سوشلزم یا بربریت!

| تحریر: لال خان |

پہلے سے ہی خون اور بربادی میں ڈوبے کراچی کو فرقہ ورانہ قتل عام کی ایک اور کاروائی نے لہو لہان کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر آنے والے گن مین اسماعیلی افراد سے بھری بس میں گھس کر نہتے افراد کے سینے اور سر میں گولیاں مارنے لگے۔ بس میں سوار کل ساٹھ میں سے کم از کم 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ گلابی رنگ کی بس گولیوں سے چھلنی اور سیٹیں خون سے بھیگ گئیں جو دروازوں سے سڑک پر ٹپک رہا تھا۔ ایک زخمی خاتون نے ٹیلی وژن چینل کو فون پر بتایا کہ ’’جیسے ہی مسلح افراد بس میں داخل ہوئے ان میں سے ایک چلایا ’سب کو مار ڈالو!‘ پھر انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘‘ چھ مسلح افراد 9 ایم ایم پستولوں اور کلاشنکوف سے کئی منٹ تک معصوم لوگوں کو چھلنی کرنے کے بعد ’باحفاظت‘ فرار ہو گئے۔
terrorism national action plan police pakistan cartoonپورا سماج جیسے ایک بار پھر سکتے میں آ گیا ہے۔ دہشت گردی کا ایک اور حملہ، بے گناہ لوگوں کا ایک اور قتلِ عام، خون ریز فرقہ واریت کی ایک اور بہیمانہ کاروائی اور اس کے ساتھ ہی دولت مند حکمرانوں کی طرف سے ’مذمت‘ کا ایک اور سلسلہ… یہ سب ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ بوسیدہ سماج سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں تاراج ہے۔ ریاستی رٹ ناپید ہورہی ہے، بالائی ڈھانچے ٹوٹ رہے ہیں، دیوالیہ معیشت اور حکمرانوں کی لوٹ مار عوام کو بھوکا مارنے کے درپے ہے اور سماجی تانہ بانہ بکھر رہا ہے۔
درندگی کے ایسے واقعات معاشی تنگی، سماجی گھٹن اور ثقافتی زوال کے شکار عوام کے زخموں پر نمک انڈیل رہے ہیں۔ سرمایہ داری کے سماجی، معاشی اور ثقافتی جبرکے تحت انسانی تعلقات لالچ، ہوس اور بے گانگی سے زہر آلود ہوچکے ہیں۔ لیون ٹراٹسکی نے ایسی فسطائیت کو ’’سرمایہ داری کا عرق‘‘ قرار دیا تھا۔ خون ریزی پر بے حسی پورے سماج، بالخصوص کراچی میں بہت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ چار دہائیوں سے جاری دہشت کا تسلسل ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی پر مبنی زہریلے تعصبات اور جنون، ثقافتی پژمردگی کی پیداوار ہیں۔
’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ سے وابستہ گروپ ’جنداللہ‘ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے کئی دھڑے ’اسلامک اسٹیٹ‘ (دولتِ اسلامیہ) سے وفاداری کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ جنداللہ کے ترجمان احمد مروت کے رائٹرز کو بتایا کہ ’’قتل ہونے والے اسماعیلی تھے جو ہماری نظر میں کافر ہیں۔ ہمارے چار حملہ آور تھے۔ آنے والے دنوں میں ہم اسماعیلیوں، شیعوں اور عیسائیوں پر حملے کریں گے۔‘‘ بعد ازاں خود کو دولتِ اسلامیہ کا نمائندہ ظاہر کرنے والے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ذمہ داری قبول کی گئی۔ ’ دولتِ اسلامیہ خراسان‘ کے نام سے متحرک ٹوئٹر اکاؤنٹ کی جانب سے لکھا گیا کہ ’’خدا کا شکر ہے کراچی میں شیعہ اسماعیلی فرقے کے لوگوں سے بھری بس پر دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں کے حملے سے 45 افراد ہلاک اور30 کے قریب ذخمی ہو ئے۔‘‘ طالبان کے علاوہ پاکستان میں بکھرے ہوئے کئی بنیاد پرست گروہ دولتِ اسلامیہ سے الحاق کا اعلان کر رہے ہیں۔
میڈیا کی چیخ و پکار، سیاسی اشرافیہ کے شور شرابے اور حکمرانوں کی نئی ایجاد ’’جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم‘‘ (کیونکہ تفتیشی کمیٹی کی اصطلاح خاصی گھس پٹ گئی ہے) کے قیام کے بعد، عوام کی توجہ کسی نئے واقعے یا سکینڈل پر مرکوز کر دی جائے گی۔ حکمران اور بیمار سماج پر مسلط ان کی نااہل اور کرپٹ ریاستی افسر شاہی پھر سے بدنظمی اور اور عدم استحکام کے معمول کی جانب لوٹ جائیں گے۔ سطحی اور بے معنی تجزیے ہوں گے اور میڈیا مالکان اس واقعے کو اچانک یوں فراموش کریں گے جیسا کبھی ہوا ہی نہیں۔ اس ملک کو بربریت میں دھکیلتی مذہبی دہشت کی بیماری کا علاج تو درکنار، اس کا تجزیہ کرنے کے لیے بھی اس مرتے ہوئے معاشی، سماجی اور ریاستی نظام کو سمجھنا ضروری ہے جس پر یہ سماج قائم ہے۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد چین نواز اور ماسکو نواز بائیں بازو کے انہدام اور پیپلز پارٹی جیسی روایتی پارٹیوں کی مجبور عوام سے مکمل علیحدگی نے وسیع سیاسی خلا کو جنم لیا۔ درمیانے طبقے کی سیاست اور اسلامی بنیاد پرستی نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی، لیکن جزوی طور پر ہی کامیاب ہو سکے۔ اس سے زیادہ اہم عنصر سیاست سے لا تعلقی کا تھا جس کی وجہ محنت کش عوام کے سامنے حقیقی نمائندگی اور متبادل کی عدم موجودگی تھی۔ سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران کے ساتھ اضطراب اور عدم اطمینان بدتر ہوتے گئے۔ مذہبی سیاست سے لے کر گلی سڑی سوشل ڈیموکریسی تک، سیاسی افق پر موجود تمام سیاسی جماعتوں کا معاشی پروگرام سرمایہ داری ہی ہے۔ کالے دھن کی سرایت نے حاوی سیاست اور جرائم کے درمیان لکیر بہت ماند کر دی ہے۔
معاشی بحران اور سماجی جمود جب طوالت اختیار کر جائیں تو تعفن ناقابل برداشت ہو جاتا ہے اور زہریلے نظریات کو مادی بنیادیں میسر آتی ہیں۔ سماجی ’ شناخت‘ کے روایتی تصورات بھی ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ آبادی کے پسماندہ حصے، خاص کر نوجوانوں کی لمپن پرتیں مذہبی جنون کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ نظریات سے زیادہ ان کی قوت محرکہ مسخ شدہ نفسیات اور شناخت کی تلاش ہوتی ہے۔ ایسے عہد میں حکمران اشرافیہ اپنے نظام میں پے درپے پڑنے والی دراڑوں کو چھپانے کے لئے ’وائٹ واش‘ کرتی ہے اور محنت کشوں کی انقلابی تحریکوں کو ناقابل معافی گناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مختلف بنیاد پرست نیٹ ورکس کو کروڑوں اربوں روپے کی مالیاتی سپلائی کسی ’کار ثواب‘ کے لئے نہیں ہے۔ اس کالے دھن کے تعاقب میں مذہبی جنونیوں کے نئے گروہ ہر روز منظر عام پر آ رہے ہیں۔ یہ وحشی عناصر کالے دھن کے بلبوتے پر سماجی بے چینی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور شدید سماجی بیگانگی کے شکار افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس عمل کا حتمی نتیجہ نئے عفریتوں کی شکل میں برآمد ہوتا ہے جو اپنے آقاؤں کے قابو سے بھی باہر ہو جاتے ہیں۔ امریکی سامراج اور ریاست کے کچھ حصے، اپنا کیا ہوا ہی آج بھگت رہے ہیں۔
سامراجی قوتوں کی سرپرستی میں مختلف ریاستی دھڑوں کی دہائیوں کی ’محنت‘ کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ ریاست کے طاقتور حصے اپنے مالی، سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات کے لئے اسلامی بنیادپرستی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہوا دیتے رہے ہیں۔ یہ جن اب ’’مذاکرات‘‘، مذمت، پارلیمنٹ کی قرارداروں اور آپریشن کے ذریعے بوتل میں واپس جانے والا نہیں۔ بے قاعدہ باقاعدگی سے دہشت گردی کے اندوہناک واقعات کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
karachi pakistan terrorism cartoonحکمرانوں کے اپنے ہتھیار آج ’بیک فائر‘ کر رہے ہیں۔ ٍ ریاستی آقا اگرچہ بنیاد پرستی کے ناسور کو یکسر کچلنے کے لئے آج بھی ’مصلحت‘ اور تذبذب کا شکار ہیں لیکن ایسا کرنا بھی چاہیں تو کافی دیر ہو چکی ہے۔ جن قوتوں سے یہ برسر پیکار ہیں وہ سیاست اور ریاست میں بڑی گہرائی تک سرایت کر چکی ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت کا زہر سماج میں گھولنے والے دندناتے پھر رہے ہیں اور ایسے گروہوں کی سر عام پذیرائی کرنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ریاست کے اندر پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ برسر اقتدار نواز لیگ کا اپنا رویہ بھی بنیاد پرستوں کی طرف خاصا ’نرم‘ ہے۔ پاکستان کی سرمایہ داری کو مکمل انہدام سے بچانے والی کالی معیشت کا وسیع حصہ ان سیاہ رجعتی عناصر کے کنٹرول میں ہے۔ بربریت دروازے پر دستک نہیں دے رہی، سماج پر مسلط ہو چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت سماج کا یہی مقدر ہے۔
’’سوشلزم یا بربریت‘‘ کا نعرہ سب سے پہلے روزا لکسمبرگ نے اپنے ایک پمفلٹ میں پیش کیا تھا۔ مارکسزم کے بانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتی ہے کہ ’’فریڈرک اینگلز کے بقول سو سال بعد سرمایہ دارانہ سماج دوراہے پر کھڑا ہو گا۔ سوشلسٹ تبدیلی یا پھر بربریت میں تنزلی۔ اب تک ان الفاظ کی خوفناک سنجیدگی پر غور کئے بغیر ہم انہیں بے فکری سے دہراتے رہے ہیں۔ آج ہمارے پاس واقعی وہ دو راستے ہیں جنہیں فریڈرک اینگلز نے ایک نسل پہلے پرکھ لیا تھا: قدیم روم کی طرح تہذیب کا انہدام، وسیع آبادی کی موت، بربادی، انحطاط… یا پھر سوشلزم کی فتح۔‘‘ روز لکسمبرگ نے یہ الفاظ پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر لکھے تھے۔ آج ایک صدی بعد پاکستان جیسے ممالک میں، سماج اس دوراہے کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ بربریت کی غارت گری جتنی سنگین ہو چکی ہے، سوشلزم کی ضرورت اتنی ہی شدید ہے!

متعلقہ:

’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘کا مغالطہ

فوجی عدالتیں: دہشت سے وحشت کا علاج؟

خوف کا کاروبار

’’اچھے‘‘ اور برے طالبان کا ناسور

کہاں سے آتی ہے یہ کمک؟