لاہور: ظالم اعلیٰ کے ذاتی حکم پر کئے جانے والے بدترین ریاستی تشدد سے سات ماہ کی حاملہ نرس شدید زخمی

[رپورٹ: PTUDC لاہور]
گزشتہ پانچ روز سے جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی نوجوان نرسز پر پنجاب پولیس نے بر ترین لاٹھی چارج کیا ہے جس میں سات ماہ کی ایک حاملہ نرس شدید زخمی ہوگئی ہے۔ اس سے قبل حاملہ نرس کی ہلاکت کے اطلاعات بھی میڈیا پر گردش کرہی تھیں۔ صورتحال فی الوقت غیر واضح ہے۔ یہ بدترین ریاستی تشدد شہباز شریف کے ذاتی حکم پر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں نرسز شدید زخمی ہوگئی ہیں اور 10 سے زائد خواتین کو پولیس نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق مختلف ہسپتالوں سے نرسز کو ڈرا دھمکا کر نکالا جارہا ہے تاکہ زر خرید میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر ذمہ داری نرسز پر ڈالی جاسکے۔ پنجاب حکومت ایسے بیہودہ ہتھکنڈے ماضی میں نوجوان ڈاکٹروں کے خلاف بھی استعمال کر چکی ہے۔
اس واقعے نے نواز لیگ حکومت کی اصلیت کو عوام کے سامنے بالکل بے نقاب کر دیا ہے۔سرمایہ دار درندوں کی ’’جمہوری‘‘ حکومت اب کھل کر عوام دشمن اقدامات پر اتر آئی ہے اور IMFکے حکم پر مختلف اداروں سے محنت کشوں کو نکال کر لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) تمام اداروں کے محنت کشوں، مزدور تنظیموں اور شہریوں سے نوجوان نرسز کے ساتھ یکجہتی کی بھرپور اپیل کرتی ہے۔نرسز کا دھرنا پنجاب اسمبلی کے سامنے تاحال جاری ہے اور عوام سے اپیل کی جاتی ہے وہ اس میں شامل ہوکر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

دیا بجھے گا تو سحر ہوگی!
صدا دبے گی تو حشر ہوگا!