خانسپور میں دو روزہ مارکسی سکول کا انعقاد

| رپورٹ: وقاص ملک |

پروگریسویوتھ الائنس (PYA) کے زیراہتمام مورخہ 30 اور 31 مئی کودو روزہ مارکسی سکول کا انعقاد خانسپور میں کیا گیا۔ سکول میں شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں نے شرکت کی۔
pya marxist school in khanaspur pakistan (10)پہلے دن کے پہلے سیشن کا موضوع ’’بین الاقوامی تناظر‘‘ تھا جسے سدرہ ثنا نے چیئر کیا۔ وقاص ملک نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سرمایہ داری کے بنیادی محرکات اور تضادات کو بیان کیا۔ انہوں نے 2008ء کے مالیاتی بحران کی وجوہات اور مضمرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی طور پر زائد پیداوار کا بحران ہے جو اس نظام کی تاریخی متروکیت اور حدود کو ظاہر کرتا ہے، بحران کی قیمت پوری دنیا میں غریب عوام چکا رہے ہیں، ریاستیں دیوالیہ ہو رہی ہیں، یوروزون کے ٹوٹنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، یونان کا خلفشار بڑھ رہا ہے، ایک کے بعد دوسرے ملک میں دھماکہ خیز سیا سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی منڈی میں pya marxist school in khanaspur pakistan (7)سکڑاؤ نے چین اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ابھرنے سے پہلے ہی دھڑام کر دیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سرمایہ داری اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے انسانیت کو بربریت کی اندھیر نگری میں دھکیل رہی ہے۔ اس نظام کی بربادیوں کا حل عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد اور انقلابی پارٹی کی تعمیر سے ممکن ہے جو مارکسی نظریات سے لیس ہو کر شعوری بنیادوں پر اس نظام کو اکھاڑ پھینکے اور ایک سوشلسٹ سماج کی بنیاد رکھے۔ اویس قرنی، سندس نور، پرویز ملک، شفقت اور رضوان نے بحث کو مزید آگے بڑھایااور مختلف ممالک کی معاشی، سیاسی اور سماجی صورتحال پر بات رکھی۔ ظفر اللہ نے سوالات کی روشنی میں سیشن کا سَم اپ کیا۔
pya marxist school in khanaspur pakistan (11)کھانے کے وقفے کے بعد دوسرے سیشن کا آغاز کیا گیا جس کا موضوع ’فلسفے کی تاریخ‘ تھا۔ اس سیشن کو شفقت نے چیئر کیا اور احمر نے اپنی لیڈ آف میں انسانی سماج میں فلسفے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ارتقائی عوامل سے گزرتے ہوئے مادے نے زندگی کو جنم دیا۔ انسان کی شکل میں مادے سے شعور نے جنم لیا جس نے نسل انسان کو فطرت کی بے رہمی سے لڑنے کی صلاحیت عطا کی۔ انسان مختلف ادوار سے گزرکر جب ایک ایسے طبقاتی سماج میں داخل ہوا جہاں ایک حکمران اقلیت کو جسمانی محنت سے آزاد ہو کر سوچنے اور سمجھنے کے لیے وقت میسر تھا، تو فلسفے کا آغاز ہوا۔ انسان نے فطرت کے بارے غور کرنا شروع کیا اور اس کو سمجھنے کی کوشش میں فلسفے کو مزید ترقی ملی۔ آغاز سے ہی فلسفے میں مادیت پسندی اور خیال پرستی میں تقسیم pya marxist school in khanaspur pakistan (8)نظر آتی ہے۔ خیال پرست شعور کو مادے پر برتر سمجھتے ہیں جبکہ مادیت پسند شعور کو مادی حالات کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ احمر نے مختلف ادوار کے فلسفوں کو جدلیاتی بنیادوں پر وضاحت سے بیان کیا اورفیورباخ، کانٹ، ہیوم اور ہیگل کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ آخر میں مارکس کی جدلیاتی مادیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جدلیاتی مادیت کا فلسفہ ہی وہ طریقہ کار فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف فطرت کو سمجھا جا سکتا ہے بلکہ شعوری بنیادوں پر اسے مسخر بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیڈ آف کے بعد سوالات کی روشنی میں آصف رشید، ریحانہ اختر، شیری اور پرویز ملک نے بحث کو آگے بڑھایا اور فلسفے کی تاریخ اور اسکے ارتقائی عوامل کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کے بعد سیشن کا سم اپ کیا گیا۔
pya marxist school in khanaspur pakistan (4)اگلی صبح سکول کے تیسرے سیشن کا آغاز کیا گیا جس کا موضوعَ ’’اصلاح پسندی یا انقلاب‘‘ تھا۔ اس سیشن کوعالم یار نے چیئر کیا جبکہ ثاقب زین نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کا نتیجہ تھی جس نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور پیداواری قوتوں کو تباہ کیا۔ جنگ کی تباہی کے بعد تعمیر نو اور عالمی تجارت کے پھیلاؤ نے وہ مادی بنیادیں فراہم کی جس سے سرمایہ داری کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع ملا۔ اس وقت انقلابی تحریکوں اور سوویت یونین میں تیز ترقی کے پیش نظر مغربی سرمایہ دار عوام کو سہولیات اور مراعات دینے پر مجبور تھے۔ یورپ میں بالخصوص یہ بائیں بازو کی اصلاح پسندی کے عروج کا عہد تھا۔ اس وقت کے مادی حالات کی بدولت pya marxist school in khanaspur pakistan (9)سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کی گنجائش موجود تھی جس کی وجہ سے وہاں کے محنت کشوں کا معیارِزندگی بلند ہوا تھا۔ سویت یونین کے ٹوٹنے اور چین کی سرمایہ داری کی طرف واپسی سے سرمایہ داری کو زندہ رہنے کا ایک اور موقع میسر آیا اورمصنوعی طریقوں سے بحران کو ٹالا گیا۔ 2008ء کے بحران کے بعد سے وہ تمام حاصلات جو محنت کش طبقے نے ایک طویل جدوجہد کے ذریعے حاصل کی تھی چھینی جا رہی ہیں اورپوری دنیا میں عوام کا معیارزندگی گراوٹ کا شکار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب یہ نظام خود اپنے قوانین کے مطابق چلنے سے قاصر ہے، وہاں اصلاحات کی امید دیوانے کے خواب کے مترادف ہے۔ ثاقب زین نے ایلن ووڈز کی کتاب ’’اصلاح پسندی یا انقلاب‘‘ کی روشنی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ pya marxist school in khanaspur pakistan (14)موجودہ نظام اس وقت تک نسلِ انسان کوتباہ کرتا رہے گا جب تک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے پیداواری قوتوں کو نجی ملکیت کی جکڑ سے آزاد نہ کیا جائے۔ لیڈ آف کے بعد ظفر اللہ، اسامہ اور احمرنے موضوع پر اظہار خیال کیا جس کے بعد چنگیز ملک نے سیشن کا سَم اپ کیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد آخری سیشن میں انقلابی پارٹی کی تعمیر، تنظیم کی بڑھوتری اور کیڈر بلڈنگ کو زیر بحث لایا گیا۔ اس سیشن کو چنگیز ملک نے چیئر کیا اور تمام شرکا نے تنظیمی امور پر تجاویز پیش کیں اور انقلابی قوت کی تعمیر کو پوری جانفشانی سے جاری رکھنے کا عزم کیا۔ ظفر اللہ نے سکول کا مجموعی سَم اپ کرتے ہوئے اختتامی کلمات کہے جس کے بعد محنت کشوں کا عالمی ترانہ گا کر سکول کا اختتام کیا گیا۔