ریاستی جبر اور قومی وحشت: نشانہ محنت کش ہی کیوں؟

| تحریر: قمرالزماں خاں |
سندھ کے بارڈر سے چند کلومیٹر مشرق کی طرف رتیلے ٹبوں، بے آباد زمینوں اور زرعی پانی اور سہولیات سے محروم ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں کی بے آباد زمینیں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے حیثیت اور بانجھ ہیں۔ مسائل اور مصائب کس قدر ہوں گے کہ ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی ان مزدوروں کو 15000 روپے ماہانہ ملتے ہیں اور بونس میں وہ اندھی گولیاں جو انکے ماتھے، آنکھوں اور منہ میں انڈیل دی جاتی ہیں، یہ بونس دینے والے اور لینے والے موت کے اس کھیل میں ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا تکلف تک نہیں کرتے۔ بلوچستان کے وسائل پر قبضے اور لوٹ کی عالمی سامراجی طاقتوں کی پراکسی لڑائی بلوچستان میں قومی، سماجی اور معاشی محرومیوں میں اضافے کا باعث ہے، ریاستی دہشت گردی اس کو مزید خونخوار بنا رہی ہے جس کی بھینٹ غریب عوام ہی چڑھ رہے ہیں۔ لیکن ’’گوگدان‘‘ میں موت بانٹنے والوں کا انداز، جذبات، طریقہ کار اور سفاکیت آرمی پبلک سکول پشاورمیں بچوں کے قاتلوں، یزیدی عراقیوں کے قاتلوں، شام میں ہتھیار ڈال دینے والے جوانوں کے سر خنجروں سے کاٹنے والوں سے ملتی جلتی ہے۔ ’’قوم پرست‘‘ اگر یہ قتل عام کرنے آئے تھے تو انہوں نے ان پندرہ سولہ سال کے ننھے منھے بچوں اور جوانوں کو مارکر اپنی ’’تحریک‘‘ کے گرد خون کی لکیر گہری کرکے اس ہمدردی اورحمایت سے خود کو اور بھی محروم کردیا ہے جس کی مدد کے بغیر انکی مظلومیت اور محرومی کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن نہیں ہے۔

Trubat2
تربت میں قتل کیے جانے والے محنت کشوں کے لواحقین

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مستونگ میں نو مزدوروں کو جیپوں پرجاتے ہوئے گھیر کر قتل کیا گیا، بولان کے پہاڑوں میں بسوں کو روک کر پہلے مزدوروں کو اغوا کیا گیا اور پھر اسی بہیمانہ انداز میں ماتھوں میں گولیاں ماری گئیں، بلوچ سرمچاروں کے ترجمان نے ان مزدوروں کو مسلح افواج کے ملازمین قراردے کر اپنے قتل عام کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان میں سے ہر مقتول محنت کش تھا، کوئی درزی، کوئی رنگ روغن کرنے والا اور کوئی تعمیراتی مزدور۔ اسی سیریل میں ٹرینوں پر حملوں سے بے گناہ مسافروں کو قتل کیا گیا اور چند ماہ قبل حب کے قریب مرغی خانے میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ ان حملوں میں کسی بالادست قوم کا حکمران یا اسکا بچہ نہیں ماراگیا اور نہ ہی ریاستی متحارب مسلح گروہوں کونشانہ بنایا گیا۔ شاید اسی لئے کہ مسلح جدوجہد کرنے والوں کے درمیانے طبقے کے سرخیل قائد کو فورسز کی تحویل میں مسخ شدہ لاش بنانے کی بجائے محفوظ و مامون دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوجانے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ یہ ایک ’’بقائے باہمی‘‘ کا خاموش معاہدہ نظر آتا ہے۔
جن بچوں کو مارا گیا ان کی عمریں چودہ، پندرہ، سولہ برس ہیں۔ سب سے زیادہ عمر 26سالہ حاجی محمد دین کی تھی جو پسماندگان میں دو کمسن بچیاں چھوڑکرگیا ہے۔ ان مقتولین کے گھر والوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان محبوب چہروں کودیکھ سکیں جس کو عام حالات میں وہ دیکھ کر پیار کیا کرتے تھے۔ سب چہرے مسخ شدہ تھے۔ ہر بچے کے منہ پر درجنوں گولیاں ماری گئیں تھیں۔ کیا یہ مقتول بلوچستان کی محرومی کے ذمہ دار تھے؟ یا ان کے قتل عام سے چینی سامراج اور امریکی ’’مالکان‘‘ کی ریشہ دوانیاں رک جائیں گی؟ ان شہیدوں کی اکثریت سندھی بولنے والے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی، جو اپنے علاقے کی خشک سالی اور اجاڑپن کی وجہ سے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ویرانوں، سنگلاخ بیابانوں میں اپنے اہل خانہ کے لئے رزق کی تلاش میں گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی سوئی گیس، تانبے، سونے، تیل اور کوئلے کی کانوں کا ٹھیکے دار نہ تھا۔ ان کا ٹھیکے دار مشتاق تو کئی روز سے مفرور تھا کیوں کہ اس نے ’’بلوچ رجمنٹ آرمی‘‘ کو کئی ماہ سے فی مزدور پندرہ ہزار روپے بھتہ کی ادائیگی نہیں کی تھی۔
حیران کن بات ہے کہ ایک طرف قومی محرومی کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کا ہد ف وہ مزدور بنے جن کو اپنی دھرتی کے’’ عظیم ڈھونگی‘‘ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دعوے کے مطابق کم ازکم تیرہ ہزار روپے تنخواہ والا روزگار کہیں نصیب نہ ہوا اور وہ سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پندرہ ہزار مہینہ کی مزدوری کرنے چل پڑے، تو دوسری طرف ان مقتولین کے لاشے اہل حکم کے لئے خوف کا باعث بنے رہے۔ ریاست کتنی کمزور، لاغر اور کھوکھلی ہوچکی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کیچ، گوگدان کی سرآپ ندی پر پل بنانے والی کمپنی کے ان مقتول مزدوروں کی لاشوں کو بلوچستان سے رحیم یارخاں بائی ائیر لایا جانا تھا۔ انتظامیہ نے دبے دبے انداز میں رات آٹھ بجے ٹاؤن ہال رحیم یارخاں میں نماز جنازہ کا اعلان کیا۔ دوپہر2بجے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مظاہرے میں ’’دہشت گردی کے پیچھے وردی‘‘ والے نعرے لگتے رہے تھے، بلوچستان میں عملاً فوجی حکومت کے ہونے، مسخ شدہ لاشوں اور قومی حقوق کی آڑ میں بے گناہ مزدوروں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے بلوچستان، پنجاب، وفاقی حکومت کے استعفوں کی مانگ کی گئی تھی۔ مظاہرے کے شرکا بلوچستان میں ہونے والی چین، امریکہ، سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ اور ان قوتوں کے ہاتھوں کرائے کے قاتلوں کی بربریت اور خون ریزی کے پردے چاک کرتے رہے تھے۔ لہٰذا شام سے پہلے ہی ٹاؤن ہال کے چہار اطراف سینکڑوں مسلح پولیس والوں کو تعینات کردیا گیا۔ مورچے بنادئے گئے، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا انتظام کیا گیا۔ آٹھ بجے پی ٹی یو ڈی سی کے رہنما جنازہ گاہ تک پہنچ گئے جہاں صرف چند سرکاری ملاں، ضلعی انتظامیہ کے حاشیہ بردار اور افسران موجود تھے، وقت گزرتا گیا، پھر جنازے کا وقت بڑھا کر ساڑھے نوبجے رات کردیا گیا۔ مگر میتوں کو رحیم یارخاں لانے کی بجائے پنوعاقل فوجی چھاؤنی میں لایاگیا۔ دوسری طرف پولیس کی بھاری نفری مقتولین کی رہائش گاہوں کو گھیر کر کھڑی تھی، پولیس مطالبہ کررہی تھی کہ مقتولین کو رات کی تاریکی میں ہی دفنا دیا جائے جبکہ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ہم ان کی تدفین دن کی روشنی میں کریں گے تاکہ رشتہ دار، اقارب اور اہل علاقہ میتوں کا آخری دیدار کرسکیں۔ اس تکرار کا نتیجہ لاٹھی چارج اور پولیس تشدد کی شکل میں نکلا۔ ایک طرف ان لوگوں کے بھائیوں، بیٹوں اور رشتہ داروں کا خون ناحق کیا گیا تھا دوسری طرف انتظامیہ ان ہی کو ماررہی تھی۔ انتظامیہ خوفزدہ تھی کہ ان میتوں کے گرد ایسا کوئی ردعمل نہ ابھر آئے جو ایک تحریک کی شکل اختیار کرلے۔ وہاں کہرام برپا تھا۔ 22سالہ سٹھیارکی شادی ایک ماہ پہلے ہوئی تھی، اسکے ہاتھوں پر شادی کی مہندی اور اسکے سرسے نکلنے والے خون کا رنگ ہم آہنگ ہوچکا تھا۔ ایک بچہ میٹرک کا امتحان دے کر اپنے باپ کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لئے گیا تھا، دونوں میں سے کس کو کس کے سامنے قتل کیا گیا! کوئی بتانے کے لئے زندہ نہیں بچا۔ باپ بیٹے کی لاشیں قد میں ایک جتنی ہوچکی تھیں۔ چک 212/P کے ایک آنگن میں سات جنازے پڑے تھے۔ رانا، اللہ ڈینہ، بلاول تینوں کی شادی اگلے ماہ طے تھی، تینوں کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔ 22 سالہ عاشق ایک معصوم بیٹی کو بے سہارا چھوڑ گیا۔
بعد ازاں تدفین کے عمل کو عام پبلک کے علم میں لائے بغیر ’’ قابل اعتماد‘‘ صحافیوں اور ’’عمائدین‘‘ کی موجودگی میں مکمل کیا گیا۔ فوٹو سیشن اور ان امدادی رقوم کے جعلی چیکوں کو دئیے جانے کے وعدے کئے گئے جو نہ صرف کسی جان کا مداوا نہیں بن سکتے دوسری طرف وہ کسی بینک میں کبھی بھی کیش نہ ہوکر لواحقین کی تذلیل کوکئی سال تک جاری رکھتے ہیں۔ دوسری طرف حملے کی ذمہ داری ’’بلوچ لبریشن فرنٹ‘‘ (BLF) نے قبول کر لی۔ اس تنظیم نے گوادر سے اندرون پاکستان تک نئی شاہراہ بنانے کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے اس بہیمانہ قتل عام کی ذمہ داری قبول کی اور گوادر تا کاشغر سڑک بنانے کے عمل کو بلوچ مفادات کے خلاف، بلوچ آبادیوں اور گھروں کو مسمار کرنے کے عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے سرائیکی، سندھی، پختون مزدوروں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنی جوانیوں کو اس سامراجی ساز ش کا حصہ نہ بنائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حملہ آوروں نے ان مزدوروں کی حفاظت پر معمورلیویز کے جوانوں کو باخیریت جانے کی اجازت دی۔ بالکل اسی طرح بولان میں چیک پوسٹ پر ایف سی کے جوانوں کو کچھ نہیں کہا گیا تھا اور بسوں سے مزدوروں کو نکال کر ماردیا گیا تھا۔
شواہد اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لڑائی پاکستان کی سرمایہ دارانہ ریاست سے نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی پاکستان کے بالادست طبقوں اور حکمرانوں کے خلاف۔ حقائق نشاندہی کرتے ہیں کہ اس قتل وغارت گری کی ’’سپاری‘‘ ایک سامراج کے مفادات کے خلاف دوسرے سامراج سے لی جاتی ہے۔ اس تناظر میں جب بلوچ مزاحمت کار وں کی مبینہ طور پر لشکر جھنگوی اور جنداللہ سے الحاق کی خبریں تواتر سے گردش کررہی ہیں تو مسلح بلوچ قومی جدوجہد کا کردار حریت پسندی، ترقی پسندی یا آزادی کی خواہشوں کی بجائے ایک طرف رجعت کا شکار ہوکرمسخ اور بدنما ہوچکا ہے تو دوسری طرف منڈیوں پر قبضے کی لڑائی میں کسی بھی فریق کا آلہ کار بن کر بلوچ عوام کی عظیم جدوجہد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ نظریاتی زوال پذیری نے قوم پرستی کو فسطائیت بنا دیا ہے۔ امریکی مدد سے آزادی حاصل کرنے کے نعرے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر لگائے جاتے ہیں اور جن امریکی ایوانوں نے دنیا بھر کو غلام بنا رکھا ہے وہاں سے ’’آزاد بلوچستان ‘‘ کی قراردادوں پر بغلیں بجائی جاتی ہیں۔ عراق، افغانستان، شام اور بذات خود پاکستان میں امریکی حکمران طبقے کے مکروہ کردار اور دنیا بھر کی حریت پسندی کی تحریکوں کو خون میں ڈبونے کے بعد وہ بلوچستان کو کس قسم کی ’’آزادی‘‘دلواسکتے ہیں؟
سامراجیوں کے لئے بلوچستان کے عوام کی بجائے قدرتی وسائل میں زیادہ دلچسپی کا ہونا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہوگا۔ جس قسم کے حالات سامراجی قوتیں پیدا کرنا چاہتی ہیں وہ رضا کارانہ یا اجرت پر خود وہی تنظیمیں کررہی ہیں جن کو بذعم خود ’’بلوچ قوم پرست‘‘ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اس کا ہلکا سا ٹریلر تو یہ قتل وغارت گری اور اسکے جواب میں ریاستی ایجنسیوں کا قتل عام ہے۔ معاشی اور طبقاتی آزادی کے معاملے کو قومی آزادی کے سوال سے جوڑے بغیر سامراجی اور بالا دست قوتوں کا آلہ کار بن جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ’’چینی منصوبوں‘‘کے خلاف بذریعہ ’’سرمچار‘‘ بے گناہ مزدوروں کا قتل عام کسی قومی آزادی کی راہیں استوار کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ ہاں اس سے امریکی مقاصد یا انتقام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ پھر چینی سامراج بھی کوئی انسانی یا قومی حقوق پر یقین رکھنے والی قوت نہیں ہے۔ اسی طرح عوامی ردعمل کی وجہ سے سعودی حکمرانوں کی واضح طور پر فرمانبرداری سے ہچکچاہٹ بھی بڑے سے بڑے خونی ردعمل میں اپنا اظہار کرسکتی ہے۔ سعودی رقم سے پنپنے اور چلنے والی تنظیموں کے ہاتھوں بلوچستان کے ہی اند ر کئی دفعہ خون کی ہولیاں کھیلی گئی ہیں۔ مختلف قسم کی پراکسی جنگوں میں مرنے اور مارنے والوں کے برعکس فائدہ سامراجی قوتوں کا ہورہا ہے۔ حالیہ قتل عام سے صرف اور صرف حکمران طبقے کے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔ جب ایک قوم کے ہاتھوں دوسری قوم کے محنت کش قتل ہوتے ہیں تو انکی باہمی منافرت اور دشمنی سے ریاست زیادہ مضبوط، وحشی اورزیادہ استحصالی ہوتی جاتی ہے۔ کیچ، گوگدان میں قتل عام قابل مذمت ہے جس کی کسی بھی بنیاد پر حمایت کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ اس کے ردعمل میں افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی ذمہ داربھی گوگدان میں قتل کرنے والی تنظیم ہی ہوگی۔ سامراجیت کے اس عہد میں محض قومی حقوق کی جدوجہد استحصال کرنے والے ہاتھوں کی تبدیلی ثابت ہوتی ہے۔ پاکستانی ریاست کے ہاتھوں بلوچ قوم سمیت دیگر اقوام کے حقوق کے استحصال کے خلاف جنگ، ان قوموں کے محنت کش طبقے کے اتحاد کے ذریعے اور اس سامراجی نظام اور منڈی کی معیشت کے خلاف جدوجہدکرکے ہی جیتی جاسکتی ہے۔

متعلقہ:

بلوچستان: پراکسی جنگوں میں مرتے غریب

بلوچستان کی گھمبیرتا

فریاد کر کے بھی دیکھ لو

پاک چین معاشی راہداریاں: ہمالیہ سے بلند دوستی یا لوٹ مارکے نئے راستے؟

بلوچستان: قومی آزادی کی جدوجہد میں مزدوروں کا قتل عام؟