ترکی: انقلاب کی پہلی لہر

[تحریر: لال خان]
بّرِاعظم یورپ اور ایشیا کو ملانے والا ترکی کا شہر استنبول 2 جون کی صبح خاموش تھا۔ گزشتہ رات طوفانی واقعات سے بھرپور تھی۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت رات ہونے والے مظاہروں کا ملبہ اور بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ صاف کررہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ رات کا عوامی طوفان ٹل گیا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے خوفزدہ حکمران بھی سمجھنے لگے تھے کہ ان کا بھیانک سپنا ختم ہو رہا ہے۔ لیکن جوں جوں اتوار کا دن ڈھلنے لگااستنبول کے تکسیم اسکوائر پر مجمع بڑھنے لگا، شام تک لاکھوں مظاہرین ایک بار پھر اس اسلامی جمہوری حکومت (جسے وہ بد ترین آمریت گردانتے ہیں) کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کر رہے تھے۔ دو دن پہلے ترکی کی فضاؤں میں بلند ہونے والے انقلابی نعروں سے تکسیم اسکوائر ایک بار پھر گونج رہا تھا اور اس گونج سے حکمرانوں کے محلات کانپ رہے تھے۔ ہر طرف سرخ پرچم سربلند تھے۔ مظاہرین ’’حکومت مستعفی ہو جائے‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ایک نوجوان نے کہا ’’ہم آخر تک یہیں رہیں گے۔ ہم کہیں نہیں جارہے۔ حکومت کے گرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ ہم اس جابرانہ حکومت کے مسلسل دباؤ سے اکتا چکے ہیں۔‘‘

انتالیہ میں ہونے والا مظاہرہ

استنبول کی طرح انقرہ کے مرکزی چوراہے کیزیلے اسکوائر میں بھی اتوار کی دوپہر تک ہزاروں شہری جمع ہو چکے تھے جو انقلابی ترانے گا رہے تھے۔ جب غصے سے بپھرے ہوئے اس ہجوم نے وزیراعظم اردگان کے دفتر کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیلوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ استنبول اور انقرہ سمیت ترکی کے کئی دوسرے شہروں میں مظاحمتی مظاہرے تا وقت تحریر جاری ہیں جن میں شدت آتی جارہی ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اس عوامی تحریک کے جلد ٹھنڈے پڑنے کی امکانات کم ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں اور محنت کشوں کی نڈر شرکت اور ریاست کا وحشیانہ جبر ترک معاشرے میں شدید تناؤ اور بحران کی نمائندگی کرتا ہے۔ تا وقت تحریر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دو افراد جاں بحق جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ 900 سے زیادہ افرادہ کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ ترکی کے وزیرِ داخلہ معمر گلر کے مطابق 48 شہروں میں 90 مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے یورپ جان ڈلھوسن کے مطابق ’’ریاست کی جانب سے مکمل طور پر پر امن شہریوں پر بہیمانہ تشدد حقیقی طور پر انتہائی شرمناک ہے۔ ‘‘ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کو پولیس کی گاڑی کے نیچے کچلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ریاستی تشدد کے ایسے درجنوں مناظر گردش کر رہے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹرز طبقاتی یکجہتی کا مظاہرے کرتے ہوئے ل تمام روز سڑکوں پر احتجاج میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کرتے رہے۔ وزیر اعظم طیب اردگان نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے ’’انتہا پسندی‘‘ سے کام لیا اور ہم سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔ لیکن اردگان نے غیزی پارک میں تعمیرات کا کام جاری رکھنے کا اندیہ بھی دیا جس سے پتا چلتا ہے ترک حکومت کس حد تک جابر اور ہڈدھرم ہے۔

پولیس کے بد ترین تشدد کے بعد مظاہرین کا خون پھیلا ہوا ہے

استنبول میں 27 مئی کو تکسیم چوک کے قریب واقع غیزی پارک کو ختم کرنے کے منصوبے کے خلاف شہریوں نے پر امن دھرنا دیا۔ شہر کے مرکزی کمرشل علاقے میں بچ جانے والا یہ واحد سرسبز پارک ہے اور منصوبے کے مطابق اس کے 600 درخت کاٹ کر سلطنت عثمانیہ کی فوجی بیرکوں کی طرز تعمیر پر شاپنگ سنٹر میں تعمیر کرنا تھا۔ یعنی سلطنت عثمانیہ کا جاہ و جلال جوتیوں اور کپڑوں کی فروخت میں استعمال کیا جانا تھا۔ سرمایہ داری واقعی ہر چیز کو بازار میں بکنے والی جنس بنا دیتی ہے۔ تاریخی مکامات اور تفریحی پارکوں کو منہدم کر کے پلازے بنانے کی پالیسی کے خلاف ترک عوام میں پہلے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ 27 مئی کو دھرنا دینے والے پر امن شہریوں پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ ٹویٹر پر چلنے والا ایک پیغام صورتحال کی بہترین عکاسی کرتا ہے: ’’وہ جمہوریت کس کام کی ہے جو ایک تفریخی پارک کو تباہی سے نہ بچا سکے؟‘‘ اس سے پیشتر ترک پارلیمنٹ، جس میں اسلامی جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (AKP) کی اکثریت ہے، شراب کی خریداری پر پابندیوں کا متنازعہ بل منظورکر چکی تھی۔ اس کے علاوہ مردوخواتین کی قربت اور سر عام بوس و کنار پر پابندی کے حکم کی وجہ سے بھی نوجوانوں میں حکومت کے خلاف غصہ پنپ رہا تھا جو شہریوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی بڑھانے پر تلی ہوئی تھی۔ ان پابندیوں کے خلاف ایک مظاہرے میں سو سے زائد جوڑوں نے سر عام بوس و کنار کر کے احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ لیکن یہ تمام تر مسائل اور حکومتی اقدامات اس عوامی بغاوت کی بنیادی وجہ نہیں ہیں بلکہ ان واقعات نے محض عمل انگیز کا کردار ادا کیا ہے۔ پچھلے لمبے عرصے سے جاری موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور معاشی و سماجی حملوں سے ترک عوام تنگ آچکے ہیں۔ سطح کے نیچے پکنے والے لاوے کو آخر ایک روز پھٹنا ہی تھا۔

پاکستان میں جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتیں ترکی میں AKP پارٹی کی حکومت کو مثال کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اس کو ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ کا ایک نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ نواز لیگ کے بھی اس حکومت سے گہرے مراسم ہیں۔ لاہور کی میٹرو بس سروس اور دوسرے کئی منصوبوں میں بھی ترک کمپنیوں نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ حقیقت یہ ہے نواز لیگ اور جماعت اسلامی کی طرح AKP بھی دائیں بازو کی کٹر سرمایہ دارانہ پارٹی ہے جس نے اپنے دور حکومت میں IMF کی سامراجی اور عوام دشمن پالیسیاں جاری رکھی ہیں۔ عالمی معیشت پر تھوڑی سی نظر رکھنے والا شخص بخوبی جانتا ہے طیب اردگان سے بہتر IMFکا مطیع شائد ہی کوئی حکمران ہو۔ اپنے دور حکومت کے دوران طیب اردگان نے IMFکے ساتھ مختلف نوعیت کے 19معاہدے کئے۔ 1985ء سے 2003ء تک ترکی میں مجموعی طور پر 8.4 ارب ڈالرکی نجکاری کی گئی، جبکہ اردگان حکومت میں 2004ء سے 2012ء تک 36.4 ارب ڈالر کی نجکاری کی گئی۔ 2013ء میں یہ حکومت (بشرطیکہ قائم رہے) 20 ارب ڈالر کی نجکاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی ملکیت میں موجود چار بڑے اور معاشی طور پرکلیدی اداروں کی نجکاری کے لئے پر تولے جارہے ہیں جن میں ریاستی آئل اینڈ گیس کمپنی، محکمہ ڈاک، زراعت سے وابستہ حکومتی ادارہ، چائے کی پتی بنانے والی ملک کی سب سے بڑی کمپنی شامل ہیں۔ یکم جون کو تکسیم اسکوائر پر موجود احتجاج میں شریک ایک شہری نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’یہ حکومت معاشی ترقی کا چرچا کرتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے یہ ترقی جعلی ہے اور ملکی ادارے بیچ بیچ کر حاصل کی گئی ہے، نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب بیچنے کو کچھ نہیں بچا۔ ‘‘ ترکی کی شرح نمو اس وقت 3فیصد ہے اور یورپ میں سرمایہ داری کے بحران سے ترک معیشت کو بھی دھچکا لگا ہے۔ طیب اردگان 2002ء سے وزیراعظم چلا آرہا ہے اور اب 2014ء میں صدر بننے کی منصوبہ بندی کررہا ہے لیکن ایک طرف مذہبی قدامت پرستی اور دوسری طرف سماجی و معاشی گھٹن کی وجہ اسکی حکومت کے خلاف عوام کی نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ معاشی پالیسیوں سے ہٹ کر بھی طیب اردگان کی حکومت نے امریکی سامراج کی اطاعت گزاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ عراق پر امریکی جارحیت کے معاملے میں ترک حکومت کے شرمناک کردار سے سب واقف ہیں۔ حالیہ عرصے میں شام میں جاری امریکی اور سعودی دخل اندازی میں بھی ترکی نے بھرپور تعاون کیا ہے اور شامی عوام کو زبح کرنے والے مذہبی جنونیوں کو ہر طرح کی امداد فراہم کی ہے۔ طیب اردگان اسرائیلی ریاست سے مزید دوستی بڑھانے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اردگان حکومت کے سفارتی تعلقات پر جماعتِ اسلامی اور دوسری مذہبی پارٹیوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
حالیہ تحریک اردگان حکومت سے نفرت اور بیزاری کا اظہار ہے جس میں بائیں بازو کے چھوٹے گروپ اور سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ کیمونسٹ پارٹی آف ترکی (TKP) کے جھنڈے ہر احتجاج میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں تاہم فی الحال یہ تحریک کسی قسم کی اجتماعی قیادت سے محروم ہے جس کے باعث اس کے بکھرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اس تحریک کو ترکی میں انقلابی سفر کے پہلے قدموں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد ترکی کے محنت کش اور نوجوان اپنا مقدر بدلنے کے لئے تاریخ کے میدان میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے جبر کے تمام بندھنوں کو توڑتے ہوئے ریاست اور نظام کو للکارا ہے۔ ترکی میں مزدور تحریک اور بائیں بازو کی شاندار روایات موجود ہیں۔ ترک سماج ایک بار پھر کروٹ لے رہا ہے۔ انقرہ سے لے کر واشنگٹن تک حکمرانوں کے ایوان لرز رہے ہیں!