سانحہ پشاور: ریاستی موقف اور حقیقت

[تحریر: نعمان خان]
پاکستان میں محنت کش عوام کو شاید ہی کوئی ایسا دن دیکھنے کو ملا ہو، جو ان کے غموں کو کم کرسکے۔ لیکن 16 دسمبر جیسا ہولنا ک واقعہ شاید ہی انسانی تاریخ نے کبھی دیکھا ہو کہ جس نے پوری دنیا کو لرزا کے رکھ دیا ہے۔ اس روز بھی حسب معمول ماؤں نے اپنے لخت جگر علم حاصل کرنے کے لیے سکول بھیجے تھے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ بچے کبھی واپس نہیں آئینگے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کینٹ میں ورسک روڈ پر واقع ہے جہاں عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم پھول جیسے بچوں کو چھلنی کردیا، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کرسیوں کے نیچے چھپے ہوئے طلبہ کو بھی نکال نکال کر سروں پر گولیا ں ماری گئیں۔ 40 کے قریب بچوں کو ذبح کیاگیااور اساتذہ کو جلایا بھی گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق 132 طلبہ اور سکو ل سٹاف سمیت 141 افرا د شہید ہوئے جبکہ 100 سے زائد طلبہ اور سکول انتظامیہ کے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن کئی عینی شاہدین کے مطابق مرنے والے اور زخمیوں کی تعداداس سے کئی گنازیادہ ہے۔ سفاک درندوں کے ہاتھ تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اس بربریت پر شاید ہلاکو خان اور چنگیز خان کی درندگی بھی شرمندہ ہو جائے۔

مکتب بھی بنے مقتل، میرے و طن کے
اب ڈگری شہادت کی ملتی ہے یہا ں سے
ہر طرف ہی بکھرے ہیں جگر گوشوں کے ٹکڑے
کھوئے ہوئے بیٹے مائیں ڈ ھونڈے کہاں سے؟

اگر دیکھا جائے تو پشاور کا شمار دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں ہوتا ہے۔ پورا پختونخواہ ہی لہو لہان ہے۔ ہر سانحے کے بعد حکمران طبقہ اور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے عوام کے ’’نمائندگان‘‘ کچھ حرکت میں آتے ہیں، یہ حرکت دکھاوے کی حرکتوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ اجلاس ہوتے ہیں، مذمتی بیان جاری ہوتے ہیں۔ واقعہ بڑا ہو تو شعلہ بیانیاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور مرجانے والوں کے لواحقین کا معاوضہ بھی۔ پھر اسی معاوضے کے پیچھے غریب لواحقین کو سرکاری دفاتر اور بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ لمبی قطاروں میں ذلیل و رسوا ہو کر حکمرانوں کی دی ہوئی بھیک کبھی ملتی ہے تو کبھی نہیں۔ میڈیا شور مچاتا ہے، ریٹنگ بڑھاتا ہے اور پھر چنددن گزر جانے پر اس واقعے کو کسی نان ایشو کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ آج تک دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی مالی بنیادوں اور ریاستی پشت پناہوں پر بات ہوئی ہے نہ اس نظام میں ہوسکتی ہے۔ ایندھن کی سپلائی جاری رہے تو آگ بھی بھڑکتی رہے گی، چاہے کتنا ہی پانی ڈال لیا جائے۔

میڈیا پر جن دہشت گردوں کی تصاویر دکھائی جاتی رہیں وہ 3 دسمبر کو اورکزئی ایجنسی میں ہلاک ہوئے تھے

پشاور کا یہ سانحہ سیکورٹی اداروں اور دو درجن سے زائد خفیہ ایجنسیوں کے منہ پر بھی طمانچہ ہے کہ کینٹ جیسے فوجی علاقے میں جہاں اگر کوئی عام آدمی داخل ہو بھی جائے تو ناکوں پر تلاشی دے دے کر ذلیل ہو جاتا ہے۔ لیکن بھاری بھرکم ہتھیاروں، بموں اور خود کش جیکٹوں سمیت درجن سے زائد دہشت گرد کینٹ اور پھر سکول میں داخل ہوئے اور گھنٹوں تک معصوم بچوں پر نشانہ بازی کرتے رہے۔ دنیا کی ’’نمبر ون‘‘ ایجنسی اس وقت کیا کررہی تھی؟ واقعے کے دوران اور بعد میں ISPR اور میڈیا مسلسل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔ میڈیا پر مرنے والے دہشت گردوں کی شائع کی جانے والی تصاویر کا پول سوشل میڈیا پر کھل گیا۔ جن دہشت گردوں کی لاشیں دکھائی جارہی تھیں وہ 16 دسمبر کو پشاور میں نہیں بلکہ اورکزئی ایجنسی میں 3 دسمبر کو ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں ISPR نے وضاحت جاری کی کہ یہ تصاویر ہم نے شائع نہیں کیں لیکن کئی دن تک یہ تصاویر جب میڈیا چلا رہا تھا تب یہ وضاحت کیوں پیش نہ کی گئی؟ اسی طرح دہشت گردوں کے حملے کے دس منٹ بعد ہی فوج کے پہنچنے اور حالات کو ’’کنٹرول‘‘ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا جبکہ بعد ازاں پتا چلا کہ دہشت گردوں نے تمام بچوں کو مارنے کے بعد اپنے کسی کمانڈر سے فون پر رابطہ کر کے پوچھا کہ ’’ہم نے تمام بچوں کو مار دیا ہے، اب کیا کریں؟‘‘، جس کا جواب ملا کہ اب فوج کا انتظار کرو، یعنی فوج سے لڑائی اس وقت تک شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ یہ کیسا’’کامیاب آپریشن ‘‘تھا؟عوام کو مزید بتایا گیا کہ تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ بعد میں شائع ہونے والی حتمی رپورٹ کے مطابق چار دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ISPR کی جانب سے کہا گیا کہ دہشت گرد فوجی وردی میں ملبوث ہوکر سکول کی عمارت میں داخل ہوئے تھے، بچ جانے والے بچوں کے مطابق ان کے کپڑے سفیدتھے اور کچھ کے مطابق انہوں نے نیلی وردی پہنی ہوئی تھی۔ دال میں کچھ کالا نہیں یہاں ساری دال ہی کالی ہے۔ ریاستی نمائندوں کا ہر بیان ہی پچھلے بیان سے متضاد ہوتا ہے، کس والے پر یقین کیا جائے؟ یہ کھلواڑ عرصے سے جاری ہے اور اس نظام میں جاری رہے گا۔ آاس اندوہناک واقعے کے بعد طبقاتی نظام نے ایک اور مثال بھی قائم کی۔ زخمی ہونیو الے جن بچوں کے والدین فوج میں تھے، یا کچھ اثر رسوخ والے تھے، ان کو CMH پہنچایا گیا جہاں جدید سہولیات کی مدد سے ان کی جان بچائی گئی۔ غریب گھرانوں کے بچوں کو مقامی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ پہنچایا گیا جہاں بیک وقت اتنے مریضوں کی دیکھ بھال کی گنجائش ہی موجود نہیں تھی۔ کئی جانیں فوری اور مناسب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے چلی گئیں۔ جو بچ گئے کیا وہ اس نفسیاتی جھٹکے کے بعد ساری زندگی ایک نارمل انسان کی طرح گزار پائیں گے؟
ٓآرمی سکول پر حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخواہ میں بے شمار سکو ل بم دھماکوں سے اڑائے گئے ہیں اور بنیاد پر ستوں کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط بھی پھینکے جاتے ہیں۔ ’عالمی اتحاد برائے تحفظ تعلیم‘ کی رپورٹ کے مطابق 2009ء سے 2012ء کے درمیان میں پاکستان بھر میں سکولوں پر آٹھ سو سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔ لیکن بچے کیا صرف بم یا گولی سے ہی مرتے ہیں؟ یہاں روزانہ قتل عام ہوتا ہے۔ 1184 بچے غذائی قلت اور قابل علاج بیماریوں کی وجہ سے سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں۔ تھر میں مرنے والے کیا انسان کے بچے نہیں ہیں؟اس ملک کے 50 فیصد بچوں کی نشونما ہی نامکمل ہے اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر کبھی مکمل انسان نہیں بن پائیں گے۔ اس سے بڑی دہشت گردی اور کیا ہوسکتی ہے؟لیکن کارپوریٹ میڈیا ان بچوں کا ماتم کرتا ہے نہ ہی حکمران کوئی ’’ہنگامی اجلاس‘‘ بلاتے ہیں۔ یہ حکمران طبقہ تو اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔ آج سے تین دہائیاں قبل ثور انقلاب کو کچلنے کے لئے امریکی سامراج کی پشت پناہی سے اس ریاست نے مذہبی جنون کا جو بیج ڈیورنڈ لائن کے اس پار بویا تھا، اب وہ تناور درخت بن چکا ہے جس کے پھل بموں کی شکل میں پورے خطے پر گر رہے ہیں۔ یہ عفریت اب اپنے آقاؤں کے قابو سے بھی باہر ہے۔ دیو بوتل سے باہر آچکا ہے۔ دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی معاشی بنیادیں اس ملک کی سرمایہ داری میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ یہ معیشت چل ہی کالے دھن پر رہی ہے۔ سرمائے کے اس نظام کے مکروہ چہرے کو چھپاناہی کارپوریٹ میڈیا اور حکمران طبقے کے دانشوروں کا کاروبار ہے۔ جب تک یہ نظام باقی ہے، پشاور جیسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ دہشت گردی کا خاتمہ تو دور کی بات یہ ریاست عوام کو صاف پانی کا ایک گلاس تک نہیں دے سکتی۔ اس بربریت کا خاتمہ، سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینک کر ہی کیا جاسکتا ہے۔