انٹرازم کے مسائل

| تحریر: ٹیڈ گرانٹ، تلخیص و ترجمہ: عمران کامیانہ |

انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لئے درکار سیاسی لائحہ عمل مرتب کرنے کی بحث کے سلسلے میں ہم کامریڈ ٹیڈ گرانٹ کا مارچ 1959ء میں لکھا گیا یہ مضمون شائع کر رہے ہیں۔ لائحہ عمل، طریقہ کار اور دوسرے موضوعات پر مارکسی اساتذہ کی تحریروں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ امید ہے یہ مضامین نظریاتی تربیت اور درست و فعال لائحہ عمل کی ترتیب میں معاون ثابت ہوں گے (مجلس ادارت: طبقاتی جدوجہد)

ہر مرحلے پر ضروری ہوتا ہے کہ تنظیم کے اصولوں، پالیسیوں اورطریقہ کار کا تجزیہ کیا جائے اور ان پر نظر ثانی کی جائے۔ یہ نہ صرف نئے ممبران کے لئے بلکہ بنیادی کیڈرز کے نظریات کی مضبوطی اور انہیں تازہ رکھنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ لیبر پارٹی میں نسبتاً جمود کی موجودہ کیفیت میں یہ وقت برطانیہ میں ہمارے کام کے مسائل کے بنیادی نکات پر از سر نو غور کرنے کے لئے موافق معلوم ہوتا ہے۔
چوتھی انٹرنیشنل کے کنارے پر یا بائیں جانب موجود چھوٹے چھوٹے فرقہ پرور (Sectarian) گروہوں کی نظر میں تو مسئلہ بڑا سادہ سا ہے: سوشل ڈیموکریسی اور سٹالنزم نے محنت کش طبقے سے غداری کی ہے، اس لئے محنت کش طبقے کی آزادانہ پارٹی فوری طور پر تعمیر کرنی چاہئے۔ ان کی نظر میں الگ انقلابی پارٹی ہی بنیادی اصول ہے، چاہے اس پارٹی میں دو بندے ہوں یا بیس لاکھ۔ وہ محنت کش طبقے کی تحریک کے تاریخی ارتقا کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ اسی ارتقا کی بنیاد پر ہی کام کا طریقہ کار طے ہوتا ہے۔ لچک دار طریقہ کار کے بغیران قوتوں کو جیتنا اور ان کی تربیت کرنا نا ممکن ہے جن کی بنیاد پر انقلابی پارٹی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
بدقسمتی سے محنت کش طبقے کی تحریک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی ہے۔ وگرنہ سڑک پر کھڑے ہو کر انقلابی پارٹی کی ضرورت کا اعلان کر دینا ہی کافی ہوتا، جیسا کہ ’سوشلسٹ پارٹی آف گریٹ بریٹن‘ (SPGB) والے گزشتہ 50 سال سے سرمایہ داری پر سوشلزم کی برتری کا اعلان کر رہے ہیں لیکن نتائج بالکل بانجھ ہیں۔
ہمیں محنت کش طبقے اور مزدور تحریک کو تاریخی ارتقا کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، جس میں ایک طرف شعور کا تعین معروضی حالات سے ہوتا ہے؛ دوسری طرف سٹالنزم اور سوشل ڈیموکریسی کی غداری جیسے معروضی عوامل ہیں؛ اور انقلابی قوتوں کی کمزوری بھی اس تاریخی عمل میں اہم حقیقت ہے۔ مارکسزم کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے انقلابی تحریک کی کمزوری اور تنہائی پر کیسے قابو پایا جائے، یہ اس عہد کا بنیادی فریضہ ہے۔
افسوس! محنت کش طبقے کی تحریک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ وگرنہ سرمایہ داری کا خاتمہ دہائیاں پہلے ہو چکا ہوتا۔
انقلابی تنظیم کے کیڈرز کے لئے سٹالنزم اور اصلاح پسندی کے کردار کو سمجھ لینا ایک چیز ہے؛ عوام کے لئے یہ بالکل مختلف معاملہ ہے، حتیٰ کہ محنت کش طبقے کی ہراول پرتوں کے لئے بھی، جو عام طور پر تجربے سے سیکھتی ہیں۔
تیسری انٹرنیشنل کی زوال پزیری کے بعد لیفٹ اپوزیشن نے نئی انٹرنیشنل اور نئی انقلابی پارٹیوں کی بنیاد رکھی۔ نہ تو لیبر پارٹی اور نہ ہی کمیونسٹ پارٹی سوشلسٹ انقلاب کا فریضہ ادا کر سکتی تھی۔ لیکن انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ضرورت اور وسیع عوامی بنیادوں پر مشتمل انقلابی پارٹی کی تشکیل کے درمیان طویل فاصلہ ہے۔
تاریخی طور پر مارکسسٹ تحریک کی پسپائی اور مزدور تحریک سے اس کی تنہائی کے حالات میں ٹراٹسکی نے انٹرازم کا سوال اٹھایا۔ یہ اہم ہے کہ یہ سوال سب سے پہلے برطانیہ میں کام کے مسائل کے حوالے سے اٹھایا گیا تھا۔
یہاں ہم برطانیہ میں انٹرازم کی تاریخ کا بالکل مختصر سا خاکہ کھینچیں گے اور انتہائی اہم نکات پر بات کریں گے جو کہ وضاحت اور بحث کے لئے ضروری ہیں۔
1929-31ء کی لیبر پارٹی حکومت کے تجربے، عالمی سطح پر اس عہد کے واقعات، تباہ کن معاشی گراوٹ، جرمنی میں فاشزم کے ابھار جیسے عوامل کے نتیجے میں محنت کش طبقے کی کئی پرتوں کا اصلاح پسندی پر یقین چکنا چور ہو گیا تھا۔ لیبر پارٹی حکومت کی شکست خوردہ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت پارٹی کے اندر انڈی پینڈنٹ لیبر پارٹی (ILP) میں مجتمع ہوئی۔ نتیجتاً ILP لیبر پارٹی سے الگ ہو گئی (غلط مسئلے پر، غلط وقت پر اور وسیع تر مزدور تحریک کی حمایت حاصل کئے بغیر)۔ اس کا مطلب تھا کہ ILPمیں موجود ہزاروں محنت کش اصلاح پسندی سے دور اور مارکسزم کی طرف انقلابی سمت میں گامزن تھے۔ اس مرحلے پر ان کے نظریات آدھے انقلابی آدھے اصلاح پسند تھے۔ انہیں یا تو انقلابی پروگرام پر جیتا جا سکتا تھا، یا پھر وہ سٹالنزم کے نظریاتی انحراف میں ضم ہو سکتے تھے، یا پھر واپس اصلاح پسندی کی طرف جا سکتے تھے یا مایوسی میں غرق ہو سکتے تھے۔ کچھ بھی طے نہیں تھا۔
1932ء میں برطانیہ میں ٹراٹسکائٹس کو کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا (جرمنی اور برطانیہ میں سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ یونائیٹڈ فرنٹ بنانے کا مطالبہ کرنے پر)۔ انہوں نے اپنا ماہانہ پرچہ نکالا لیکن وہ محنت کش طبقے کے وسیع تر دھارے سے کٹے ہوئے تھے۔ ان حالات میں ٹراٹسکی نے برطانوی کامریڈز کو مشورہ دیا کہ ILP میں بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے محنت کشوں میں کام زیادہ کارگر ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے زیادہ تجربہ کار رہنماؤں نے اس مشورے کی مخالفت کی اور الگ تنظیم برقرار رکھنے کی کوشش کی(زیادہ عرصہ نہیں چل سکے، جلد وہ لیبر پارٹی میں چلے گئے اور بعد ازاں ان کی تنظیم تحلیل ہو گئی)۔ صرف نوجوان اور کم تجربہ کار ہی ILP میں گئے۔ زیادہ بڑی کامیابیاں نہیں ملیں۔ آنے والے وقت میں قیادت کی کنفیوژن اور پس و پیش کی وجہ سے ILP بطور سنجیدہ قوت ختم ہونے لگی۔
ٰ1935ء تک مزدور تحریک 1931ء کی پسپائی سے بحال ہو کر سنبھلنے لگی تھی۔ ILP کی زوال پزیری اور اس میں مزید حاصلات کے انتہائی کم امکانات کے پیش نظر ٹراٹسکی نے لیبر پارٹی میں کام کا سوال اٹھایا۔ لوکل انتخابات میں لیبر پارٹی کی کامیابیاں، ہڑتالیں، خانہ جنگی کے ممکنات وغیرہ جیسے عوامل لیبر پارٹی کی صفوں میں اپنا اظہار کر رہے تھے اور ہراول کارکنان انقلابی نظریات کو قبول کرنے کی طرف مائل تھے۔ لیکن وہ مزدور تحریک کے وسیع دھارے سے باہر چھوٹی سی تنظیم کی بات کبھی نہ سنتے۔ منظم ٹریڈ یونین تحریک کے سیاسی اظہار کے طور پر لیبر پارٹی منظم محنت کشوں اور غیر منظم محنت کشوں کی کئی پرتوں کی بھی نمائندگی کرتی تھی۔ لہٰذا عوامی رجحان میں ہی انقلابی اپنے کام کو آگے بڑھا سکتے تھے۔ ہمیں لازمی طور پر سیکھنا چاہئے کہ انقلابی نظریات کو ایسی زبان میں بیان کریں جو محنت کش سمجھ سکیں، اس طرح قدم بہ قدم بڑی مہارت کے ساتھ اصلاح پسندی سے لڑا جائے لیکن انقلابی نظریات اور تناظر کو ترک کئے بغیر۔
کامریڈ ٹراٹسکی نے ILP میں کام کو ختم کر کے لیبر پارٹی میں کام کا مشورہ دیا۔ آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ اس وقت یہ درست طریقہ کار تھا۔
محنت کش طبقہ آسانی سے انقلابی نتائج اخذ نہیں کرتا۔ سوچ کی عادات و اطوار، روایات، روایتی تنظیموں کا انقلاب کے راستے میں رکاوٹ بن جانا؛ یہ سب عوامی سطح کی مارکسسٹ تحریک کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
تمام تاریخ ثابت کرتی ہے کہ انقلابی ابھار کے پہلے مراحل میں عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے عوامی تنظیموں کا رخ کرتے ہیں، بالخصوص نوجوان نسل جو پہلی بار سیاست میں داخل ہوتی ہے۔ کئی ممالک کا تجربہ یہی بتاتا ہے۔ جرمنی میں اس حقیقت کے باوجود کہ سپارٹیکس لیگ پہلی عالمی جنگ کے خلاف جدوجہد کرنے والے دسیوں ہزار انقلابی محنت کشوں کی نمائندگی کرتی تھی، اور اس حقیقت کے باوجود بھی کہ سوشل ڈیموکریٹک قیادت نے جنگ کی حمایت اور 1918ء کے انقلاب کی مخالفت کر کے محنت کشوں سے غداری کی تھی، لیکن وہاں جب انقلاب کا آغاز ہوا تو محنت کشوں نے سب سے پہلے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا رخ کیا۔ سالوں کی انقلابی اور رد انقلابی جدوجہد وں کے بعد ہی کمیونسٹ پارٹی ایک چھوٹی پارٹی سے عوامی تحریک میں تبدیل ہوئی۔
یورپ میں پچھلے 50 سالوں کے ہر انقلابی ابھار کا تجربہ اس تھیوری کی سچائی کو ثابت کرتا ہے۔ برطانیہ میں اس وقت ہماری جو قلیل قوتیں ہیں اس کے پیش نظر اس سوچ پر ہنسا ہی جا سکتا ہے کہ یہاں انقلاب کسی اور راستے سے آگے بڑھے گا۔ حتیٰ کہ آزادانہ طور پر اگر ہماری قوتیں اور وسائل زیادہ بھی ہوں تو بھی ضروری ہے اس عمل [بڑی تنظیموں کی طرف عوام کے رجحان] کو مد نظر رکھا جائے۔ ہمارا فریضہ اپنی مٹھی بھر قوتوں کو ایک مربوط گروپ میں ڈھالنا ہے جس کی عوامی تحریک میں جڑیں ہوں، اور پھر اس کیڈر آرگنائزیشن کو وسیع کرکے عوامی تنظیم کی تعمیر کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ کیسے کیا جائے، اسی پر فی الوقت تنظیمی طریقہ کار کی بنیادی توجہ مرکوز ہے۔
انٹرازم کے تاریخی سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔ 1936-39ء کے عرصے میں برطانیہ میں ہونے والے پیش رفتوں نے یہ سوال اٹھایا۔ لیکن 1939ء میں جنگ کے آغاز نے واقعات کو بالکل مختلف رخ دے دیا۔
اور یہاں بھی طریقہ کار کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہ صرف طریقہ کار ہوتا ہے کوئی حتمی و آخری عقیدہ نہیں۔ [جنگ کے دوران] لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونین رہنما سرمایہ دار طبقے کے ساتھ الحاق میں شامل ہو گئے اور بعد میں چرچل حکومت کا حصہ بن گئے۔ لیبر پارٹی کی تنظیموں کا تحرک کم ہو گیا۔ نوجوان فوج میں تھے۔ روس کی جنگ میں شمولیت کے بعد کمیونسٹ پارٹی ہڑتالیں توڑنے والی تنظیم بن گئی۔ اس سے آزادانہ کام کے شاندار مواقع کھلے۔ ٹراٹسکائٹس نے بڑی کامیابیاں اس عہد میں حاصل کیں۔ 1944ء میں ٹراٹسکائٹ قوتوں کو جوڑ کر ’انقلابی کمیونسٹ پارٹی‘ (RCP) بنائی گئی۔ لیکن RCP کی کامیابیوں کی بلندی پر بھی انٹرازم یعنی انقلابی قوتوں کے لیبر پارٹی میں داخل ہونے کا سوال زیر بحث رہا۔ اس سوال پر مباحث میں وضاحت کی گئی کہ چند ہزار کی چھوٹی پارٹی تاریخی فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ اگر حالات کی ضربوں کے تحت لیبر پارٹی میں دسیوں ہزار کا بایاں بازو تخلیق پاتا ہے تو ضروری ہو گا کہ ان عناصر کو انقلابی سمت میں گامزن کرنے کے لئے لیبر پارٹی میں داخل ہوا جائے؛ اگرچہ اس وقت زیادہ زور الگ پارٹی کی تعمیر پر ہی تھا۔
جنگ کے بعد واقعات نے اس سے مختلف سمت اختیار کی جس کی پیشین گوئیاں ٹراٹسکائٹس نے کی تھیں۔ روس اور مشرقی یورپ میں سٹالنزم، مغرب میں اصلاح پسندی اور سٹالنزم کئی وجوہات کی بنا پر وقتی طور پر مضبوط ہوئے۔
برطانیہ میں اس کا اظہار لیبر پارٹی کے حکومت میں آنے سے ہوا۔ لیبر پارٹی کی 1945ء کی حکومت معاشی ابھار میں برسر اقتدار آئی اور 1929ء کی نسبت حالات بالکل مختلف تھے۔ سرمایہ دار بڑے منافعے کما رہے تھے اور محنت کش طبقے کو کچھ چھوٹ دے سکتے تھے۔ اس بنیاد پر لیبر پارٹی کی قیادت نے کچھ اصلاحات متعارف کروائیں مثلاً نیشنل ہیلتھ سکیم [مفت علاج]۔ لیبر پارٹی نے اپنے پروگرام پر عمل در آمد کیا، اوور ٹائم، ملازمتوں میں خواتین کی شمولیت، بونس سکیمیں، محنت کی منڈی میں لیبر کی قلت وغیرہ کے پیش نظر محنت کش طبقے کے حالات میں جنگ سے پہلے کی نسبت بہتری آئی، خاص طور پر بیروزگاری ختم ہو گئی، اس کا مطلب تھا اصلاح پسندی کے سراب پر محنت کش طبقے کی منظم پرتوں کا یقین مضبوط ہوا۔ یوں ایک معاشی بحران کے عہد میں لیبر پارٹی کی حکومت کی نسبت اب حالات بالکل متضاد تھے۔
ایسے حالات میں انقلابی رجحان تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ نہ تو وقت ہے اور نہ ہی موقع ہے کہ اس وقت RCP کی غلطیوں کا تجزیہ کیا جائے۔ لیکن تاریخی واقعات نے ایک چیز کو واضح کر دیا تھا کہ [عوامی یا روایتی پارٹی میں] انٹری [مداخلت] کی جو شرائط ٹراٹسکی نے ماضی میں طے کی تھیں، ان کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا تھا۔ ان شرائط کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
ا۔ قبل از انقلابی یا انقلابی حالات
ب۔ سوشل ڈیموکریسی میں ریڈیکلائزیشن
ج۔ [سوشل ڈیموکریسی یا مزدور تحریک میں ] بائیں بازو کی تشکیل
د۔ انقلابی رجحان کی تیز تشکیل کا امکان
ان میں سے کوئی بھی شرط اس وقت موجود نہیں تھی۔ RCP میں موجود ہیلائٹس [تھامس گیرارڈ ہیلے چھوتھی انٹرنیشنل کے بانیوں میں سے تھا، ہیلائٹس سے مراد اس کے حامی ہیں]نے سب سے پہلے [لیبر پارٹی میں انٹری کا] سوال اٹھایا۔ ان کے تناظر غلط تھے اور 1950ء میں وہ کہہ رہے تھے کہ ایک سال میں سوشلزم یا فاشزم ہوگا۔ ان کے خیال میں آگے کوئی عام انتخابات وغیرہ نہیں ہونے تھے۔ ان کا تناظر صورتحال کے بالکل غلط ادراک پر مبنی تھا۔
تاہم RCP تحلیل ہو گئی اور تمام ٹراٹسکائٹ قوتیں لیبر پارٹی میں چلی گئیں، کلیدی سوال یہ تھا کہ پارٹی میں کیسے اور کس تناظر کے ساتھ کام کیا جائے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ [پارٹی اور ٹریڈ یونینز میں] بڑے پیمانے کا بایاں بازو تخلیق کرنے کے لئے ہماری قوتیں بہت تھوڑی ہیں۔ ہمارا کام سب سے باشعور عناصر کو جیتنا اور پارٹی میں کیڈرز پیدا کرنا ہے۔ ساتھ ہی اپنے کام اور سیاسی پوزیشنز کی بنیاد پر لیبر پارٹی کے مقامی اداروں، وارڈز، انتظامی کمیٹیوں وغیرہ میں پوزیشنز حاصل کی جائیں۔ یہ سب کام مستقبل میں ہمارے کلیدی فرائض کی تیاری ہے۔ اپنے آپ پر بائیں بازو کی اصلاح پسندی کا لبادہ ڈالنے کی کوشش کرنا تباہ کن ہو گا۔ یہ درست ہے کہ انٹری کی جو شرائط ٹراٹسکی نے بیان کی تھیں وہ ابھی تک موجود نہیں ہیں لیکن یہ بیوقوفی کی انتہا ہو گی کہ لیبر پارٹی میں ایک دہائی سے زائد عرصے کا کام چھوڑ کر اب ہم الگ کام کا ایڈونچر شروع کر دیں۔ آزادانہ کام کے مواقع بھی زیادہ امید افزا نہیں ہیں۔ ماضی میں آزادانہ کام سے جو کچھ بھی حاصل ہوا ہو، مستقبل قریب میں غیر معمولی نتائج کی امید نہیں ہے۔ آزادانہ کام سے جو نتائج حاصل ہوں گے اس سے کہیں زیادہ امکانات لیبر پارٹی میں مستقبل میں کھلیں گے۔
اس وقت آزادانہ کام پر زور اس کام کو نقصان پہنچائے گا جو مستقبل میں لیبر پارٹی میں کیا جاسکتا ہے۔ یوں دونوں طریقہ کار کے نقصانات ہی ہمارے حصے میں آئیں گے۔ اگر لیبر پارٹی میں کوئی ریڈیکلائزیشن ہوتی ہے تو دوبارہ اس میں جانا آسان نہیں ہوگا۔ جب ملکی اور عالمی سطح پر معروضی صورتحال تبدیلی کے دہانے پر ہو اور اس کے گہرے اثرات مزدور تحریک پر مرتب ہونے ہوں، جب نتیجہ خیز کام کے امکانات بننے کی طرف جا رہے ہوں، عین اسی وقت میدان نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ٹراٹسکی نے واضح کیا تھا کہ انٹری کی تیاری سے پہلے کچھ افراد کو بھیجا جانا چاہئے جو وہاں جا کر حالات کو محسوس کر سکیں اور دیکھیں کہ کیا امکانات موجود ہیں۔ ہمارا کام اس وقت آنے والے وقت کی تیاری کرنا ہے۔ اگر اس وقت ہم الگ تنظیم ہوتے تو بھی ہمیں اپنی قوتوں کو انٹری کے لئے تیار کرنا چاہئے تھا۔ الگ ہونے کی بجائے ہم اپنی قوتوں کا زیادہ سے زیادہ حصہ [لیبر پارٹی میں] بھیج کر مکمل انٹری کی تیاری کر رہے ہوتے۔ موجودہ حالات میں [لیبر پارٹی سے] سے علیحدہ ہونے کا ایڈونچر حماقت اور بائیں بازو کی انتہا پسندی (Ulta Leftism) ہو گا۔ اس سے کوئی دور رس نتائج حاصل نہیں ہوں گے اور لیبر پارٹی میں ہمارے کام کو شدید نقصان پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ہی عام کارکنان ایسی قلابازیوں سے تذبذب کا شکار ہوں گے اور ممبران میں بددلی پھیلے گی۔ وقتی حالات جو بھی ہوں لیکن تناظر کو سمجھے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ بصورت دیگر کام صرف وقتی حالات کے ظاہری مشاہدے کے مطابق آگے بڑھتا ہے جیسا کہ ہیلائٹس کا معاملہ ہے جو ہر طرف بے قابو چھلانگیں لگاتے ہیں۔ ایسے میں [انقلابی] رجحان ہر فروعی واقعے یا تبدیلی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور وقتی طور پر چلنے والی ہر موافق یا غیر موافق ہوا کے ساتھ اِدھر اُدھر بہتا رہتا ہے، بجائے اس کے کہ روز مرہ کے کام کو مدنظر رکھتے ہوئے ممبران کے سامنے ہر واقعے کا مطلب بیان کیا جائے اور ان واقعات کو ایک وسیع تناظر میں جوڑ کر دیکھا جائے۔
ہمارا کام بڑے صبر سے ایک ایک دو دو افراد یا چھوٹے گروہوں کو جیتنا ہے، عوامی انقلابی دھارے کی تخلیق اس وقت ہماراکام نہیں ہے اور موجودہ وقت میں ممکن نہیں ہے۔ اپنی آواز سے زیادہ بلند آواز میں چیخنے کی کوشش کی جائے تو گلا بیٹھ جاتا ہے اور آخر کار آواز ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ ہمیں مزدور تحریک میں خود کو ایک رجحان کے طور پر قائم کرنا ہے۔
موقع پرستی مہم جوئی کا ہی دوسرا رخ ہے۔ یہ دونوں معروضی حالات کے غلط اندازے یا پھر فوری ماحول کے سامنے ہتھیار ڈال دینے سے برآمد ہوتے ہیں۔ اس لئے تنظیم کی مضبوط نظریاتی بنیاد اور اشتراکی کنٹرول کے بغیر ایک کے بعد دوسری غلطی ہوتی جاتی ہے۔ لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونینز میں واضح انقلابی پروگرام رکھے بغیر عہدوں پر منتخب ہونے کی موقع پرستی میں انگلیاں جلانے کے بعد یہ فطری ہے کہ ہیلائٹس اب الٹرا لیفٹ ازم کی طرف راغب ہوں گے۔
جیسے حالات ہیں اس کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگلا الیکشن لیبر پارٹی جیت جائے گی، خاص طور پر اگر معیشت جمود کا شکار رہتی ہے اور بیروزگاروں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ اگر لیبر پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے تو محنت کش بھی اس کے مطابق اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ ٹریڈ یونینز اور لیبر پارٹی میں زیادہ باشعور عناصر سوشلزم کی سمت میں اقدامات کا مطالبہ کریں گے۔ سرمایہ دار بھی اپنا دباؤ حکومت پر ڈالیں گے اور مزدور رہنماؤں کے اصلاح پسند پروگرام درمیان میں پرزہ پرزہ ہو جائیں گے۔
بحران اور جدوجہد کے ان حالات میں پوری مزدور تحریک کا نیا ابھار ہو گا۔ ان حالات میں لیبر پارٹی میں مضبوط اور وسیع بائیں بازو کے اصلاح پسندانہ دھارے تشکیل پائیں گے۔ ہم اس میں مداخلت کر کے اسے مارکسزم کے نظریات سے زرخیز کرنے کی کوشش کریں گے۔ باشعور پرتیں انقلابی نظریات کو سننے کے لئے تیار ہوں گی جو لیبر پارٹی کو اس بند گلی سے نکال سکتے ہیں جس میں وہ آج قیادت کی پالیسیوں کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے۔ محنت کش طبقے کی یہ اہم پرت اصلاح پسندی کے دیوالیہ پن کو دیکھ پائے گی۔
دوسری طرف اگر لیبر پارٹی کے رہنما اصلاح پسندانہ انداز میں بھی کوئی سوشلسٹ متبادل دینے اور [موجودہ سرمایہ داروں کی ٹوری پارٹی کی حکومت کے خلاف] محنت کشوں کو متحرک کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور عام انتخابات میں لیبر پارٹی ہار جاتی ہے تو بھی تناظر کے بنیادی نکات تبدیل نہیں ہوں گے۔ ایسے میں محنت کشوں کی جدوجہد پارلیمنٹ سے باہر صنعتی میدان میں ہو گی۔ لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونینز کے رہنماؤں کو بائیں جانب جھکنا پڑے گا، کم ازکم لفاظی کی حد تک۔ جدوجہد کے دوران ایک بایاں بازو تشکیل پائے گا۔ اگر محنت کش طبقے کی مزاحمت بہت زیادہ شدید ہو جاتی ہے اور حکومت اپنی حمایت کھو دیتی ہے تو لیبر پارٹی کو حکومت دے کر عوام کو لگام دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ رجعت اور محنت کش طبقے کے خلاف بے رحم اقدامات کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ہو گا۔ دوسری طرف اگر ٹوری پارٹی محنت کش طبقے سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو محنت کش طبقے اور لیبر پارٹی کی صفوں میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ عام محنت کش اپنی قیادت کی مقابلہ نہ کرنے کی سکت پر تنقید کریں گے اور صفوں میں بائیں بازو اور انقلابی نتائج کا خمیر تیار ہو گا۔
ہر صورت میں تناظر طبقاتی جدوجہد کی شدت کا ہے جس کا اظہار مزدور تحریک کی صفوں میں ہو گا۔ یہ وہ بنیادی تناظر ہے جو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ہمیں پارٹی اور ٹریڈ یونینز کے اداروں میں اپنے روز مرہ کے کام پر پورے اعتماد کے ساتھ توجہ دینی چاہئے۔ اپنا عمومی تناظر ہر مرحلے پر واقعات کی روشنی میں پرکھنا چاہئے تاکہ اسے بوقت ضرورت تبدیل یا درست کیا جا سکے۔
تمام انقلابیوں کی سب سے کلیدی ضرورت حس تناسب کو برقرار رکھنا ہے۔ ایک طرف تاریخ کا پورا ادراک ہو، جس کے بغیر ہم کھو جائیں گے، دوسری طرف موجودہ قوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل کے ساتھ رابطہ تلاش کیا جائے۔
ہماری قوتوں کی نظریاتی تربیت کا کام لازمی طور پر لیبر پارٹی میں کام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ دونوں کام ایک جیسے ہی اہم ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا کام ادھورا ہے اگر ہمیں وہ کردار ادا کرنا ہے جو تاریخ نے ہمارے لئے متعین کیا ہے۔
مارچ 1959ء