رحیم یارخاں: پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے اجلاس سے سوئس مزدور رہنماؤں کا خطاب

| رپورٹ: PTUDC رحیم یار خان |
ptudc rahim yar khan (1)پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے سوئزرلینڈ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ’’اونین ‘‘ کی سنڑل کمیٹی کے رکن فلورین ایش من او رسوئس سوشلسٹ پارٹی کے یوتھ ونگ کی مرکزی رہنما اولیویا ایش من نے کہا کہ سوئس بینکوں میں دنیا بھر کے حکمرانوں کی ناجائز دولت جمع ہے جو ان ممالک کے محنت کش عوام کولوٹ کر جمع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئس محنت کش طبقہ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس کالی دولت کو ضبط کرکے واپس ان ممالک کی عوام کو دے گا۔ فلورین ایش من نے رحیم یارخاں کی مزدورتنظیموں کے نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کی زوال پذیری اور اسکے تیسری دنیا اور یورپ، امریکہ اور دولت مند ممالک کے محنت کش عوام پر بھیانک اثرات پر روشنی ڈالی۔ سرمایہ داری کے ہوتے ہوئے محنت کش طبقے کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے دنیا بھر کے وسائل سے اس سیارے کو جنت بنایا جاسکتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں اورمنافع کی ہوس پر مبنی سامراجی نظام کی وجہ سے دنیا میں غربت، بے بسی اور محرومی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوئزرلینڈ کے لوگ سرمایہ داری اور کمپنیوں کے جرائم سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ سوئس کمپنی نیسلے کی لوٹ مار، ہوس اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف اتنی نفرت ہے کہ خود سوئزر لینڈ میں نیسلے اپنی مصنوعات کو دوسرے ناموں سے بیچنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا سرمایہ دارانہ نظام تاریخی طور پر متروک ہوچکا ہے۔ سوشلزم صرف غریب ممالک کی نہیں بلکہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے محنت کشوں کی ضرورت بن چکا ہے۔ سرمایہ داری کٹوتیوں کی پالیسیوں سے یورپ کے مزدور سے وہ سہولیات واپس لے رہی ہے جو محنت کشوں نے دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کی تھیں۔ سرمایہ داری کے بھیانک جرائم کی وجہ سے پوری دنیا جنگوں، خانہ جنگیوں، بیماریوں، بھوک، بے روزگاری اور افلاس کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی لوٹ مار کی پالیسی، سامراجی استحصال اور غریب ممالک کے حکمرانوں کی بدعنوانی سے حاصل دولت سے سوئس بنک بھرے ہوئے ہیں مگر دنیا کا ایک بڑا حصہ بھوک اور لاعلاجی سے مررہا ہے۔ محنت کش طبقے کے عالمی اتحاد سے سرمایہ داری کے خلاف فیصلہ کن لڑائی وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکی ہے جس میں سوئس محنت کش کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔

ptudc rahim yar khan (2)سوئس سوشلسٹ پارٹی کی یوتھ ونگ کی مرکزی راہنما اولیویا ایش من نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے استقبالیہ میں شریک ایپکا، یونی لیوراتحاد ورکرز یونین، بحالی تحریک ڈس مس ورکرز یونی لیور، پاکستان ایلیمنٹری ٹیچرز ایسوسی ایشن، ورکرز ویلفیئر سوسائٹی، ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یارخاں کے راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان میں امیر اور غریب کا بھیانک تضاد دیکھا ہے۔ ایک طرف وسائل کی بہتات ہے تو دوسری طرف ایک وقت کی روٹی کو ترستے انسان سسک رہے ہیں۔ آبادی کے بیشتر حصے پر قابل علاج بیماریوں کا راج ہے مگر علاج معالجے کے لئے درکار وسائل موجود نہیں ہیں۔ محلات کے اردگرد جھونپڑیاں اور کچی آبادیاں ہیں، انہوں نے کہا کہ سرمایہ داری وسائل کو حکمران طبقے اور سرمایہ داروں کی طرف مجتمع کرنے اور وسائل پیدا کرنے والے اکثریتی طبقے کو اس سے محروم رکھنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کوحقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے جس سے وسائل کی برابر تقسیم کی جاسکے۔ سرمایہ داری کی شکست سے ہی محنت کش طبقہ انسانی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ سوئس رہنماؤں کے خیالات کو اردو میں ترجمہ کرکے آدم پال نے سامعین تک پہنچایا، جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے سیکریٹری جنرل قمرالزماں خاں نے سرانجام دئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے ریجنل سیکریٹری حیدر چغتائی نے یونی لیور، کوکا کولا، فوجی فرٹیلائیزر کمپنی سمیت نجی شعبے کے مزدوروں کی حالت زار اور انتظامیہ کی مزدور دشمن پالیسیوں سے اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر نعیم مہاندرہ، محبوب خاں، عظیم مہاندرہ، کرن سید، نسرین شاہد، نوید ارشد، رئیس کجل، زاہد، شہزاد مغل، ندیم ملک، عمران ارشد، آصف اختر، شفیق پاشا، محمد اعظم نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوئزرلینڈ سے آئے ہوئے سوشلسٹ مزدورراہنماؤں کی یکجہتی کی کاوشوں کوسراہتے ہوئے مزدورتحریک اور مختلف شعبوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزدورتحریک کو علاقائی سطح سے نکال کر بین الاقوامی مزدورتحریک کے ساتھ منظم کرنے کی پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی کاوشوں کی تعریف کی۔ بعد ازاں پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین کی طرف سے شائع کردہ ’’مزدورنامہ‘‘ سے تمام ٹریڈ یونینز کے راہنماؤں کو متعارف کرایا گیا۔ سوئس مزدورراہنماؤں نے ’’مزدورنامہ‘‘ کو جرمن زبان میں شائع کرنے کا عزم ظاہر کیا۔