ہندوستان: طلبہ تحریکوں کا معاشی و سماجی پس منظر

| تحریر: سنگین باچا |

ہندوستان میں 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور ایک سروے کے مطابق 2020ء تک ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوا ن ملک بن جائے گا جس کی اوسط عمر29 سال ہو گی۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی آبادی پر مشتمل ہندوستان کی معیشت ایک طرف اگر 7.4 فیصد کی شرح نمو سے ترقی کر رہی ہے تو دوسری طرف یہ ترقی صرف امیر طبقے تک ہی محدود ہے اور ہندوستان میں پوری دنیا کی 40 فیصد غربت بھی ساتھ ہی پلتی ہے۔ آبادی کی وسیع پرتیں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق دیہی آبادی میں 50 فیصد کے پاس شیلٹر یعنی مناسب رہائش نہیں ہے، 70 فیصد کے پاس لیٹرین کی سہولت نہیں ہے، 35 فیصد کے پاس صاف پانی کا کوئی قریبی ذریعہ نہیں ہے، 85 فیصد گاؤں ایسے ہیں جو سیکنڈری سکول تک سے محروم ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان اسلحہ خریدنے والے پہلے 10 ممالک میں شامل ہیں اور تعلیم اور صحت کی سہولیات اور معیار کے لحاظ سے سب سے آخری نمبروں پر آتے ہیں۔ آبادی کے دوسرے حصوں کی طرح غربت کے گہرائیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور نوجوانوں کے زندگی بھی مسائل سے بھری پڑی ہے۔

FOR RELEASE WITH FEATURE BC-SAFRICA-JOBS-Unemployed South Africans wait for work outside a factory gate in downtown Johannesburg. One of the cruellest fates that has hit South Africa since apartheid has been unemployment. Picture taken October 26, 1998. JN/FMS - RTRIPTE
دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی بیروزگاری نوجوان نسل کا سب سے بڑا مسئلہ ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی حکومت نے بر سراقتدار آتے ہی محنت کشوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں پر معاشی حملے شروع کر دئیے تھے تاکہ سرمایہ داروں کی بلند شرح منافع کو یقینی بنانے کے لئے موزوں حالات پیدا کئے جا سکیں۔ 2014-15ء کے بجٹ میں تعلیم کے ریاستی اخراجات میں 24.68 فیصد کٹوتی کی گئی، یعنی یہ اخراجات 82,771 کروڑ روپے سے 69,074 کروڑ کر دئیے گئے۔ 2016ء کی شروعات میں ہی فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا، پنجاب یونیورسٹی (ہندوستان) کی فیسوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، آئی آئی ٹی کی فیسوں میں 3گنا اضافہ کیا گیا ہے جو سالانہ 90 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کر دی گئی، IPU کالجز کی فیسوں میں 24 فیصد اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح ہر سطح پر ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں کی فیسوں میں مختلف شرح سے اضافہ کیا گیا۔ جہا ں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی 58 فیصد آبادی تین ڈالر یومیہ پر زند گی گزار رہی ہو وہا ں پر ایسے حالات میں نوجوانوں کے وسیع حصے کے لئے تعلیم حاصل کرنا نہایت ہی مشکل ہو جا تا ہے، اور جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی معیاری نہیں ہو تی، وسیع بیروزگاری کی لعنت اس کے علاوہ ہے۔
نہایت مشکل حالت میں اگر کوئی ڈگری حاصل کر بھی لے تو یونیورسٹی سے نکل کر روزگار کے تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ والدین جو انتہائی تنگ معاشی حالات میں بچوں کی تعلیم پر خرچہ کرتے ہے اور یہ امید رکھتے ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ خرچہ منافع کے ساتھ ان کا بچہ واپس کرے گا، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی موجودہ کیفیت میں ان کا یہ خواب صرف خواب ہی رہ جا تا ہے کیونکہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور دنیا بھر میں یہی حالات ہیں۔ ہندوستان میں بیروزگاری کی شرح کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جب ستمبر 2015ء میں اتر پردیش کی حکومت نے کچھ سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا تو چپڑاسی کی ایک سیٹ کے لئے 24 لاکھ امیدواروں نے درخواست دی تھی جس میں پی ایچ ڈی سمیت اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے سینکڑوں نوجوان شامل تھے۔ NDTV کے ایک سروے کے مطابق ہندوستا ن کے 67 فیصد بے روزگار نوجوانوں میں سے 50 فیصد ڈگری یافتہ ہیں۔ ہر سال 50 لاکھ نوجو ا ن تعلیمی اداروں سے ڈگری لے کر محنت کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ اس تعداد کے مقابلے میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہندوستان میں نوجوان نسل میں خود کشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ بنگلور جو کہ ہندوستان کے آئی ٹی سیکٹر کا گڑھ سمجھا جاتا ہے یہاں خود کشیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کی وجوہات میں سماجی بیگانگی، مسلسل عدم استحکام کی کیفیت اور بیروزگاری شامل ہیں۔ خاندان اور معاشرے کے دباؤ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو تی جا رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق نفسیاتی مریضوں کی کل تعداد کا 15 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ڈپریشن اور دوسری نفسیاتی بیماریاں نہ صرف خود کشی بلکہ سماج دشمن رویوں، جرائم اور منشیات کی طرف بھی نوجوانوں کو دھکیل دیتی ہیں۔

PTI2_17_2016_000133Bپاکستان ہی کی طرح ہندوستان میں بھی سیمسٹر سسٹم میں نوجوانوں کو پیس کر سیاست سے دور رکھنے کے کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ RSS اور ABVP جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی بھی کی جا رہی ہے اور ترقی پسند نظریات کے مقابلے میں فسطائی رجحانات کو ابھارنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ یہ سب کچھ ’’سیکولر ریاست‘‘ کی چھتری تلے ہو رہا ہے تاکہ طلبہ کو ان کے حقیقی مسائل اور طبقاتی سیاست سے دور کر کے نان ایشوز، انتہا پسندی اور لمپن ازم میں غرق کیا جا سکے۔ جہاں کہیں بھی طلبہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو ریاست غنڈہ گردی کے ذریعے انہیں دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ ریاستی جبر کے علاوہ کارپوریٹ میڈیا کو استعمال کر کے ایسی طلبہ تحریکوں کو خوب بدنام کیا جاتا ہے اور پروپیگنڈا کر کے دوسرے اداروں کے طلبہ اور نوجوانوں میں خوف پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن حکمرانوں کے ان تما م ہتھکنڈوں کے باوجود طلبہ نے نہ صرف ریاستی جبر کا مقابلہ کیا ہے بلکہ اسے شکست بھی دی ہے۔ Occupy UGC تحریک کے بعد اب جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں طلبہ کے شاندار جدوجہد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ تحریک JNU سے نکل پر پورے ہندوستان میں پھیلی اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے نوجوانوں نے اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس جدوجہد کے ذریعے ہندوستان کے طلبہ نے یہ اعلان کیاہے کہ اگر ایک طرف مودی سرکار کی بنیاد پرستی اور سرمایہ دارانہ پالیسیوں نے محنت کش عوام اور نوجوانوں کے زندگیوں کو تاریکی میں ڈبویا ہے تو طبقاتی جدوجہد ہی ان تاریکیوں کو مٹا سکتی ہے۔ 2 ستمبر 2015ء کو 15 کروڑ محنت کشوں کی عام ہڑتال اور طلبہ کے شاندار حالیہ جدوجہد نے یہ ثابت کیاہے کہ طبقاتی کشمکش پک رہی ہے اور آنے والے وقت میں انقلابی تحریکوں کا ابھار نا گزیر ہے۔ اس خطے کے ممالک میں ان تحریکوں کی جڑت اس بین الاقوامی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جو نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ جنوب ایشیا اور پوری دنیا میں سوشلسٹ سماج کی بنیاد رکھے گا۔

متعلقہ:

دہلی سے آزادی کشمیر کی پکار!

’’بھارت بند‘‘