سانحہ رانا پلازہ بنگلہ دیش: سرمایہ دارانہ شرح نمو کا حقیقی چہرہ بے نقاب

[تحریر: آدم پال، ترجمہ: عمران کامیانہ]
ڈھاکہ کے قریب واقع نو منزلہ رانا پلازہ کے زمین بوس ہونے کے بعد سے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کی تعداد میڈیا کے مطابق 1127 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس اندوہناک واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے محنت کشوں کے رشتہ دار سڑکوں پر سرمایہ دارانہ نظام کے ننگے استحصال کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو اس واقعے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ واقعہ، سانحہ آشولیہ کے صرف پانچ ماہ بعد پیش آیا ہے جس میں تزرین فیشن کمپنی میں کام کرنے والے 110 محنت کش جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ کسی کو سزا دینا تو دور کی بعد ابھی اس واقعے کے ذمہ داران کا تعین بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔
رانا پلازہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کی اصل تعداد کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس عمارت میں مغربی ممالک میں برآمد کے لئے پانچ گارمنٹ فیکٹریوں میں مال تیار ہوتا تھا۔ بعض اندازوں کے مطابق عمارت کے منہدم ہونے کے وقت اس میں 3122 مزدور موجود تھے، تاہم یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کسی قسم کے لیبر قوانین کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے مزدوروں کو باقاعدہ ملازمین کا درجہ ہی نہیں دیا جاتا اور انہیں فیکٹری کی مشینوں کی طرح دولت پیدا کرنے کے پرزوں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ مزدوروں کی بد ترین حالت زار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ڈھاکہ اور اس کے گردونواح میں موجود 100,000 گارمنٹ فیکٹریوں کی نگرانی کے لئے صرف 18 انسپکٹر موجود ہیں۔
ٹریڈ یونینز کی عدم موجودگی، لیبر قوانین کے نفاذ میں ریاست کی مکمل ناکامی اور مزدوروں کی صحت اور حفاظت میں مکمل عدم دلچسپی بنگلہ دیش اور دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کی پہچان بن چکی ہے جہاں امریکہ اور یورپ کی منڈیوں کے لئے سستا مال تیار کیا جاتا ہے۔ منہدم ہونے والے رانا پلازہ میں یورپ کے مشہور برانڈوں مثلاً Benetton ،Mango ،Loblaw اور Primark وغیرہ کے لئے مصنوعات تیار کی جاتی تھیں۔

سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے احتجاج کر رہے ہیں

بنگلہ دیش کی گارمنٹ کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالت زار قدیم روم اور مصر کے غلاموں سے بھی بد تر ہے۔ 23 اپریل 2013ء کو مزدوروں نے عمارت میں پڑنے والے شگافوں اور اس کے ممکنہ انہدام کے بارے میں فیکٹری مالکان کو مطلع کر دیا تھا۔ لیکن ان تمام تر شکایات اور شبہات کو نا صرف فیکٹری مالکان بلکہ عمارت کے مالک سہیل رانا نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ مزدوروں کو یہ کہ کر دوبارہ کام پر مجبور کر دیا گیا ماہر انجینئرزنے عمارت کوبالکل محفوظ قرار دیا ہے۔ کچھ مزدور ابھی بھی اپنے موقف پر قائم تھے جنہیں یہ کہہ کر دھمکایا گیا کہ اگر انہوں نے اگلے روز کام نہ کیا تو ان کی تین دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ یہ دھمکی بھی مہینے کے آخری دنوں میں دی گئی جب محنت کشوں کی جیب بالکل خالی ہوتی ہے۔ 2005ء کے بعد سے کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں محنت کش جاں بحق ہوئے ہیں لیکن ریاست اور مالکان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
عمارت کے منہدم ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والے مزدوروں کی جان بچانے کے لئے کی جانے والی کوششیں انتہائی ناقص اور سست رفتار تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ملبے تلے دبی لاشوں کی بدبو نے معاملات کو اور بھی مشکل بنا دیا۔
بنگلہ دیش کے مزدوروں میں اس واقعے کے بعد غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ہزاروں مزدور اپنے ساتھیوں کی جانیں بچانے کے لئے موقع پر پہنچ گئے اور اپنے ہاتھوں سے نو منزلہ عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ زخمیوں کے لئے خون اور ادویات عطیہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ یہ محنت کشوں کی طبقاتی جڑت کا عظیم اظہار تھاجس نے ثابت کیا کہ منافع اور دولت کی خاطر مزدوروں کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے سے بھی دریغ نہ کرنے والے سرمایہ داروں کے بر عکس محنت کش انسانی ہمدردی اور احساس کے جذبات سے سرشار ہیں۔
اس واقعے کے بعد گارمنٹ کی صنعت کے محنت کشوں اور ان کی تنظیموں نے مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کر دیاہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمارت کے مالکان اور اس واقعہ کے دوسرے ذمہ داران کو گرفتار کر کے سزائے موت دی جائے۔ ہزاروں مزدوروں نے غازی پور، نرائن گنج اور دوسرے علاقوں میں بڑی ریلیاں نکالیں۔ فنانشل ایکسپریس بنگلہ دیش کے مطابق:
’’پلابی پولیس سٹیشن کے آفیسر انچارج کے مطابق اگلی صبح مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوا۔ قاضی پور، شیوراپارا، میرپور اور پلابی میں زیادہ تر گارمنٹ فیکٹریاں بند رہیں۔ پولیس کو ممکنہ گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ‘‘
شیامولی، کولیانپور، ٹیکنیکل کراسنگ، گلشن، موہاخالی، تیج گاؤں انڈسٹریل ایریا، مالی باغ اور کاروان بازار میں بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے۔ اس کے علاوہ محنت کشوں نے BGMEA (بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن) کی عمارت کے سامنے بھی مظاہرے کئے۔ غازی پور کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں میں محنت کشوں نے ایک کے بعد دوسری فیکٹری پر حملے کئے۔ نارائن گنج میں کپڑا تیار کرنے والے علاقوں میں بھی یہی صورتحال تھی۔
انڈسٹریل پولیس کے ڈائریکٹر جنرل عبدالسلام کے مطابق ’’کپڑا تیار کرنے والی فیکٹریوں کے آس پاس سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے‘‘ اور ’’ڈھاکہ کو دوسرے شہروں سے ملانے والی شاہراہوں پر ٹریفک جام رہی۔ ‘‘
Garment Sramik Oikya Forum  کی صدر مشریفہ میشو نے کہا کہ ’’ گارمنٹ سیکٹر کے مزدوروں کی آٹھ تنظیموں نے اتوار کے روز ملک بھر کی گارمنٹ فیکٹریوں کو ہڑتال کی کال دے دی ہے، فیکٹری مالکان کو چاہئے کہ اس روز کو چھٹی کا دن قرار دے دیں کیونکہ مزدور پر امن ہڑتال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ہڑتال کی کال دینے والی باقی سات مزدور تنظیموں میں سرامک ٹریڈ یونین کیندرا، گارمنٹس سرامک سنگرم پاریشاد، بنگلہ دیش ٹیکسٹائل گارمنٹ ورکزر فیڈریشن، گارمنٹس سرامک سنگھاٹی، جاگو بنگلہ دیش گارمنٹس سرامک فیڈریشن، سمانیتا گارمنٹس سرامک فیڈریشن، بنگلہ دیش گارمنٹس سرامک مکتی اندولن اور بپلابی گارمنٹس سرامک سنگھاٹی شامل ہیں۔
ان مزدور تنظیموں کی دوسرے مطالبات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے مزدوروں کی فہرست کی تیاری، متاثر ہونے والے افراد کے لئے معاوضہ، زخمیوں کے لئے مناسب علاج کی سہولیات، 50 فیصد مہنگائی الاؤنس، کم سے کم اجرت 8000 ٹکا اور ٹریڈ یونین بنانے کا حق شامل ہیں۔ گارمنٹس سرامک سنگھاٹی کی صدر تسلیمہ لیما نے کہا کہ اگر تزرین فیشن کے مالکان کو 112 مزدوروں کے جھلس کر جاں بحق ہوجانے پر سزا دی جاتی تو آج رانا پلازہ کا سانحہ رونما ہی نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا ’’اب ایسا نہیں چلے گا۔ ہم سختی سے کام کرنے کے صحت مند ماحول اور ہر فیکٹری میں حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
یوم مئی کو بھی سرمایہ دارانہ ظلم و استحصال اور ریاست کی مکمل ناکامی کے خلاف بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ دائیں بازو کی اپوزیشن پارٹی BNP اور اس کے اٹھارہ جماعتی اتحاد نے بھی 2مئی کو ہڑتال کا اعلان کر کے مگر مچھ کے آنسو بہائے تاکہ حکمران عوامی لیگ کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کی جا سکے۔ درحقیقت ان دونوں سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں IMF کی ایما پرلبرلائزیشن اور اور ڈی ریگولیشن پر مبنی ہیں۔ پاکستان سے 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سے ملک کی تمام تر ٹیکسٹائل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ یہ 1968-69ء کی عظیم انقلابی تحریک کا نتیجہ تھا جس میں محنت کش سوشلسٹ پالیسیوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اگرچہ مغربی اور مشرقی پاکستان میں اس تحریک نے ایوب خا ن کی آمریت کو اکھاڑ پھینکا تھا مگر یہ تحریک ملک میں ایک مکمل سوشلسٹ انقلاب پر منتج نہیں ہو سکی۔ آزادی کے بعد بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام اپنے تمام تر جبر و استحصال کے ساتھ قائم رہا۔ جیسے جیسے تحریک ٹھنڈی پڑتی گئیں حکمران طبقے نے دوبارہ سے قدم جمانے شروع کر دئے اور محنت کش طبقے کی ہراول پرتوں کو کچل کر تحریک کو زائل کر دیا۔ شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد جابر فوجی آمریتیں نافذ کی گئیں اور IMF اور ورلڈ بینک کے احکامات کے مطابق نجکاری کا عمل شروع کیا گیا۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں 36 لاکھ سے زائد مزدور کام کرتے ہیں اور یہ چین کے بعد کپڑے کی دوسری بڑی صنعت ہے۔ 90 فیصد محنت کش خواتین ہیں جن کی اکثریت 38 ڈالر ماہانہ سے بھی کم اجرت پر کام کرتی ہے۔
کم ترین اجرتوں اور ڈیوٹی فری رسائی نے بنگلہ دیش سے کپڑوں کی برآمد کو 19 ارب ڈالر سالانہ کی صنعت بنا دیا ہے۔ 60فیصد کپڑا یورپ کو برآمد کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارت کامرس کے مطابق جون2011ء سے جون 2012ء تک یورپ کو برآمد کی جانے والی گارمنٹس مصنوعات 11.37 ارب ڈالر سے 10.52 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یورپ میں جرمنی 3.4 ارب ڈالر، برطانیہ 2.13 ارب ڈالر، سپین 1.71 ارب ڈالر اور فرانس 1.27 ارب ڈالر کی منڈی ہے۔
آمدن اور GDP میں تمام تر اضافے کے ثمرات محنت کشوں تک نہیں پہنچے ہیں اور ان کی زندگیاں بد سے بدتر ہوتی جارہی ہیں۔ جبکہ ان صنعتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان ہوشربا منافعے کما رہے ہیں جس سے سرمایہ دارانہ معیشت میں شرح نمو کو کامیابی قرار دئے جانے کا پول کھل رہا ہے۔ یہ تمام تر شرح نمو بد ترین استحصال کی پیداوار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وال مارٹ میں بکنے والی Faded Glory جینز کا ایک جوڑا محنت کشوں کو 6 منٹ میں تیار کرنا پڑتا ہے۔ محنت کشوں کو دن میں بارہ گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ مزدوروں کواس جینز کی تیاری کے 2 سینٹ(ایک ڈالر میں 100سینٹ ہوتے ہیں) ادا کئے جاتے ہیں جبکہ مغربی ممالک میں ایک جینز کی قیمت 8 ڈالر ہے۔ گرم اور نمی سے بھرپور کمروں میں محنت کشوں سے کام لیا جاتا ہے جن کی کھڑکیوں پر لوہے کے جنگلے لگے ہوتے ہیں، ہر سال بے شمار محنت کش اس غیر انسانی ماحول کی بھینٹ چڑھ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 12 گھنٹے کا مسلسل کام اعضا کو مفلوج کر دیتا ہے اور محنت کشوں کے پاس کوئی انشورنس یا علاج معالجے کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔
بنگلہ دیش میں حالات اس قدر بد تر ہیں کہ عصمت فروشی کو بھی گارمنٹس انڈسٹری میں کام کرنے سے بہتر پیشہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ خواتین جنہیں کہیں اور کام نہیں مل پاتا انہیں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے بد ترین حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ استحصال ہمیشہ سے منافع پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ رہا ہے۔ کارل مارکس نے بہت پہلے لکھا تھا:
’’قدر زائد کے لئے اندھا، بے قابو جنون اور درندوں جیسی بھوک سرمائے کو نہ صرف اخلاقی بلکہ جسمانی مشقت کی حدود بھی پار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ انسانی جسم کی نشوونما، بڑھوتری اور صحت مندی کے حالات کو غصب کر لیتا ہے۔ یہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہونے کا وقت بھی چرالیتا ہے۔ صرف ایک مقصد باقی بچتا ہے کہ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ قوت محنت کیسے حاصل کی جائے۔ یہ مقصد مزدور کی زندگی میں کمی کر کے حاصل پورا کیا جاتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک لالچی کسان زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے زمین کی زرخیزی ختم کر دیتا ہے۔‘‘ (سرمایہ، باب 10)
بنگلہ دیش میں مزدوروں کی حالات 18ویں صدی کے برطانیہ سے مختلف نہیں ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر مستقبل میں ایسے سانحات پر قابو پانے کے لئے قانون سازی اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا شور مچایا جارہا ہے۔ حکومت نے دباؤ میں آکر ذمہ داران کو گرفتار کیا ہے اور ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ لیکن اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام امرا کے مفادات کی حفاظت کے لئے غریبوں اور پسے ہوئے طبقات کی کوئی پروا نہیں کرتا۔
بنگلہ دیش میں ایک کے بعد دوسرے سانحے نے محنت کش طبقے کے شعور میں اضافہ کیا ہے۔ لوگ اجرتی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچنا شروع ہو گئے ہیں۔ صرف سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل خاتمہ کر کے ہی گارمنٹس اور دوسری صنعتوں میں ہونے والے ظلم و استحصال کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی اور اصلاح پسند ٹریڈ یونین رہنماکسی قسم کی اصلاحات نہیں کر سکتے۔ وہ صرف مزدوروں کی موت پر دو لفظ افسوس کے ہی بولتے ہیں جس سے حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔
ہم بنگلہ دیش کے مزدوروں کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں اس سانحے کی ذمہ داران کی پھانسی کے ساتھ ساتھ متاثرہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے۔ لیکن ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس وحشت کا خاتمہ سرمایہ داری کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کے محنت کشوں کی شاندار تحریکوں نے ثابت کیا ہے کہ سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے ان میں عزم، حوصلے اور جرأت کی کمی نہیں ہے۔ موجودہ عہد میں ایک بالشویک پارٹی کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے۔ ہمیں ایک ایسی پارٹی چاہئے جو محنت طبقے کی تحریکوں کوحتمی سوشلسٹ فتح سے ہمکنار کرتے ہوئے سرمایہ داری اور غربت، بھوک، افلاس اور بیماری کا خاتمہ کرے۔

متعلقہ:
بلدیہ ٹاؤن کراچی: یہ ’’قومی‘‘ سانحہ نہیں بلکہ طبقاتی استحصال کی پیداوار ہے

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کی شوگر مل میں جھلسنے والے چاروں محنت کش جاں بحق، ذمہ دار کون؟