کوئٹہ: پوسٹ آفس یونین کے انتخابات میں شاہین گروپ کامیاب

[رپورٹ: حسن جان]
ہفتہ 21 دسمبر 2013ء کو نیشنل آرگنائزیشن آف پوسٹل ایمپلائز(نوپ) کوئٹہ سٹی یونٹ کے انتخابات ہوئے جس میں شاہین پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ شاہین پینل نے 113جبکہ پھول پینل نے 26ووٹ حاصل کیے۔ شاہین پینل کے کامیاب ہونے والے اُمیدواروں میں حافظ محمد ایوب(آرگنائزر)، عنایت اللہ خان (چئیر مین)، محمد فاروق قلندرنی (وائس چئیر مین)، دوست محمد کاسی (صدر)، کامریڈ نذر مینگل (جنرل سیکر ٹری)، علی محمد شاہوانی (سینئر جوائنٹ سیکر ٹری)، شیر دل خان (جوائنٹ سیکر ٹری)، مصطفی مینگل (رابطہ سیکر ٹری)، محمد نثار خان ( سینئر نائب صدر )، محمد انور بازئی (نائب صدر)، محمد حنیف (سیکرٹری اطلاعات)، عزیز شاہ ( فنانس سیکرٹری)، حاجی نور محمد (آفس سیکر ٹری)، غلام مرتضیٰ ( آڈیٹرI)، طارق زہری (آڈیٹر II) شامل ہیں۔

کامریڈ نذر مینگل

یہ الیکشن کوئٹہ سٹی یونٹ کے کارکنوں کے لیے عظیم فتح ہے ۔ بر سر اقتدار قوتوں نے سب سے پہلے توالیکشن کرانے سے ہی اجتناب کئے رکھااور پرانی کابینہ کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن ان تاخیر ی حربوں سے کارکنوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس لیے شاہین پینل کے کارکنوں نے کامریڈ نذر مینگل کی قیادت میں الیکشن کرانے کے لیے جد وجہد شروع کر دی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے کوئٹہ سٹی کے تمام ڈاک خانوں کا دورہ کیا گیااور کارکنوں کو نئے الیکشن کے لیے ذہنی طور پر تیار کیاگیا۔ کارکنوں کے شدید دباؤ اور مطالبے پر صوبائی قیادت کو جھکنا پڑا اور انہیں مجبوراً الیکشن کا اعلان کر نا پڑا۔ ان بر سر اقتدار قوتوں کے مجرمانہ حربے یہیں پر ختم نہیں ہوتے ۔ جب الیکشن کا اعلان ہوا تو انہوں نے شاہین پینل کے نامزد امیدواروں اور کارکنوں کو ورغلانے کی بھر پور کوشش کی اور انہیں یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ کامریڈ نذر کو اپنے پینل سے نکال دیں تو وہ شاہین پینل کو بلامقابلہ کامیاب کرادیں گے لیکن کارکنوں نے اس مجرمانہ پیشکش کو ٹھکرا دیا اور واضح کیا کہ کامریڈ نذر کے بغیر وہ الیکشن کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد وہ ایک نام نہاد پھول پینل سامنے لے آئے۔ کارکنوں نے الیکشن کے دن بھاری اکثریت سے شاہین پینل کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ کامیابی کے بعد کارکنوں کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کامریڈ نذرمینگل نے کہا کہ آج موجودہ حکومت 68 قومی اداروں کو اپنے سامراجی آقاؤں کی ایما پر نجکاری میں دینے کا فیصلہ کر چکیہے۔ ایسے میں نجکاری کے خلاف جنگ صرف ایک ادارے کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے تمام محنت کشوں کی مشترکہ جنگ ہے جس کے لیے تمام محنت کشوں کو بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب اور قوم کے اکٹھا ہو کر اس نجکاری اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑنا ہوگا۔