فورٹ منرو: موسمِ گرما 2018ء کے تین روزہ نیشنل مارکسی سکول کا انعقاد

رپورٹ: طیب رفیق/رحیم بخش | تصاویر: پرویز/ستار

مورخہ 31 اگست اور یکم و 2 ستمبر 2018ء کو انقلابی طلبہ محاذ (RSF) کے زیر اہتمام موسمِ گرما کے نیشنل مارکسی سکول کا انعقاد فورٹ منرو (ڈیرہ غازیخان) کے پرفضا مقام پر کیا گیا۔ الیکشن اور بعد ازاں عید کی وجہ سے سکول اپنے معمول کے دنوں سے کچھ ہفتے تاخیر سے منعقد کیا گیا۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے 30 اگست کی شام تک انقلابی نوجوانوں کے قافلے مقررہ مقام پر پہنچ چکے تھے ۔ سکول میں کراچی سے کشمیر تک 25 خواتین سمیت 173 نوجوانوں نے شرکت کی۔ سکول مجموعی طور پر پانچ سیشنز پر مشتمل تھا۔
31 اگست کی صبح 9:30 بجے سکول کا آغاز انقلابی ترانوں اور نظموں سے ہوا۔ پہلے سیشن کو چیئر کامریڈ لتا نے کیا۔میزبان ریجن سے کامریڈ رؤف لُنڈ نے تمام شرکا کو خوش آمدید کہا جس کے بعد ’عالمی و ملکی تناظر‘ پر بحث کا آغاز ہوا۔ لیڈ آف میں کامریڈ شہریار ذوق نے عالمی سرمایہ داری کے بحران کے نتیجے میں پوری دنیا میں ہونے والی معاشی گراوٹ اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی اور سیاسی بحرانات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے زیر اثر امریکہ کی جانب سے چین، یورپ اور دیگر ممالک کے خلاف تجارتی جنگ کے اعلان پر روشنی ڈالی ۔ ڈالر کی قدر میں اضا فے اور ترکی، بھارت، پاکستان اور دیگر پسماندہ یا ترقی پذیر معیشتوں کی کرنسیوں کی گراوٹ کی وجوہات اور مضمرات بیان کئے۔ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح اس حکومت کے پاس عوام پر بدترین معاشی حملے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے جن کا آغاز انہوں نے اپنے ہنی مون پیریڈ میں ہی کر دیا ہے۔ بحران زدہ معیشت کے بڑھتے ہوئے خساروں کے پیش نظر بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے جس وسیع نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کا آغاز آتے ہی کر دیا ہے اس سے محنت کشوں اور عوام میں غم و غصے کی نئی لہرپیدا ہو گی جو بڑی تحریکوں کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے آنے والے دنوں میں درمیانے طبقات میں پیدا ہونے والی مایوسی کے ممکنہ مضمرات بھی بیان کئے اور واضح کیا نوجوانوں اور محنت کشوں کے پاس نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہی بچتا ہے جس کے لئے انقلابی قیادت کی تیاری آج کا سب سے اہم اور بنیادی فریضہ ہے۔ لیڈ آف کے بعد شرکا نے تحریری شکل میں بہت سے سوالات پوچھے جس کے بعد ملتان سے ذیشان، راولپنڈی سے عمار، سکھر سے سعید خاصخیلی، کوئٹہ سے شکیلہ، مظفرآباد سے راشد شیخ، لاہور سے عمران کامیانہ، کراچی سے پال جان اور کوئٹہ سے رازِق نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکی و بین الاقوامی تناظر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آخر میں سوالات کی روشنی میں اویس قرنی نے سیشن کو سم اپ کیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد دوسرے سیشن کا آغاز دوپہر دو بجے ہوا جس کو چیئر کامریڈ عرفان نے کیا۔ اس سیشن کا موضوع ’سوشلزم کیا ہے؟‘ تھا جس میں اسی عنوان سے شائع ہونے والے طبقاتی جدوجہد پبلی کیشنز کے کتابچے کے پس منظر میں بحث ہوئی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کامریڈ خکولا باچانے سوشلزم پر اُٹھنے والے عمومی سوالات کے تناظر میں تاریخ میں نظر آنے والے طبقاتی نظاموں، ذرائع پیداوار کے ارتقا، سرمایہ داری کے بعد سوشلزم کی ناگزیریت، انسانی فطرت، بین الاقوامیت، قومی سوال اور انقلاب کی حرکیات جیسے نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس کے بعد بالترتیب حیدرآباد سے لاجونتی، کشمیر سے بشریٰ، لاہور سے اویس قرنی، کراچی سے حاتم، حیدرآباد سے لتا اور کپل، فیصل آباد سے عمر رشید، ملتان سے سچل، ڈیرہ غازیخان سے الطاف اور امریکہ سے عبدالرازق نے سوشلزم کے سیاسی، ریاستی، معاشی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔ سوالات کی روشنی میں اِس سیشن کا سم اپ عمران کامیانہ نے کیا۔

یکم ستمبر کو سکول کے دوسرے دن کے پہلے اور مجموعی طور پر تیسرے سیشن کا آغاز صبح 10 بجے ہوئے۔ اس سیشن کا موضوع ’1968-69ء کا انقلاب‘ تھا جسے چیئر ذیشان شہزاد نے کیا۔ کامریڈ ماجد نے نے اپنی لیڈ آف کا آغاز 1960ء کی دہائی کے اواخر میں دنیا بھر میں اٹھنے والی انقلابی تحریکوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کیا ۔ جس کے بعد انہوں نے ان حالات و واقعات کو واضح کیا جنہوں نے پاکستان میں 1968ء میں ایک ملک گیر انقلابی تحریک کو مہمیز دی۔ ان 139 دنوں کی عوامی بغاوت کے دوران ہونے والی وسیع ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا حال بیان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں محنت کشوں اور نوجوانوں کی اس انقلابی تحریک جیسی کوئی مثال نہیں ملتی جب یہاں کے مظلوم و محکوم طبقات نے سامراجی و مقامی حکمرانوں کے ایوانوں کو لرزا کے رکھ دیا تھا اور ملکیت کے بنیادی رشتوں کو چیلنج کر دیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ابھار، انقلاب کے محور کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت اور ایک انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی میں انقلاب کی ناگزیر زوال پذیری پر بھی بات رکھی۔ لیڈ آف کے بعد کشمیر سے التمش تصدق، کوئٹہ سے سرتاج، راولپنڈی سے آصف رشید، دادو سے سجاد جمالی، لاہور سے اویس قرنی اور ڈیر غازیخان سے رؤف لُنڈ نے 1968ء کے انقلاب کے پس منظر، حرکیات، واقعات اور مضمرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سوالات کی روشنی میں عمر رشید نے سیشن کی تمام بحث کو سمیٹا۔

کھانے کے وقفے کے بعد دوسرے دن کے دوسرے جبکہ مجموعی طور پر چوتھے سیشن کا آغاز ہوا جس کا موضوع ’ماحولیاتی تباہی اور سوشلسٹ متبادل‘ تھا۔ اس سیشن کو چیئر کامریڈ بشریٰ نے کیا جبکہ کامریڈ حسیب نے اپنی لیڈ آف میں سرمایہ داری کے تحت صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانی سرگرمیوں کے ماحول پر اثرات اور ان کے پھر انسان اور تمام جانداروں کے لئے مضمرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سرمایہ داری جو ماحولیاتی تباہی پھیلا رہی ہے اس سے خطرہ سیارے کو نہیں بلکہ سیارے پر موجود زندگی کو ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ وقت کے ساتھ سنجیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح فاسل فیول کے بے دریغ استعمال سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے جس سے گلیشئر پگھل رہے ہیں، ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور نتیجتاً نہ صرف بے شمار انواع معدوم ہو رہی ہیں بلکہ انسانوں میں ذہنی و جسمانی بیماریاں اور اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع دستیاب ہونے کے باوجود آلودگی پھیلانے والے فرسودہ ذرائع استعمال کئے جا رہے ہیں جن کی بنیادی وجہ منافعوں اور نجی ملکیت پر مبنی منڈی کی معیشت کا یہ نظام ہے۔ اس سیشن میں حیدرآباد سے منیش اور کپل، دادو سے رمیز، پختونخواہ سے لوانگین، ڈیرہ غازیخان سے مقدس، کوئٹہ سے نادر اور فیصل آباد سے ثقلین شاہ اور احمد مفاذ نے ہر طرح کی ماحولیاتی آلودگی کی وجوہات، اثرات اور سوشلزم کے تحت ماحولیاتی تباہی سے بچاؤ کے اقدامات پر بات رکھی۔ احمد عمار نے سوالات کی روشنی میں سیشن کا سم اپ کرتے ہوئے واضح کیا کہ منڈی کی معیشت کے تحت ماحولیاتی بربادی کے مسئلے کا کوئی دوررس حل موجود نہیں ہے اور ماحولیات کے ایشو کو انقلابی سوشلزم کے ساتھ جوڑے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

دوسرے دن کے اختتام پر خواتین میں انقلابی کام کے حوالے سے خصوصی کمیشن منعقد کیا گیا جس میں ملک بھر سے کامریڈ شریک ہوئے۔ رات کو ایک محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سکول کے شرکا ملک کے مختلف خطوں کی علاقائی موسیقی اور شاعری سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ بالخصوص کوئٹہ سے آنے والے ساتھیوں نے رُباب بجا کر خوب داد وصول کی۔

2 ستمبر کی صبح 10 بجے مجموعی طور پر سکول کے پانچویں اور آخری سیشن کا آغاز ہوا جسے چیئر کامریڈ سجاد جمالی نے کیا۔ کامریڈ سیفی نے اس سیشن میں پاکستان میں طلبہ تحریک کی تاریخ، موجودہ کیفیت، ماضی قریب میں اٹھنے والی تحریکوں اور انقلابی طلبہ محاذ (RSF) کے کام مجوزہ طریقہ کار، لائحہ عمل اور اہمیت پر بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے عہد میں فیسوں میں اضافے، طلبہ یونین پر پابندی، تعلیم کی نجکاری اور بیروزگاری جیسے گھمبیر مسائل کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر جدوجہد کے لئے طلبہ کو منظم اور متحرک کرنا اور انہیں ایک انقلابی قوت کا سرگرم حصہ بنانا انقلابیوں کا اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں کام کے حوالے سے ثقافتی سرگرمیوں اور کھیلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ لیڈ آف کے بعد تمام ریجنز کی طرف سے کام کی رپورٹس پیش کی گئیں اور آنے والے دنوں کے لئے اہداف مقرر کیے گئے جن میں آر ایس ایف کے کنونشن اور دوسری سرگرمیاں شامل تھیں۔کامریڈ لاجونتی نے گزشتہ شام ہونے والے خواتین کمیشن کی رپورٹ رکھی جس میں خواتین میں کام کو منظم کرنے کے حوالے سے ٹھوس اہداف لیے گئے اور آئندہ کام کی پیش بندی کی گئی تھی۔ اس کے بعد کامریڈ رؤف لُنڈ نے سکول کی فنانس رپورٹ پیش کی جس کے مطابق مالی حوالے سے بھی سکول کامیاب رہا۔ آصف رشید، راشد شیخ، ندیم پاشا، عمران کامیانہ نے نوجوانوں میں انقلابی کام کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں اور ملکی و عالمی سطح پر انقلابی پارٹی کی اہمیت واضح کی۔اویس قرنی نے اختتامی کلمات ادا کیے اور سکول کا باقاعدہ اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا جس کے بعد شرکا نے فلک شگاف انقلانی نعرے بلند کیے۔

نہ صرف مقداری بلکہ معیاری حوالے سے بھی یہ سکول بے مثال تھا جس میں شریک انقلابی نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ نظریاتی بحثوں، انقلابی ترانوں، شاعری، موسیقی اور تفریح سے بھرپور تین دنوں نے اس بحران زدہ سماج کے گھٹن زدہ ماحول سے نکل کر آنے والے نوجوانوں میں انقلابی جدوجہد کے عزم و حوصلے کی نئی روح پھونک دی جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملک بھر میں دیکھے جا سکیں گے۔