یورپ: تارکین وطن کو خوش آمدید!

| تحریر: عالمی مارکسی رجحان، ترجمہ: حسن جان |

مہاجرین کا حالیہ بحران سرمایہ دارانہ سماج کی وحشتوں اور عام محنت کشوں کی بنیادی انسانی ہمدردی اور یورپ اور دوسری جگہوں کے سرمایہ دارانہ حکمرانوں کی بے رحم ترجیحات اور لاپرواہی کے درمیان تضاد کو بھی سامنے لایا ہے۔

’’سرمایہ دارانہ سماج ہمیشہ سے نا ختم ہونے والی وحشت ہے۔‘‘ (لینن)

4331-1vw8o0z - Copyخانہ جنگی، بھوک اور تباہی کی وحشتوں سے بھاگ کر سمندر یا لاریوں میں مرتے اور خار دار تاروں، فساد شکن پولیس، حراستی مراکز اور زبردستی بے دخلی کا سامنا کرتے ہوئے مردوں، عورتوں اور بچوں کی تصویروں نے کروڑوں لوگوں کو سکتے میں ڈال دیا ہے اور وہ ان حالات کی وجوہات اور ان کے حل کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم سب سے پہلے اس بحران کی وجوہات کو تلاش کریں ۔ مہاجرین ان ممالک کو ترک کر رہے ہیں جو خانہ جنگی کی زد میں ہیں۔ یونان اور پھر ہنگری جانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد شام، افغانستان اور کوسووہ سے ہے۔ ان ممالک کے حالات کے ذمہ دار سامراجی جنگ اور مداخلتیں ہیں۔
شام میں عوامی بغاوت کی شکست اور پھر اس کی رجعتی فرقہ وارانہ بغاوت میں تبدیل ہونے کی وجہ خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب، بڑی سامراجی طاقتوں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی شام میں مداخلت ہے۔ داعش کا ابھار براہ راست عراق پر سامراجی حملے کا نتیجہ ہے۔ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی وجوہات بھی سامراجی جنگ اور اس سے بڑھ کر رجعتی مجاہدین کی امریکی اور سعودی حمایت اور کمک ہے۔ کوسووہ کی موجودہ حالت یوگوسلاویہ کی رجعتی تقسیم کا نتیجہ ہے جسے بیس سال پہلے جرمنی میں سامراجی مداخلت کے ذریعے انجام دیا گیا۔
اس حالت کی ذمہ داری سامراج پر ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو دربدر کردیا لیکن اب وہ نتائج کو قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔
نام نہاد ’’انسانی‘‘ بنیادوں پر لیبیا پر بمباری سے ملک میں ریاستی ڈھانچہ منہدم ہوا اور ملک کے بڑے حصے پر رجعتی اسلامی بنیاد پرست مسلط ہیں۔ قذافی کی حکومت جابر تھی۔ اس نے مراعات کے بدلے میں مہاجرین کو یورپ سے دور رکھنے کی پالیسی کا ساتھ دیتے ہوئے سب سہارن افریقی مہاجرین کو حراستی مراکز میں بھیانک حالات میں قید رکھا۔ تاہم مارکسسٹوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ قذافی کو اکھاڑ پھینکنے کا فریضہ لیبیا کے محنت کشوں کا ہے۔جہاں کہیں بھی اس طرح کی حکومتوں کو سامراجی مداخلت کے ذریعے ہٹایا گیا وہاں ’’جدید جمہوری حکومتیں‘‘ بننے کی بجائے بربریت نے جنم لیا۔ ان حالات میں قذافی کی حکومت کے انہدام سے رجعتی قوتوں کو ابھرنے کا موقع ملا اور ملک کے حصے بخرے ہوئے جس سے نزدیک کے اطالوی جزیروں کی طرف راستہ کھل گیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مہاجرین اور تارکین وطن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ دونوں اپنے اپنے ملکوں میں سرمایہ داری کی نافذ کردہ وحشتوں سے بھاگ رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ صرف خانہ جنگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جار رہے ہوں جبکہ باقی سامراجی استحصال کے نتیجے میں جنم لینے والی بھوک اور محرومی سے بھاگ رہے ہیں، اکثر اوقات دونوں کی وجہ سے، جنگ کی وجہ سے جنم لینے والی بھوک اور محرومی، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے سر پر چھت اور کھانا کھانے کا حق۔
Tragedy of immigration to Europe Middle East Eyeیورپی یونین کا رد عمل پہلے اور آج بھی مزید دیواریں کھڑی کرنا اور بھوکے اور خوف زدہ لوگوں کے داخلے کو روکنے کے جدید نظام بنا نا ہے۔ یورپی یونین نے پندرہ سالوں میں مہاجرین کو روکنے کے لیے جسمانی اور معاشی رکاوٹیں بنانے کے لیے 1.6 اَرب یورو خرچ کیا ہے۔ ان پرکشش ٹھیکوں کی اکثریت سے چار بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں (ائر بس، تھیلس، بی اے ای، فن میکانیا) نے فائدہ اٹھایا ہے ۔ یہ سب دنیا کی دس بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سے ہیں ۔ اسی عرصے میں یورپی یونین اور شنجن ممالک نے مرکزی طور پر مربوط بے دخلیوں پر گیارہ اَرب یورو خرچ کیے (جو کل تعداد کا انتہائی کم حصہ ہے)۔ یورپی سرمایہ دار دیوار برلن کو گرانے پر فخر کرتے ہیں جبکہ وہ خود سبتہ اور میلیلا، سربیا، بلغاریہ اور اب ہنگری میں دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہیں۔ غیر یورپی یونین ممالک میں حراستی مراکز پر بھی بڑی رقم خرچ کی جارہی ہے۔
یورپ سے باہر رکھنے کی اسی پالیسی کی وجہ سے لاکھوں تارکین وطن اور مہاجرین انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں تاکہ غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہوسکیں۔ یہ بہت پرکشش کاروبار ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق مہاجرین نے پچھلے پندرہ سالوں میں یورپ میں داخل ہونے کے لیے سالانہ ایک اَرب یورو ادا کیے ہیں۔ تیس ہزار لوگ مر گئے۔ بحیرۂ روم میں صرف اس سال ڈھائی ہزار لوگ ڈوب گئے۔ یورپ جتنی اپنی سرحدوں کو مضبوط بنائے گا، راستے اور یورپ میں داخلہ اتناہی خطرنا ک ہوجائے گا۔ سرمایہ دارانہ میڈیا انسانی سمگلروں کو کوستے ہیں جیسے صرف وہیں تمام تر مسئلوں کی جڑ ہیں۔ یہ لوگ یقیناًبے رحم جرائم پیشہ لوگ ہیں جن کے سامنے انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہیں اور صرف اپنے منافعوں سے سروکار رکھتے ہیں۔ انسانی سمگلر مہاجرین پیدا نہیں کرتے۔ نہ ہی وہ تارکین وطن کو ترقی یافتہ ممالک میں جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ صرف موجودہ مہاجرین کی نقل و حرکت اور یورپ کی ان کو روکنے کے لیے زیادہ بلند اور ناقابل نفوذ دیواریں کھڑی کرنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سرمایہ دار سیاست دانوں کا حقیقی رویہ کیمرون کی پچھلے سال دیئے گئے بیان سے ہوتا ہے جب اس نے کہا کہ بحیرۂ روم میں تلاش اور بچاؤ کی مہم کو روک دینا چاہیے کیونکہ اس سے مزید تارکین وطن کی خطرناک سمندری راستوں پر جانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پرانی اطالوی تلاش اور بچاؤ کی مہم کی جگہ فرنٹیکس کے زیر اہتمام ’’ٹریٹون ‘‘ مہم نے لے لی جس کاکام صرف ساحل کی حفاظت کرنا ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ سرمایہ دار درحقیقت ترک وطن کے خلاف ہیں۔ سرمایہ دارانہ کمپنیوں کی نظر میں تارکین وطن مزدور بہت کارآمد ہوتے ہیں ۔ ایک طرف سے یہ نہایت ہنر مند مزدور فراہم کرتے ہیں جنہیں تربیت دینے کے لیے کسی خرچے کی ضرورت نہیں اور دوسری طرف سے یہ سستی غیر قانونی لیبر فراہم کرتی ہے جس سے حکمران طبقے کا ایک حصہ قانون توڑ کر استفادہ کرتا ہے اور عمومی طور اجرتوں کو نچلی سطح پر لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے حکمران طبقے کے ہاتھ میں قربانی کا بکرا بھی آجاتا ہے جنہیں وہ عوامی خدمات میں کٹوتیوں، گھروں کی کمی وغیرہ کی وجہ قرار دیتے ہیں جبکہ یہ سب سرمایہ دارانہ بحران اور حکمران طبقے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے تاکہ مزدور ان کی قیمت ادا کریں۔ مزدور تحریک کو محنت کش طبقے کے اتحاد کی ایک واضح پالیسی اورسب کے لیے اچھے حالات اور اچھی ملازمت کے لیے جد وجہد کے ذریعے اس کے خلاف لڑنا چاہیے۔
ss-140924-syria-turkey-refugees-mn-01_48671ca8245dfd1e1cb76f76e79279f7دراصل مہاجرین کا موجودہ بحران یورپی یونین میں پناہ لینے والوں کی تعداد سے متعلق نہیں ہے۔ جرمنی کو سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور یہ تعداد 1990ء کی دہائی میں یوگوسلاویہ کی تقسیم کے وقت کی تعداد سے کم ہے۔ یہ بحران یورپی یونین کے مختلف ’’شراکت داروں‘‘ کے درمیان جھگڑے سے شروع ہوا کہ سیاسی اور معاشی طور پر بِل کون بھرے گا۔ یہ یورپی یونین کے بحران میں ایک اور کڑی ہے۔
یونان اور اٹلی سمندر کو عبور کرنے کے بعد تارکین وطن اور مہاجرین کا پہلا ٹھکانہ ہے۔ یورپی یونین کے دوسرے ممالک یہاں تک خوش ہیں۔ موجودہ ’’بحران ‘‘ اس وقت شروع ہواجب تارکین وطن منظم ہوئے اور زبر دستی سرحد کو عبور کرکے مقدونیہ، سربیہ اور ہنگری میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے جرمنی اور سویڈن جانے کی کوشش کی، یہ دو ممالک پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔ (مطلق تعداد کے حوالے سے جرمنی اور اپنی آبادی کے تناسب سے سویڈن کو سب سے زیادہ موصول ہوئے)
جرمنی میں مرکل کو تارکین وطن کے مسئلے کی وجہ سے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے اور وہ دوسرے ممالک کو اپنا ’’جائز حصہ‘‘ لینے کی بات کر رہی ہے۔ برطانوی حکومت کا رد عمل یہ تھا کہ وہ ’’ایک بھی نہیں لے گا لیکن اگر دباؤ بڑھا تو وہ اس تعداد کو دگنا کرے گا۔‘‘ یورپ میں دائیں بازو کی حکومتوں کو ہر جگہ دائیں بازو کی تنظیموں کے دباؤ کا سامنا ہے جو سخت نسل پرست، تارکین وطن مخالف اور قوم پرست نظریات رکھتے ہیں ۔ دراصل یہ لوگ محنت کش طبقے کی اکثریت کی سوچوں کی عکاسی نہیں کرتے اور ان کی کسی حد تک حمایت بھی حکمران طبقے اور سرمایہ دارانہ میڈیا کی وجہ سے ہے لیکن سب سے بڑھ کر مزدور تحریک کی تنظیموں (سیاسی اور ٹریڈ یونین) کے رہنماؤں کی غیر سرگرمی کی وجہ سے ہے ۔
حالیہ دنوں میں اس کے بر عکس دیکھنے میں آیا ہے؛ مہاجرین سے یکجہتی اور عملی کمک۔ یونان میں چھٹیاں منانے والوں اور جزیروں کے باسیوں نے خود ترکی سے آنے والے مہاجرین کی مدد کی۔ سابقہ یوگوسلاویہ کے لوگ اپنی تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے بلغراد اور دوسرے شہروں میں مہاجرین کی مدد کو نکل آئے ۔ حتیٰ کہ رجعتیت کی زد میں آئے ہنگری میں رضاکاروں کی بڑی تعدادنے بڈاپسٹ کے بڑے ریلو ے سٹیشن میں مہاجرین کی مدد کی اور ہزاروں لوگوں نے اوربان کی رجعتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے۔ آسٹریا اور جرمنی میں فٹبال سٹیڈیمز میں مہاجرین کے حق میں بینرز آویزاں کیے گئے۔خاص طور پر آسٹریا میں تحریک سب سے زیادہ مضبوط تھی جہاں ویانا میں تیس ہزار لوگوں نے مارچ کیا اور بعد میں ٹرینوں کے ذریعے پہنچنے والے مہاجرین کے لیے عملی کمک کے انتظامات کیے ۔ اب جبکہ ہنگری کے حکام نے ان ٹرینوں کا راستہ بند کر دیا ہے، آسٹریا ئی رضاکاروں نے گاڑیوں اور کوچوں کا انتظام کیا ہے جو جا کر مہاجرین کو لے آتے ہیں۔
refugees welcome in  europeسپین میں رجعتی پی پی حکومت کی بے عملی کو دیکھتے ہوئے بارسلونا کی لوکل کونسل، جو نومنتخب پاپولر یونٹی کے زیر انتظام ہے، نے مہاجرین کا استقبال کرنے کا انتظام کیا ہے۔ کونسل کی اپیل پر عوامی رد عمل میں سینکڑوں لوگوں نے مدد کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ اس سے مہاجرین کا استقبال کرنے والے لوکل کونسلوں کے ایک نیٹ ورک نے جنم لیا ہے۔
برطانیہ میں 12 ستمبر کو ہونے والے مظاہرے میں تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ پورے ملک میں اسی طرح کے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ صرف چند دنوں میں ہی برطانیہ سے زیادہ مہاجرین لینے کے مطالبے کے سرکاری پیٹیشن نے چار لاکھ دستخط اکٹھے کیے ہیں۔
ہرجگہ یہ اول درجے کا ایک سیاسی معاملہ بنا ہوا ہے۔ یہ یقیناًسوشل میڈیا پر پچھلے دنوں گردش کرنے والی تصویروں کے رد عمل میں ہے جس میں بچوں کی لاشیں ترکی کے ساحل پر پڑی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں اور آسٹریا میں 71 لوگ جو ایک لاری میں دم گھٹ کر مرگئے تھے۔
بات کچھ اور بھی ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی تحریک بورژوا سیاست دانوں اور سرمایہ دارانہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف عدم اعتمادی اور مخالفت کے اس گہرے اور زیادہ عمومی رجحان کا حصہ ہے جو ہم نے پوری دنیا میں دیکھا ہے۔ یہ سپین میں پوڈیموس کے ابھار، برطانیہ میں کوربن مہم کے گہرے اثرات اور حالیہ عرصے میں کٹوتی مخالف احتجاجوں کے مظاہرے ہی کا حصہ ہے۔
ہجرت اور مہاجرین کے مسئلے کے گرد ابھرنے والی اس تحریک میں یہ طاقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے۔اس کے آگے بڑھنے کے لیے دو چیزیں لازمی ہیں۔
پہلا یہ کہ محنت کش طبقے کی پوری طاقت اور اس کی تنظیموں کو متحرک کیا جائے۔ ٹریڈ یونینز کے پاس سنجیدہ بنیادوں پر عملی یکجہتی منظم کرنے کے لیے افراد اور ذرائع موجود ہیں۔ جن ٹرینوں کو ابھی بند کیا گیا ہے ان کو چلانے والے بھی محنت کش ہیں اور بے دخلی کے لیے استعمال ہونے والے جہاز کو چلانے والے بھی محنت کش ہیں۔ یقیناً سرکاری تنظیمیں انتہائی افسر شاہانہ ہیں لیکن ان کی بے عملی کو کام نہ کرنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے ۔ تحریک نے پہلے ہی اپنی طرز کی تنظیمیں اور رابطے کے نیٹ ورک تشکیل دیئے ہیں۔ پھر بھی تحریک کو آگے لے جانے کے لیے ایک شعوری کوشش کی ضرورت ہے تاکہ ہر سطح پر محنت کش طبقے کو شامل کیا جائے۔
دوسرا، سیاسی استدلال کو واضح اور نفیس ہونا چاہیے۔ بنیادی انسانی یکجہتی کی جبلت سے بات کا آغاز کرنا اچھا ہے لیکن ہمیں نسل پرست سرمایہ دارانہ میڈیا کے سوالات کا واضح جواب دینا چاہیے کہ کون اس کا خمیازہ بھگتے گا؟ ہمیں اس بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ حکمران طبقے نے ترک وطن اور تارکین کے مسئلے کو محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے اور وحشیانہ کٹوتیوں کے نفاذ کو تارکین وطن پر ڈالنے کی ہمیشہ سے کوشش کی ہے اور کرتی رہے گی۔ ہم کہتے ہیں نہیں! ہم تارکین وطن کو خوش آمدید کہتے ہیں اور سرمایہ داروں، بینکروں اور اسلحہ سازوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ اگر وہ بینکوں کو بیل آؤٹ کرنے کے لیے کھربوں یورو خرچ کرسکتے ہیں تو مہاجرین اور تارکین وطن کو لینے کے لیے اربوں یورو کیوں خرچ نہیں کرسکتے؟
ان کو گھر، سکول اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ ایک اچھا آغاز یہ ہوگا کہ ان ممالک میں جنگوں (بعض اوقات حکومتوں نے ٹھیکوں کی یقین دہانی کرائی) سے لاامتناہی منافع کمانے والی اسلحہ ساز کمپنیوں پر ٹیکس لگایا جائے ۔ ہاؤسنگ کے بلبلے کے پھٹنے سے خالی ہونے والے تمام گھروں کو بغیر معاوضے کے ضبط کیا جائے اور مہاجرین اور مقامی بے گھر لوگوں کو ان میں بسایا جائے۔ اس طرح کے اقدامات واضح طور پر اس سوال کو سامنے لائے گا: سرمایہ داروں کو اپنی سامراجی جنگوں اور سامراجی استحصالی پالیسیوں کے نتائج کو بھگتنا ہوگا ۔
Carlos Latuff Gulf States reaction to refugees and rebelsپورے یورپ میں مہاجرین کی طرف عام محنت کشوں کی یکجہتی ان تمام منافقوں اور دائیں بازو کے نظریہ دانوں کو جواب ہے جو محنت کش طبقے کو لالچی اور حریص تصور کرتے ہیں۔ محنت کش بے وقوف نہیں ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ اس انسانی المیہ کا ذمہ دار کون ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ کس پر انگلی اٹھانی چاہیے۔ وہ ایک نظام کے واضح تضادات کو دیکھ سکتے ہیں جس کے پاس عراق میں فوجی مداخلت اور شام پر بمباری کے لیے اربوں ڈالر موجود ہیں لیکن پھر وہ یہ بہانہ پیش کر تے ہیں کہ ان جنگوں کی وجہ سے دربدر ہونے والے لوگوں کی مدد کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
مزدور تحریک اور اس کی تنظیموں کوپورے یورپ میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجوہات کو بھی بتانا چاہیے جہاں مزدوروں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی زندگی کے حالات میں ایک ڈرامائی ابتری آئی ہے جس میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور پینشنوں اور اجرتوں میں کٹوتیا ں ہورہی ہیں۔ اگر وہ نہیں کریں گے تو دائیں بازو کے رجعتی اس مسئلے کے ذریعے یورپ کے غریبوں کو آنے والے مہاجرین کے ساتھ لڑائیں گے۔ حکمران طبقات اسے محنت کشوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ ہمیں انہیں یہ کام نہیں کرنے دینا چاہیے۔
آخری تجزیے میں سماج میں اتنے وسائل موجود ہیں کہ جنگ، محرومی، بھوک اور استحصال سے بھاگنے والوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ جدید ترین اعداد وشمار دکھاتے ہیں کہ پورے یورپ میں گیارہ ملین گھر خالی پڑے ہیں۔ یہ یورپ کے غریب اور بے گھر افراد ا ور مہاجرین کے لیے قابل دسترس سستے گھر فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ سوال ’’مقامی یا مہاجرین‘‘ کے لیے گھر کا نہیں ہے۔
لاکھوں لوگوں کی بھوک، ہزاروں لوگوں کی قابل علاج بیماریوں سے مرنے اور لاکھوں لوگوں کی بنیادی سہولیات، صحت اور تعلیم سے محرومی کی وجہ مہاجرین اور تارکین وطن نہیں ہیں۔ نجی منافع خوری کا نظام اس کا ذمہ دار ہے۔ان تمام مسائل کے حل کے لیے دنیا میں کافی وسائل موجود ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی اجارہ داریوں کی محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں ضبطگی سے یہ چند غیر منتخب طفیلیوں کے نجی منافعوں کی بجائے پورے سماج کی خدمت میں لگ جائیں گے۔
TS-DV2063813عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا بحران بہت سی مقامی جنگوں اور خانہ جنگیوں کی وجہ ہے۔ چند مہا امیروں کے لیے جنگ وحشتناک حد تک منافع بخش ہے۔ عوام کے لیے یہ بھیانک تباہی لاتی ہے۔ جب تک سرمایہ داری ہے اس وقت تک اس بربادی کا کوئی انت نہیں ہے۔ عالمی سطح پر تمام ممالک کے محنت کشوں کی سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے کی عالمی جد وجہد اور عالمی سوشلزم کے لیے یہ ایک طاقتور دلیل ہے۔

متعلقہ:

اپنے ہوئے پرائے!