حیدرآباد: بجٹ 2013ء کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

[رپورٹ : راہول]
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی جانب سے ’’سرمایہ دارنہ عوام دشمن بجٹ 2013ء نا منظور‘‘ کے عنوان سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر بھر سے مختلف اداروں کے محنت کشوں، خواتین، ٹریڈ یونین رہنماؤں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بنیرز اور پلے کارڈز تھے جن پربجٹ 2013ء، نجکاری، بیروزگاری، غربت اور لوڈشیڈنگ کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مرکزی رہنما جے پرکاش، جنرل سیکریٹری ایسر داس، نثار چانڈیو، ریلوے محنت کش یونین حیدرآبادد ڈویڑن کے صدر عزیز احمد کھوسو،ریلوے ورکرز یونین کے قربان بہنڈ،مہران ورکرز یونین HDA کے انصاف لاشاری، ایپکا کے جنرل سیکریٹری میرل برگڑی، SSGC کانٹریکٹ اینڈ ڈیلی ویجز ورکر یونین کے سجاد شاہانی،ایپکا HDA یونٹ کے امتیاز علی کولاچی ، بیورو آف کیریکیولم ایسوسی ایشن کے قلندر بخش، طبقاتی جدوجہد سندھی رسالے کے ایڈیٹر حنیف مصرانی، بیروزگار نوجوان تحریک اور پروگریسو یوتھ الائنس کے راہول نے کہا کہ حکمرانوں نے اس سال بجٹ میں محنت کشوں کے ساتھ صرف 10 فیصدتنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف ٹیکسوں میں لاتعداد اضافہ کرکے غریب محنت کش عوام کو بدترین غربت میں دھکیل دیا گیا ہے ، الیکشن سے پہلے تمام حکمران جماعتوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر لوڈشیڈنگ سمیت عوام کے تمام تر سلگتے مسائل حل کردیں گے لیکن پہلے بجٹ میں ہی محنت کشوں کی بچی کھچی مراعات کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں یہ بات کھل کا عیاں ہوچکی ہے کہ یہ ایک عوام دشمن حکومت ہے اور اس کا محنت کشوں کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں، ریلوے سمیت باقی اداروں کی نجکاری کا منصوبہ بنا کر ڈاؤن سائزنگ اور دوسرے ہتھکنڈوں کے ذریعے محنت کشوں کو ملازمتوں سے برطرف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،آخر میں مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شدید مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں کم از کم ضافہ 50 فیصد کیا جائے، ایچ ڈی اے، واسا ، بلدیہ اور دیگر اداروں کے محنت کشوں کی کئی ماہ سے نہ دی گئی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کی جائے، تمام کانٹریکٹ و ڈیلی ویجز ورکرز کو مستقل کیا جائے اور تمام سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ ختم کر کے تمام اداروں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔