بہاولپور: ’’ اقتصادی بحران اور محنت کشوں کے مسائل‘‘ پر سیمینار

[رپورٹ: جلیل منگلا]
یکم جون بروز اتوار ’’پاکستان کا اقتصادی بحران اور محنت کشوں کا استحصال‘‘ کے عنوان سے PTUDC کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں گلستان ٹیکسٹائل ملز اور دوسرے اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ ساتھ کسان اتحاد میں منظم کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا سے خطاب کرتے ہو ئے گلستان ورکر یو نین کے رہنما محمد ساجد نے کہا کہ گلستان ٹیکسٹائل ملز کے مالکان نے محنت کشوں کی چار ماہ کی اجرتوں پر ڈاکہ ڈالا ہے اور دس کروڑ روپے ہڑپ گئے ہیں۔ اسی مل سے ان سرمایہ داروں نے 82 مزید یو نٹ بنالئے ہیں لیکن ان ملوں میں مزدوروں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ محنت کش اپنے حقوق کے لئے پہلے بھی لڑتے رہے ہیں مگر کا میاب نہ ہو ئے کیو نکہ اتحاد نہ تھا، لیکن آج PTUDC کے دوستوں کی کاوشوں سے محنت کش یکجا ہو کر جدوجہد کررہے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ داروں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔
کامریڈ نورالحسن، کامریڈ یاسر اور پیپلز پارٹی کے رہنما کا مریڈ الیاس خان نے اس موقع پر کہا کہ کسان اور اس کے بچے محنت کر کے فصل تیار کرتے ہیں لیکن جاگیرداروں اور سر مایہ دار وں کے غنڈے اناج اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر انہی کے چندہ خور ملا کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو زیادہ دولت سے نوازا ہے اور تم اسی پر شکر کرو، یہی اللہ کی مرضی ہے۔ یہ اللہ کی مرضی نہیں بلکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی لوٹ مارہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک، اس دھرتی کے اصل وارث محنت کش ہے کیو نکہ وہی نظام چلاتے ہیں اور دولت پیدا کرتے ہیں۔ اگر محنت کش طبقہ کام چھوڑ دے تو پورا نظام زندگی ختم ہوجائے گا۔ محنت کش بڑے محل تو بناتے ہیں مگر اس میں رہ نہیں سکتے، جہاز اور بڑی بڑی گاڑیاں بناتے ہیں مگر ان کی سواری نہیں کرسکتے، ہسپتال بناتے ہیں مگر اس میں علاج نہیں کراسکتے۔
کامریڈ الیاس خان نے کہا کہ سر مایہ دار کا کتا بیمار ہو جائے تو لندن سے ڈاکٹر آتا ہے لیکن غریب قابل علاج بیماریوں سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتا ہے۔ محنت کش کا پڑھا لکھا بیٹا گولڈ میڈل لے کر بھی نوکری کیلئے دھکے کھاتا ہے اور سرما یہ دار کا ان پڑھ جاہل بیٹا بیوروکریٹ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ذلت کا خاتمہ صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ممکن ہے اور 1917ء کا بالشویک انقلاب آج بھی دنیا بھر کے محنت کشوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ آج مصر سے کر یونان اور برازیل تک پوری دنیا میں محنت کش اور نوجوان انقلابی تحریکیں برپا کرہے ہیں لیکن اگر کمی ہے تو ایک انقلابی پارٹی کی، جو ان بغاوتوں کی قیادت کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام پر کاری ضرب لگائے۔ آج حکمران حقیقی مسائل کو چھپانے کے لئے ایک کے بعد دوسرا نان ایشو پیدا کررہے ہیں۔ جیو اور فوج کی جعلی لڑائی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ کیسی ’’کالعدم تنظیمیں‘‘ ہیں جو فوج کی حمایت میں سر عام مظاہرے کر رہی ہیں؟ جب تک یہ نظام باقی ہے غربت اور محرومی میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم انقلابی سوشلزم کا پیغام پورے ملک کے محنت کشوں تک لے کر جائیں تاکہ اس متروک نظام کا خاتمہ کر کے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جاسکے جہاں انسان حقیقی معنوں میں انسان بنے۔