| تحریر: آدم پال |
11 ستمبر بلدیہ ٹاؤن کراچی کی گارمنٹس فیکٹری میں 300 سے زائد محنت کشوں کی ہلاکت کا دن ہے اور آج ان محنت کشوں کی تیسری برسی ہے۔ اس ہولناک سانحے اور پھر گزشتہ ہفتے 5 ستمبر کو گکھڑ میں بدر 313 فیکٹری میں ہونے والے سانحہ پر میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی ان کے عوام دشمن کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس ہولناک سانحے میں اب تک 12 مزدور جل کر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ ابھی تک بہت سے مزدور تشویش ناک حالت میں میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق یہ ہلاکتیں ایک بوسیدہ بوائلر کے پھٹنے کے باعث ہوئیں جس کے متعلق مزدور ایک لمبے عرصے سے مالکان سے شکایت کر رہے تھے کہ اسے تبدیل کروا دیا جائے۔ دھماکے سے بوسیدہ عمارت کی چھت بھی گر گئی جس کے باعث بہت سے مزدور ملبے کے نیچے آ کر ہلاک ہو گئے۔ فیکٹری میں انتہائی خطرناک تیزاب استعمال ہور رہے تھے جبکہ مزدوروں کی سیفٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ فائر برگیڈ نے جب آگ بجھانے کے لئے پانی پھینکا تو تیزاب اور دوسرے کیمیکل بھڑک اٹھے اور آگ بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔

یہ واقعہ اس بد نصیب ملک میں کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ محنت کشوں کی فیکٹریوں میں ہلاکت ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ تین سال قبل جب بلدیہ ٹاؤن کراچی کی گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی اس وقت بھی مالکان نے آگ لگنے کے بعد مزدوروں کو بچانے کی بجائے تیار مال کو سمیٹنے کی کوشش کی اور مزدوروں کے ہال کے باہر تالے لگوا دیے۔ کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں لگی تھیں جس کے باعث وہ کمرہ مزدوروں کی قبر بن گیا۔ بہت سے مزدوروں کی نعشیں کھڑکیوں کے قریب سے ملی تھیں جو کسی طرح باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تین سال گزرنے کے باوجود آج تک کسی بھی شخص کو ذمہ دار قرار دے کر سزا نہیں دی جا سکی۔ اسی طرح گزشتہ تین سالوں میں بہت سی فیکٹریوں میں بوائلر پھٹنے، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات کے باعث بہت سے مزدور ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے صرف چند واقعات کی رپورٹنگ ہو پاتی ہے جبکہ اکثر واقعات کو مالکان سے پیسے لے کر دبا دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال گوجرانوالہ میں ہی کوکاکولا جیسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک مزدور کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا جو انتظامیہ کی مجرمانہ نا اہلی کا ثبوت ہے۔ لیکن بکاؤ میڈیا میں اس کی خبر تک نہیں آنے دی گئی اور نہ ہی ایسے واقعات سے تدارک کا کوئی لائحہ عمل اپنایا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں سرمایہ داروں اور حکومت کا مزدوروں کی جانب کیا رویہ ہے۔ حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے لیے مزدور خام مال سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے جن کا مقصد ان سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منافعوں میں مسلسل اضافہ کرتے رہنا ہے۔ حکمرانوں کی بے حسی کی حالت یہ ہے کہ کسی واقعہ پر پورے تھانے کو معطل کردینے کا ناٹک کرنے والے حکمرانوں نے گکھڑ سانحے کے بعد لیبر ڈیپارٹمنٹ کے نائب قاصد کو بھی معطل نہیں کیا۔ ان سے توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔ موجودہ حکمرانوں پر خود محنت کشوں پر مظالم کے کئی الزامات ہیں۔ ایک الزام کے مطابق تو انہوں نے ایک مزدور راہنما کو لوہا پگھلانے والی بھٹی میں پھینک کر قتل کر دیا تھا۔ جب ایسے فرعون نما افراد ملک کے حکمران بن جائیں تو محنت کشوں کے قتل کو روکنا ممکن نہیں۔ اسی طرح ان کو قتل کرنے والے مجرموں کو پناہ بھی اسی قانون اور عدالتوں کے تحت دی جاتی ہے جو دولت والوں کی لونڈی ہیں۔
گکھڑسانحہ جس فیکٹری میں پیش آیا وہاں لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی جس پر لیبر ڈیپارٹمنٹ اور سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ سمیت پنجاب حکومت مجرمانہ غفلت کی بنا پر قصور وار ہے اور ان کے خلاف بھی مقدمہ دائر ہونا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے آٹھ گھنٹے کام کے دن کی کم ازکم تنخواہ تیرہ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ اس فیکٹری میں بارہ گھنٹے کام کے دن کی تنخواہ آٹھ ہزار روپے دی جارہی تھی۔ کسی بھی قسم کا اوور ٹائم نہیں دیا جا رہا تھا جبکہ کوئی سیفٹی بھی موجود نہیں تھی۔ انتہائی خطرناک تیزاب اور کیمیکل کو مزدور ننگے ہاتھوں سے استعمال کر رہے تھے۔ ملک کی بیشتر فیکٹریوں کی طرح یہاں بھی مزدوروں کو یونین کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ ان تمام لیبر قوانین کو نظر انداز کرنے کے لیے لیبر انسپکٹر سمیت دیگر اہلکار اپنی ’فیس باقاعدگی سے وصول کرتے رہتے ہیں۔ اس مجرمانہ کوتاہی پر پنجاب حکومت کی خاموشی ان کی مجرموں کی پشت پناہی کا ثبوت دیتی ہے۔ اسی طرح مزدوروں کے پاس سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ کارڈ موجود نہیں تھے جس کے سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے افسران بالا ذمہ دار ہیں اور انہیں سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اس سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کشوں کے حقوق غصب کرنے کے لیے ہی ریاست بنائی جاتی ہے اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ ہی حکمرانوں کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ جو نام نہاد قوانین موجود ہیں وہی ان حکمرانوں کے عزائم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ 13 ہزار روپے کم ازکم اجرت مقرر کرنے کا مطلب ہے کہ ایک مزدور ان پیسوں میں گھر کا کرایہ اور خاندان کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ علاج اور دیگر ضروریات بھی پوری کرے۔ جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس میں مزدوروں کی حقیقی اجرت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اگر آج سے پانچ سال پہلے کوئی محنت کش اگر دس ہزار روپے اجرت لیتا تھا اور آج تیرہ ہزار بھی لیتا ہے تو درحقیقت اس کی اجرت میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے۔ اگر اس اجرت کا موازنہ سونے کی قیمت سے کیا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے مزدور تنظیموں کا مطالبہ جائز ہے کہ کم ازکم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کی جائے۔ اس طرح یہ اجرت افراط زر کے ساتھ منسلک ہو سکے گی۔
اسی طرح مزدورو کی جڑت اور یونین کے خلاف بھی انتہائی ظالمانہ قوانین موجود ہیں اور اگر کسی صنعتی ادارے میں مزدور یونین بنوانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ اگر کسی فیکٹری میں اگر مزدوروں کی حقیقی نمائندہ یونین موجود ہو تو محنت کش اپنے بہت سے مطالبات آسانی سے منوا سکتے ہیں جس میں سیفٹی جیسا بنیادی مطالبہ بھی شامل ہے۔ اگر گکھڑ کی اس فیکٹری میں مزدوروں کی نمائندہ یونین موجود ہوتی تو وہ اس بوسیدہ بوائلر اور عمارت میں کام کرنے کے خلاف احتجاج کر سکتے تھے اور ظالم مالکان کو مجبور کر سکتے تھے کہ وہ انہیں کام کے بہتر حالات مہیا کریں۔ لیکن مزدوروں کی نمائندہ یونین بنانا اس ملک میں پل صراط عبور کرنے سے زیادہ مشکل بن چکا ہے۔ جیسے ہی سرمایہ داروں کو خبر ملتی ہے کہ مزدور یونین بنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو فوراً مزدوروں کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ یا پھر ان پر پولیس کی ملی بھگت سے چوری کے جھوٹے مقدمے بنوا کر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لیبر ڈیپارٹمنٹ بھی سرمایہ داروں سے رشوت وصول کر کے مزدوروں کی یونین میں مشکلات کھڑی کرتا ہے۔ گزشتہ سال گوجرانوالہ کی ایک بڑی فیکٹری ماسٹر ٹائل مزدور کسی طرح جب یونین بنانے میں کامیاب ہو گئے تو مالک نے چار سوسے زائد مزدوروں کو بغیر کسی شو کاز نوٹس کے فیکٹری سے نکال دیا۔ اس پر جب فیکٹری کے مزدوروں نے ہڑتال کی تو مالک نے روتے ہوئے درخواست کی کہ میں تمام مطالبات ماننے کو تیار ہوں لیکن یونین کا مطالبہ نہیں مانوں گا، لیکن ساتھ ہی اپنے ذاتی اثر و رسوخ اور دولت کی بنیاد پر مزدوروں پر چوری کے جھوٹے مقدمے بھی بنوا دیے۔ دوسری جانب سرمایہ دار وں نے چیمبر آف کامرس جیسی تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن میں اپنے طبقاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں جبکہ وہی حق جب مزدور مانگتے ہیں تو ان کیخلاف ظالمانہ کاروائیاں کی جاتی ہیں۔ انہی مظالم میں سے ایک کام کے بد ترین حالات ہیں جن میں گوجرانوالہ سمیت اس ملک کے محنت کشوں کی اکثریت کام کرنے پر مجبور ہے۔ حکمرانوں کی سرمایہ دار نواز اور سامراجی پالیسیوں کے باعث مزدوروں کے لیے کام کے حالات مسلسل مشکل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اس نظام میں امید کی کوئی کرن موجود نہیں۔ موجودہ سانحے کے مجرم مالکان بھی کھوکھلے عدالتی نظام سے دولت کی طاقت کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ مزدور، جن کے پاس عدالت تک پہنچنے کا کرایہ بھی نہیں ظلم کی چکی میں پستے چلے جائیں گے۔ اس صورتحال میں محنت کشوں کے پاس صرف واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب کا بچتا ہے۔ ایک ایسا انقلاب جس میں تمام محنت کش اکٹھے ہو کر سرمایہ داروں کے مظالم کے خلاف باہر نکل آئیں۔ ایک انقلابی پارٹی کی قیادت میں ان کی دولت اور جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہوئے پیداوار کے تمام ذرائع اپنے جمہوری کنٹرول میں لے لیں۔ اس ظالمانہ سرمایہ دارانہ ریاست کا خاتمہ کرتے ہوئے یہاں مزدور ریاست اور مزدوروں کی حکمرانی قائم کریں اور اپنے محنت کش ساتھیوں کے قتل کا انتقام لیں!موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ وقت اب زیادہ دور نہیں!
متعلقہ:
سانحہ بلدیہ ٹاؤن: لہو سستا ہے مزدور کا!