پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی حالتِ زار

رپورٹ: ماجد یعقوب اعوان مرکزی صدر ایمپلائز یونین (CBA):-
PTDCپاکستان ٹوئرازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا قیام پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت (1972ء) میں ہوا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد سیر و سیاحت کی صنعت کو فروغ دینا تھا تاکہ بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک سیاحوں کو ملک کے تاریخی مقامات اور پُر فضا مقامات کی سیرو سیاحت کے بہترین معلومات فراہم کی جائیں اور وہ تمام تر سہولیات دی جائیں جو سیاحوں کو ضرورت ہوتی ہیں۔
اس مقصدکیلئے PTDCکے چار ادارے قائم کئے گئے۔
1۔ ہوٹلز
2۔موٹلز
3۔ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر(TIC)
4۔پاکستان ٹورز لیمیٹڈ (PTL)
بنیادی طور پر ہمارا ادارہ ایک کارپوریشن ہے اور Semi Govt ادارہ ہے۔ اس مقصد کیلئے4بڑے ہوٹل تھے جن میں سے ہر ایک ہوٹل کا رقبہ کئی ایکٹر پر مشتمل تھا ان میں سے 3ہوٹل نجکاری کے ذریعے انتہائی ارزاں قیمت پر فروخت کر دیا گیا ۔ اور اس میں کام کرنے والے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے نوکرویوں سے فارغ کر دیا گیا۔ جن ہوٹلز کو نجکاری کے ذریعے بیچا گیا، ان میں Flatiesہوٹل لاہور، مسیسل ہوٹل(Ceesal)مری، اور ڈینٹر ہوٹل(Deans Hotel)پشاور شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے ابھی تک Flashmanہوٹل نجکاری میں فروخت ہونے سے بچا ہواہے۔
اس وقت پورے پاکستان اورآزادکشمیر میں ہمارے 46موٹلز ہیں، جو وادی سوات، وادی کاغان، سکردو، گلگت ، چترال ، پاک ایران باڈرز، واہگا باڈر، پاک چائناباڈر، پاک افغان باڈر، بہاولپور ، موہن جوداڑو، ہاکس بے کراچی، خفدار، چمن، زیارت، کنجر جھیل، کوئٹہ، ایوبیہ، بنجوسہ (کشمیر) میں واقع ہیں۔
اب تک ہمارے ادارے نے ہر حکومت کو کروڑوں روپے سالانہ ٹیکس کی مد میں زرمبادلہ کما کر دیا ہے۔ لیکن 9/11، 2005کے زلزلے اور 2007سےLaw & Orderکی صورت حال کی وجہ سے ہماری اس صنعت کو بہت زیادہ نقصان ہوا۔ کالا باغ میں ہمارا ایک ٹریننگ Institueتھا۔ جو جس کو طالبان نے تباہ کر دیا، اس ٹریننگ سنٹر میں ہم ملازمین کو باقاعدہ ٹریننگ دیتے تھے، مالم جبہ میں ہمارا 60کمروں میں مشتمل ہوٹل بھی ہے، اور اس ہوٹل میں کمروں کے علاوہ Hutsبھی ہیں، اب یہ ہوٹل تباہ ہوچکا ہے، کالام میں ہمارے ہوٹل پر اس وقت آرمی نے قبضہ کیا ہوا ہے، نہ وہ اس ہوٹل کو چھوڑتے ہیں اور نہ ہی اس کا Rentادا کر رہے ہیں۔
ہمارے Turist Information Centreتمام ائیرپورٹس کے ساتھ ساتھ ملتان، بہاولپور، ٹیکسلا، موہن جو داڑومیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ہوٹلز اور موٹلز میں Handi Craftکی دکانیں بھی ہیں۔ PTCپاکستان ٹوئرز لمیٹڈ کا بنیادی مقصد ٹرانسپورٹ سروس مہیا کرنا ہے۔ پاک چائنا اور پاک انڈیا انٹرنیشنل بس سروس، اسی طرح ملکی سطح پر ہمارے ادارہ کی اپنی بسز، ہائی ایس، اور کوسٹرز ہیں جو اندرونِ ملک اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے 2اداروں کو فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں، Planing & PromotionاورPlaning Development، اور ہر حکومت میں یہ فنڈز کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں مگر اب ہمارے فنڈز کو مکمل Freezeکر دیا گیا، اور کوئی رقم ادا نہیں کی جارہی ہے۔
جہاں ایک طرف ہمارے ملازمین 7ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ وہیں پر 18ویں ترمیم کے ذریعے جو ظلم کیا گیا وہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت مختلف اداروں کو صوبوں کے حوالے کیا گیا، یقیناًجس طرح باقی وفاقی سطح کے ادارے 18ویں ترمیم کی وجہ سے پریشان ہیں ہم پر بھی اس کے مضر اثرات اس طرح سے مُرتب ہورہے ہیں کہ ہر صوبہ PTDCکی املاک (Properties)لینے کے لئے توتیار بیٹھے ہیں، لیکن کوئی بھی صوبہ ملازمین کو لینے کیلئے تیار نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہر صوبہ اور ہر سیاسی پارٹی اپنے منظور نظر لوگوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے جو کہ عوامی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، نے ہمیں بری طرح سے مایوس کیا ۔اس وقت 18ویں ترمیم کی وجہ سے ہمارے ادارے کی کیفیت پنڈولم جیسی ہوچکی ہے، کبھی ہم وفاق کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی صوبوں کی طرف، لیکن ہمارے حکمران اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنے ذاتی مفادات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا، اور ادارے کو بھی ایک گومگو کی کیفیت میں رکھا ہوا۔
اگر آج حکومت ہماری سرپرستی کرے تو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ہمارے ورکرز کے اندریہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس صنعت کو نہ صرف فروغ دے سکتے ہیں، بلکہ ایک منافع بخش صنعت بنا سکتے ہیں۔ انڈیا اور نیپال کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سیرو سیاحت کی صنعتوں کے ذریعے اربوں روپے سالانہ کمائے جارہے ہیں ۔ خیبر پختون کو اب تک لاکھوں ڈالر اس صنعت کے فروغ اور تعمیر نو کیلئے مل چُکے ہیں لیکن PTDCکے ادارے پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ آج بھی اگر ہمارے ادارہ کو 25کروڑ سالانہ اور 50کروڑ روپے صرف ایک دفعہ کیلئے گرانٹ دے دی جائے تو ہم اپنے ادارہ کو ایک سال کے اندر اندر منافع بخش ادارہ بنا سکتے ہیں ۔ ہمارے ورکرز آج بھی 7ماہ سے تنخواہوں کی عدم دستیابی کے باوجود 26دن مسلسل کام کر رہے ہیں اور 4دن چھٹی کرتے ہیں۔

حل

اگر یہ چھوٹی سی رقم اگر حکومت ہمیں مہیا کر دے تو ہم Informationسروس، ہوٹلز وموٹلز سروس، ٹرانسپورٹ سروس کو دوبارہ نہ صرف بحال کر سکتے ہیں بلکہ سیاحت کی صنعت کو ترقی بھی دے سکتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ناران سے جھیل سیف الملوک تک 8کلومیٹر سڑک کا راستہ بنتا ہے، اگر ناران سے جھیل سیف الملوک تک JEEPسروس کی بجائے Chairلفٹ سروس شروع کی جائے تو اس سے فاصلہ صرف 3کلومیٹر رہ جائے گا۔ بجلی یہاں پر ہے، اگر بجلی نہ بھی ہو تو جنریٹرلگا کر لفٹ سروس جاری رکھی جا سکتی ہے۔ دوسرا اس سے وقت کی آزادی ہو جائے گی کیونکہ Jeepسروس کے ذریعے اور جھیل سیف الملوک میں آپ 2سے 3گھنٹے رُک سکتے ہیں ، اس سے زیادہ نہیں جبکہ چیئر لفٹ سے یہ فاصلہ انتہائی کم وقت میں طے ہو گا اور سیاح زیادہ دیر تک جھیل پر رک سکیں گے۔
فنڈز کے لئے یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ جیسے PTVاور ریڈیو پاکستان کے لائسنس کے لئے بجلی کے بلوں کی مد میں 35روپے فی صارف رکھے گئے اور PTVکوکروڑوں کی آمدن ہونے لگی۔ ہم 35/30روپے کی بات نہیں کرتے بلکہ PIA، ریلوے اور Shipingکے جو کرایہ جات لئے جارہے ہیں، اس میں صرف ایک روپیہ PTDCکے مختص کر دیا جائے، تو ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں، کہ ایک تو سب سے پہلے ہمارا ادارہ ایک وفاقی سطح کا ادارہ ہے، اس کو وفاق کے ساتھ رکھتے ہوئے ہمارے مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔
اس وقت ہمارے ادارے میں800ریگولر اور 200ڈیلی ویجز ملازمین کام کررہے ہیں۔جو گزشتہ 8ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ورکز کی تنخواہوں کے لیے ہم نے احتجاج شروع کیا۔27اپریل کو ہمارے MDسے مذاکرات ہوئے اور اس نے تمام مطالبات کو تسلیم کیا۔باقی تمام افسران نے یونین اور انتظامیہ کے درمیان معائدہ پر دستخط کئے۔لیکنMDنے ایک ہفتہ بعد دستخط کا وعدہ کیا جو ابھی تک پورا نہیں کیا۔اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم دوبارہ احتجاج اور ہڑتال کی طرف جا سکتے ہیں۔

اپیل
آئیے تمام اداروں ورکرز سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دیں۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانیں گے تو ہم دوبارہ احتجاج اور ہڑتال کی طرف جائیں گے۔ ہم پاکستان کی تمام لیبر فیڈریشنز، یونینز، ایسوسی ایشنز اور پبلک و پرائیویٹ اداروں کے محنت کشوں اور مزدوراہنماؤں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے کے محنت کشوں کے مسائل کے حوالے سے پریس ریلیز جاری کریں۔

متعلقہ:

پی ٹی ڈی سی ملازمین کو 7ماہ سے تنخواہ نہ مل سکی، گھروں میں فاقے