خود اذیتی، خود کشی اور بیگانگی

| تحریر: لی سنگھ گل، تلخیص و ترجمہ: ارشد نذیر |
بی بی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ہسپتال میں بچوں کے کیسزکی تعداد گزشتہ پانچ سال میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر انفارمیشن سنٹر کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 2009-10ء کی نسبت 2013-14ء میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ایسے کیسز میں اضافے کا یہ تناسب بالترتیب 93 فیصد اور 45 فیصد بنتا ہے۔یہ اعداد و شمار آج کے نوجوان کی مایوسی کا انتہائی قابلِ مذمت اظہار ہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ بحران کے اس دور میں یہ سمندر میں موجود پہاڑ کا صرف سطحِ آب پر نظر آنے والا سرا ہے ۔ سماجی زوال کی شدت اس اظہار سے کہیں بڑھ کر ہے۔
depression-drinks_machineان اعداد و شمار کو سرمایہ دارانہ بحران کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہے۔ ہمیں 2008ء کے معاشی بحران، بڑھتی ہوئی بے یقینی اور عدم استحکام، بالخصوص اس کے محنت کشوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صرف اعداد و شمارکا جمع کرنا کافی نہیں ہے۔

خود اذیتی کے اسباب
ایک فرد کے خود اذیتی کی مائل ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک اہم وجہ جس پر اس قسم کی تحقیق کرنے والے تمام محققین متفق ہیں وہ یہ ہے کہ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اُن کا جسم اور ان کی زندگیوں پر ان پر مکمل کنٹرول ہے۔اس احساس میں کہ وہ اپنی زندگی اور اپنے اردگرد پھیلی دنیامیں کوئی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام ہیں، ایسے لوگوں کے پاس صرف ایک ہی ردِعمل باقی رہ جاتا ہے جس کا اظہار وہ اپنے ہی جسم پر کرتے ہیں۔یہ سوچ کہ اُن کا اپنے جسموں پر مکمل کنٹرول ہے، کچھ تبدیل نہ کرسکنے کی بے بسی اور انتہائی مایوسی کے جذبات کے وقت، انہیں اپنے اس غصے کے اظہار کا راستہ فراہم کرتی ہے ۔کاٹنا، جلانا، جسم کو نشہ آور ادویات کے ذریعے نقصان پہنچانا، مکے مار کر خود کو زخمی کرنایا پھر کسی اور طرح سے خود کو نقصان پہنچانا،یہ سب اسی مظہر کے نتائج ہیں۔ خود اذیتی کے اس عمل کو مایوسی اور تناؤ کی کیفیت سے نمٹنے کے لئے بھی اپنایا جاتا ہے۔ خود اذیتی کا یہ عمل جذباتی کرب سے نکلنے کا فوری ذریعہ بن جاتا ہے۔ خود اذیتی کامطلب درحقیقت مدد کی پکار ہے، ایسے افراد خود کو قتل نہیں کرنا چاہتے۔خود اذیتی کے بعد صحتیابی کے نفسیاتی عمل کا مشاہدہ اور تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ جوں جوں جسم زخموں سے صحت یاب ہوتا ہے تو فرد کو یہ احساس بھی ہونے لگتا ہے کہ انسان کو چاہے جیسے ہی مسائل کا سامنا کیوں نہ ہو ، وہ ان سے نبردآزما ہو سکتا ہے اور حالات بہتری کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

بیگانگی اور مایوسی
آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ، بالخصوص نوجوان اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہوئے خود کو دنیا سے الگ تھلگ کر لیتے ہیں اور خیال کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ کچھ تبدیلی لا سکتے ہیں تو وہ صرف اس قسم کی تخریبی سرگرمی ہی ہوسکتی ہے؟ایک ایسا سماج جس میں نوجوان نسل کے لئے امید کی کرن بھی ختم ہو رہی ہو، جس میں روزگار سکڑتا جا رہا ہو، اجرتیں کم ہوتی جا رہی ہوں اور یہ بھی عیاں ہو رہا ہوکہ سماج کے ہر پہلو پر بالائی طبقے کے ایک چھوٹے سے حصے کی خواہشات ہی غالب ہیں ، تو کیا ایسے میں بیگانگی اور ڈپریشن کے جذبات کا پیدا ہونا کوئی حیران کن بات ہے؟
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی 2015ء میں منظرِ عام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آخری عشرے کی نسبت خود اذیتی کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ سے باہر، یورپی یونین اور دوسرے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ سکول جانے والے بچوں کے متعلق کی جانے والے ایک تحقیق میں 15 سال کی عمر کے 22 فیصد بچوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ کسی نہ کسی وجہ سے خود اذیتی کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں سے 54 فیصد نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ مہینے میں ایک دفعہ ایسا کرتے رہے ہیں۔

سرمایہ داری اور بیگانگی
ایسا بحران زدہ نظام جس میں ہر طرف عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، فلاحی ریاست اور صحت کا نظام تباہ و برباد ہو رہا ہے، نیشنل ہیلتھ سروس (برطانیہ کا سرکاری نظام صحت) کی نجکاری کی جارہی ہے، اس نظام میں اس قسم کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ یقینی ہے۔ 1980ء کی دہائی میں مارگریٹ تھیچر کی جانب سے نجکاری کے ذریعے کان کنی کی صنعت کی تباہی سے اس شعبے سے alienation-ioana-harjoghe-ciubucciuوابستہ محنت کشوں کے علاقوں پر بہت بُرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ لاکھوں زندگیاں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں۔ اچھے معاشی حالات کے دنوں میں یہ لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں کا جو سماجی تانہ بانہ بنائے رکھتے تھے،وہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ 2008ء کے بعد صورتحال اس سے بھی بد تر ہے اور ہر شعبے کے محنت کشوں کو متاثر کر رہی ہے۔ فلاحی ریاست کی اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور اجرتوں کے مسلسل گرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ نے لوگوں کے لئے زندگی کی بقاکا مسئلہ پیدا کر دیا ہے جس کے سماجی نتائج بھی اپنا اظہار کر رہے ہیں۔ آنے والے سال اس سے بھی زیادہ تلخیاں لائیں گے۔

اعداد و شمار کی حدود
خود اذیتی سے متعلق دیئے گئے یہ اعداد و شمارجہاں بوکھلا دینے والے ہیں وہاں یہ پریشان کن اور مایوس کن بھی ہیں لیکن ان سے صورتحال کی مکمل تصویر کشی نہیں ہوتی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اُن لوگوں کے بارے میں پتہ دیتے ہیں جن میں نفسیاتی مرض شدید ہے یا پھر وہ جو ہسپتال پہنچ پاتے ہیں۔بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خود اذیتی کی صورت میں لگائے گئے ’زخم کی تعریف‘ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ یہ وضاحت کرتی ہے کہ لڑکے خود کو چوٹ لگا کر یا گھونسے مار کر ضرر پہنچانے کی طرف مائل ہوتے ہیں اورکچھ ہسپتال تو ایسے اقدام کو خود اذیتی میں شامل ہی نہیں کرتے۔کثرت شراب نوشی، منشیات سمیت بہت سے دوسرے ایسے طریقے بھی ہیں جو بالواسطہ طور پر خود کو اذیت پہنچانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے رویوں کو اعداد و شمار میں لائے جانے کا انحصار رپورٹ مرتب کرنے والے مخصوص اداروں پر ہوتا ہے آیا کہ وہ ایسے افعال کو خود اذیتی کے عمل میں شامل کرتے ہیں یا انہیں دوسرے انداز سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ اسی وجہ سے خود اذیتی سے متعلق پیش کردہ ان تمام اعداد و شمار کوصرف سماجی گراوٹ کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

خود اذیتی اور خود کشی
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ خود اذیتی مایوسی یا ڈپریشن کی صورتحال سے نبردآزماہونے کا ایک طریقہ ہے۔ کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو احساسِ بیگانگی میں ہی اپنی پناہ تلاش کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کا ہی خاتمہ کر لیتے ہیں۔
اگرچہ خود اذیتی اور خود کشی میں کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے لیکن ایک ایسی صورتحال جو ایک فرد کو خود اذیتی کی طرف کھینچ لیتی ہے تو وہی دوسرے کو خود کشی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ 2008ء کے بعد سے خوداذیتی کے واقعات کی ہی طرح خود کشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
2013ء میں برطانیہ کے طبی جریدے کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی معاشی بحران اور خودکشی کے درمیان براہِ راست تعلق پایا جاتا ہے۔ اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کا کہنا تھا کہ ’’2008ء کے معاشی بحران کے بعدجب یورپی ممالک اور امریکہ میں تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ خود کشی کرنے والوں میں مرد حضرات، اور وہ بھی ایسے مرد جن کا روزگار چلا گیا تھا، کا تناسب زیاد ہ تھا۔‘‘ اس جریدے نے 2008ء کے بحران کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے 54 ممالک کے اعداد و شمار جمع کئے ۔ بحران کے فوری بعد کے سال میں مردوں کی خود کشی کی شرح میں مجموعی طور پر 3.3 فیصد اضافہ ہوا۔بعد کے سالوں میں، وقت کے ساتھ بحران کے گہرا ہونے سے خود کشی کی شرح میں ہونے والا اضافہ کہیں زیادہ ہے۔سمارٹین کے ایک نمائندے نے اِن اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ معاشی بحران اور افراطِ زر کے عرصہ میں خود کشی کی شرح بڑھ جاتی ہے تو ہمیں اس پر کوئی حیرت نہیں ہوتی۔‘‘
creative_self_harm-1330467257lآکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن نے 24 یورپی ممالک، کینیڈا اور امریکہ میں جمع کردہ اعداد و شمار پر رپورٹ مرتب کی ہے جس کے مطابق ’’2007ء تک یورپی ممالک میں خودکشی کی شرح کم رہی۔ 2009ء میں اس میں 6.5 فیصد تک اضافہ ہو گیااور 2011ء تک یہ شرح برقرار رہی۔ کینیڈا میں بھی خود کشی سے اموات کی شرح کم ہو رہی تھی لیکن 2008ء کی معاشی زوال پذیری کے بعد اس میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا، یعنی 250 سالانہ اموات بڑھ گئیں۔ امریکہ میں اپنی جان لینے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی تھی تاہم اس معاشی بحران کے بعد اس کی رفتار میں مزید اضافہ ہوا جس کے سبب سے 4750 اضافی اموات ہونے لگیں۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے اپنی 10 سال کی تحقیق۱ور جمع کئے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ ہر 40 سیکنڈ میں دنیا میں کہیں نہ کہیں خود کشی کا واقعہ ہو جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق:
* ہر سال تقریباً 800,000 لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔
* 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں موت کی دوسری بڑی وجہ یہی ہے۔
* 70 سال سے زائد عمر کے لوگ بھی اپنی جان لے سکتے ہیں۔
* ان میں سے ایک تہائی اموات متوسط اور کم آمدنی والے ممالک میں ہو رہی ہیں۔
* امیر ممالک میں عورتوں کی نسبت مردوں کی خود کشی کی شرح تین گنا زیادہ ہے۔

انقلاب ہی واحد راستہ ہے!
سرمایہ دارانہ نظام صرف معاشی طور پر ہی نہیں، سیاسی اور سماجی طور پر بھی دیوالیہ ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس عروج پر جہاں ہر انسان کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں، یہ نظام نسل انسان کو محرومی اور ذلت کے ہاتھوں قتل کر رہا ہے۔محنت کشوں کی اجتماعی طاقت کے ذریعے سے ہی عوام ظلم و جبر اور استحصال کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں اور معیشت کو اپنے جمہوری کنٹرول میں لے سکتے ہیں۔اسی طریقے سے ہی ہم بلند معیار پر سماج کی تعمیر نو کر سکتے ہیں ۔ تنخواہوں میں کٹوتیاں کئے بغیر کام کرنے کے اوقاتِ کار کو پہلے مرحلے میں ہی کم کر کے فی ہفتہ 25 گھنٹے تک لایا جا سکتا ہے۔ بیروزگاری کو چند ہفتوں میں یکسر ختم کیا جاسکتا ہے۔اوقات کار میں کمی سے لوگوں کو وہ وقت بھی میسر آسکتا ہے جو سیاسی اور جمہوری عمل میں شرکت کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ ایسے سماج کے قیام کے بعد پہلی بار ایسا ہو گا کہ لوگ جس دنیا میں رہ رہے ہیں، خود کو اس سے بیگانہ تصورنہیں کریں گے بلکہ اس میں ترقی اور تبدیلی کے مؤثر کارکن کے طور پر سامنے آئیں گے۔ منافع کا عنصر ختم کرکے تعمیرات، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے دیگر منصوبوں کے لئے بے پناہ دولت میسر آئے گی۔ ایسے سماج میں کوئی انسان بے آسرا، محروم یا بیکار نہیں رہے گا بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی تکمیل کرے گا۔سوشلسٹ سماج میں بیگانگی، ڈپریشن ، ذہنی دباؤ، خود اذیتی اور خود کشی جیسے مسائل قصہ ماضی ہو جائیں گے۔

متعلقہ:

پہچان کے مغالطے

نوجوان کی حالت زار اور مستقبل؟

بدلتے رشتے