو بے نقاب کیا۔ PTUDC نے 2000 لیف لٹ تقسیم کیا جس میں نجکاری کی مزدور کش پالیسی کو بے نقاب کیا گیا اور ٹھوس مطالبات پیش کیے گئے جسکو مزدوروں نے بہت پسند کیا۔
PTUDC کی طرف سے مختلف نوجوان مزدوروں سے انٹرویو بھی کیے گئے۔ اکثر مزدوروں کا کہنا تھا کے اگر واپڈا کو بچانا ہے تو ہمیں عملی اقدام کی طرف جانا ہو گا اور قیادت کو مزدوروں کو تھکانے کی بجائے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ کام چھوڑ ہڑتال اور بجلی بند کر کے ہی ہم حکومت وقت کو شکست دے سکتے ہیں۔ قیادت کی طرف سے انتظار کرو کی پالیسی کی وجہ سے نیچے مزدوروں میں اضطراب اور غصہ جنم لے رہا ہے۔ ہم واپڈا کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اگر واپڈا کی نجکاری ہو گئی تو پاکستان کا کوئی قومی ادارہ نہیں بچے گا۔ نواز حکومت مزدور دشمن حکومت ہے جو ہر دور میں مزدوروں پر جبر کرتی آئی ہے اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے واپڈا اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ مزدوروں نے کہا کہ ہم نجکاری کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ اب ہم عملی طور پر بجلی بند کر کہ حکمرانوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیں گے اور آج ہم فیصلہ کر کے گھروں کو جائیں گے۔
PTUDC واپڈا کے مزدوروں کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے۔ واپڈاکی وحدت کی بحالی، نجکاری کے خاتمے، IPPs کو قومی تحویل میں لینے اور مزدوروں کی تمام مراعات کے حصول کی اس لڑائی میں برابر کی شریک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کے اس نظام کے خاتمے کے بغیر کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اس نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک مزدور راج قائم کر کے ہی تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔