دہشت گردی، بوسیدہ سرمایہ داری کا نچڑا ہوا عرق

| تحریر: لال خان |

پاکستان میں نریندرا مودی کے ’سرپرائز وزٹ‘ کے کچھ ہی دن بعد دہشت گردی کے دو بڑے حملے ہندوستانی پنجاب میں پٹھان کوٹ ایئر بیس اور مزار شریف (افغانستان) میں قائم بھارتی قونصلیٹ پر ہوئے ہیں۔ شدت پسندی نے پھر سے وار کیا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی ملوث تنظیموں اور افراد کے متعلق قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے اِس پار سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کاروائیاں کرنے والے مسلح تنظیموں کے اتحاد ’’یونائیٹڈ جہاد کونسل‘‘ (UJC) نے پٹھان کوٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔لیکن بھارتی میڈیا کا اصرار ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم جیشِ محمد سے تھا۔
pakistan india peace talks terrorism cartoon (2) 6 جنوری بروز منگل نواز شریف نے مودی کو فون کیا اور وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق ’’پٹھان کوٹ حملے میں جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔‘‘میاں صاحب کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گرد ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ بھارتی حکومت کے مطابق مودی نے ’’پاکستان پر پٹھان کوٹ حملے میں ملوث تنظیموں اور افراد کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لینے پر زور دیا۔‘‘لیکن اہم خبر بدھ کے روز سامنے آئے جس کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم نواز شریف نے وزیر اعظم مودی کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے گی‘‘، مزید یہ کہ نواز شریف نے ہندوستان کی طرف سے فراہم کی گئی خفیہ اطلاعات کے مطابق پٹھان کوٹ حملے میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کا وعدہ کیا۔ تاہم پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے دفتر کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں ایسے کسی ’وعدے‘ کا ذکر نہیں تھا اوراتنا ہی کہا گیا کہ ’’ہماری حکومت بھارت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر غور کر رہی ہے اور اس معاملے کی تفتیش کی جائے گی۔‘‘
اس حملے سے ہندوستان میں موجود مذہبی شدت پسندی میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ BJP کے ساتھ ’مضطرب اتحاد‘ میں بندھی شیو سینا نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نواز شریف کے ساتھ چائے کے ایک کپ کے چکر میں ہمارے سات سپاہی مروا لئے گئے …ان اموات پر (مودی حکومت کی طرف سے ) بس ٹوئٹر پر اظہار افسوس ہی کیا جارہا ہے۔‘‘شیو سینا کے نمائندہ جریدے ’سامنا‘ کے ادارئیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’کانگریس حکومت ہوتی تو پاکستان پر حملے اور انتقام کی باتیں ہو رہی ہوتیں، لیکن آج کچھ بھی نہیں کیا جارہا…وزیر اعظم (مودی) جب نواز شریف کے مہمان بنے تھے تو ہم نے تبھی کہا تھا کہ پاکستان پر اعتماد نہ کرو…پٹھان کوٹ حملے کا انتقام نہیں لیا جاتا تو پھر یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں اسلحہ دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
ریڈ کلف لائن کے دونوں اطراف کا میڈیا زہر اگل رہا ہے۔ ہندو اور مسلمان بنیاد پرستوں کے ساتھ ’’سیکولر‘‘ قومی شاؤنزم کو بھی ابھارا جا رہا ہے۔ تاہم حکمران طبقات کے سنجیدہ نمائندگان ’احتیاط‘ اور تحمل کی بات کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد چاہتے یہی ہیں کہ امن عمل متاثر ہو۔ پاکستانی حکمران طبقے کا سنجیدہ جریدہ ’ڈان‘ اپنے 6 جنوری کے ادارئیے میں لکھتا ہے: ’’UJC کی قیادت نے کسی نہ کسی طرح مختلف مسلح گروہوں کو پچھلی دو دہائیوں سے یکجا رکھا ہوا ہے اور پاکستانی ریاست کے قریب سمجھی جاتی ہے لیکن مسلح کاروائیوں میں اس کا کردار گزشتہ کچھ سالوں سے واضح نہیں ہے، خاص طور پر مشرف دور میں لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا سلسلہ منجمند ہونے کے بعد۔ اب کیا (اس پالیسی میں) تبدیلی آگئی ہے؟ یا پھر UJC کے اندر کچھ عناصر سرکش ہوگئے ہیں؟ اگر ریاست یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کا موقف یکجا ہے اور ہندوستان سے مذاکرات کے معاملے پر داخلی اتفاق موجود ہے تو پھر UJC کے دعوے کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسٹر (نواز) شریف اپنے ہم منصب کو بتائیں کہ دہشت گرد امن عمل کو پٹری سے اتارنا چاہتے ہیں اور پھر یہاں کی ریاست ایک ایسے گروہ کی جانب سے حملے کے دعوے کو قالین کے نیچے چھپاتی پھرے جس کی قیادت پاکستان میں مقیم ہے۔ اگر UJC کا دعویٰ جھوٹ ہے تو ایسا ثابت کرنا ہوگا۔ اگر یہ جھوٹ نہیں ہے تو پھر پٹھان کوٹ حملے کے منصوبہ سازوں کو کٹہرے میں لانا ہو گا۔‘‘
سامراجی قوتیں، جن کے دونوں اطراف کے ’’امن پسند‘‘ اور شدت پسندعناصر سے گہرے مراسم ہیں، دو طرفہ تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم اس دشمنی اور جنگی جنون کا مکمل خاتمہ کبھی بھی ان کا مقصد نہیں رہا۔ جان کیری نے نواز شریف کے سامنے بڑھتے ہوئے تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیری کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں گہری تشویش ہے…یہ دونوں ممالک خطے کے مفادات کے حوالے سے انتہائی اہم کردار کے حامل ہیں۔‘‘
برصغیر میں 1946ء کی انقلابی سرکشی کو کچل کر کئے جانے والے خونی بٹوارے سے جنم لینے والی دونوں ریاستوں کے تعلقات روز اول سے ہی جنگ اور امن، مذاکرات اور تناؤ، دوستانہ لفاظی اور زہر آلود بیانات کے گھن چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔کئی مذاہب، نسلوں اور قبائل کے باشندوں کو سات ہزار سال تک یکجا رکھنے والے تہذیب کو چیر دیا گیا اور اس بٹوارے کا ایندھن بیس لاکھ معصوم انسان بنے۔ تقسیم کے بعد جہاں ایک طرف تھیوکریٹک ریاست معرض وجود میں آئی وہاں باقی کے ہندوستان پر قابض ریاست کا کردار بھی کہیں زیادہ زہریلا اور رجعتی ہو گیا۔
دونوں اطراف کے حکمران طبقات اور ریاستیں مذہبی جنون اور قومی شاؤنزم کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ لیکن ان تعصبات کو برصغیر کے عوام میں وسیع تر حمایت کبھی حاصل نہیں ہو سکی۔ پاکستان کے محنت کش طبقے اور نوجوانوں نے مذہبی بنیاد پرستی کو جھٹکتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر کئی جرات مندانہ تحریکیں برپا کی ہیں۔ تمام تر پشت پناہی کے باوجود یہاں مذہبی جماعتوں کو کبھی پانچ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔
برطانوی سامراج کی طرف سے پیوند شدہ سرمایہ دارانہ نظام ’’آزادی‘‘ کے بعد بھی اس خطے میں قومی جمہوری انقلاب کا کوئی ایک فریضہ ادا نہیں کر پایا۔یورپ کی طرز پر یکجا قومی ریاست تشکیل پا سکی نہ جدید صنعتی سماج تعمیر ہو پایا۔ دونوں ممالک میں بیشتر سماجی اعشارئیے آج 1947ء سے بھی بد تر ہیں۔ دنیا کی آدھی غربت یہاں پلتی ہے۔ BJP اور مودی کو شدید معاشی بحران کا شکار ہندوستان کا ’’سیکولر‘‘ حکمران طبقہ ہی برسر اقتدار لایا ہے تاکہ زیادہ وحشت سے نجکاری، ڈاؤن سائزنگ اور نیو لبرل معاشی پالیسیاں لاگو کی جا سکیں۔
گزشتہ کچھ دہائیوں سے پاکستان اور ہندوستان میں مختلف اشکال اور شدت سے زور پکڑنے والی مذہبی بنیاد پرستی آخری تجزئیے میں متروک اور مفلوج سرمایہ دارانہ نظام کا نچڑا ہوا عرق ہے۔ محنت کش عوام کی انقلابی تحریکوں کی پسپائی یا تاخیر اور روایتی قیادتوں کی پے درپے غداریوں نے وہ سیاسی خلا اور سماجی گھٹن پیدا کی ہے جس میں رجعت کی سیاہ قوتیں پنپ سکیں۔دونوں ممالک میں نام نہاد ’’سیکولر‘‘ پارٹیاں اور حکمران طبقے کے ’لبرل‘ دھڑے خود اتنے کرپٹ، کمزور اور کھوکھلے ہیں کہ کوئی ترقی پسند کردار ادا نہیں کر سکتے۔
پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارتی ریاست بھی کئی سطح پر داخلی تضادات اور دھڑے بندیوں کا شکار ہے۔ معیشت اور ریاست کے بحران کے نتیجے میں پالیسی سازی کا مرکز ثقل وہاں بھی مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ برصغیر کی طرح کئی دوسرے خطوں میں ریاستیں اور سامراجی قوتیں ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘اور دہشت گرد پراکسی گروہوں کو اپنے مفادات کے تحت استعمال کر رہی ہیں۔ وقت کے ساتھ پراکسی گروہوں اور ان کے مالکان کے درمیان تضادات اور تنازعات ناگزیر طور پر جنم لیتے ہیں۔ ایسے میں اوزار بعض اوقات چلانے والے کے ہاتھ بھی گھائل کر ڈالتے ہیں۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے بات کی جائے تو دہشت گرد گروہوں کی خود کار فنڈنگ کے لئے منشیات کے دھندے اور دوسرے جرائم کا طریقہ کار امریکی سی آئی اے نے ڈالر جہاد کے دوران وضع کیا تھا۔ آج کالے دھن کے یہ کاروبار اربوں ڈالر کا حجم اختیار کر چکے ہیں اور حصہ داری کی چپقلش ریاستی اور ’نیم ریاستی‘ عناصر کے درمیان خونریز ٹکراؤ کا باعث بنتی رہتی ہے۔ بعض صورتوں میں سرکش پراکسی گروہ اپنے آقاؤں سے کہیں زیادہ گھاگ اور خود کار ہو چکے ہیں اور ان کی مرضی و منشا سے ہٹ کر کاروائیاں ایسے گروہوں کے لئے کوئی خاص مسئلہ نہیں رہا۔
اس نظام میں دوستی اور دشمنی دونوں سے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ ایک طرف اسلحہ ساز کمپنیاں، عسکری اشرافیہ اور مذہبی بنیاد پرستی کی سیاست کرنے والے ہیں، جن کے لئے امن کسی صورت منافع بخش نہیں۔ دوسری طرف حکمران طبقات کے وہ حصے ہیں جو منڈیوں کے حصول اور شرح منافع میں اضافے کے لئے دو طرفہ تجارت چاہتے ہیں۔ ایسے میں دونوں بحران زدہ ریاستیں کوئی ٹھوس پالیسی ترتیب دینے سے ہی قاصر ہیں۔ برصغیر کے حکمران طبقات کھلی جنگ کر سکتے ہیں نہ دور رس امن قائم کر نے کے قابل ہیں۔
دہشت گردی آج عالمگیر مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔قومی جنگیں بڑی حد تک قصہ ماضی بن چکی ہیں۔ان کی جگہ بالواسطہ اور پراکسی جنگیں لے چکی ہیں جو سرحدوں پر نہیں بلکہ شہروں میں لڑی جاتی ہیں۔ مارکسسٹ ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ایلن ووڈز اپنے تازہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک وبا کی طرح کرہ ارض پر پھیلتی دہشت گردی بذات خود 21ویں صدی کی سرمایہ داری کو لاحق جان لیوا بیماری کی علامت ہے۔ دہشت گردی کے مزید حملے ناگزیر ہیں۔ اسے ’پولیس‘ یا فوج کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔ دنیا میں اتنے پولیس والے نہیں جتنے نہتے اور معصوم انسانوں کو نشانہ بنانے پر تیار جنونی ہیں۔ لینن نے بالکل سچ کہا تھا کہ سرمایہ داری کی وحشت کا کوئی انت نہیں…‘‘
سرمایہ داری کا نام نہاد ’’چینی ماڈل‘‘ زمین بوس ہو کر اس نظام کی تاریخی متروکیت کو عیاں کر رہا ہے۔ایران اور سعودی عرب میں براہ راست جنگ کے ہولناک امکان سے لے کر عراق، لیبیااور شام کی بربادی تک، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پھر سے بڑھتے تناؤ سے لے کر یورپ اور امریکہ میں گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحران تک، افریقہ کی تاراجی سے لے کر لاطینی امریکہ کے انتشار تک،ماحولیاتی آلودگی سے لے کر گلوبل وارمنگ اور موسی تبدیلیوں تک…اس نظام نے کرہ ارض کو نسل انسان کی اکثریت کے لئے جہنم ارضی بنا ڈالا ہے۔ اس کا خاتمہ ہی انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔

متعلقہ:

غربت میں امن؟

’’خیر سگالی‘‘ کب تک؟

افغانستان کا کہرام

’’آؤٹ سورسنگ‘‘

لکیروں کے آرپار، ایک ہی داستان!