| رپورٹ: ماجد میمن |
نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے شپ بریکنگ یارڈ آفس کا تمام ریکارڈاپنے قبضے میں لیتے ہوئے 60 سے زائد ڈیتھ گرانٹس کی رقم میں خرد برد کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جہاں دس ہزار سے زائد مزدور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں کام کرتے ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے لیبر افسران کے ساتھ ساتھ پاکٹ یونین کے جنرل سیکرٹری بابو کریم جان کو بھی کوئٹہ نیب آفس میں طلب کر لیا ہے۔ یونین کے عہدوں پر محنت کشوں کا حق ہے لیکن ادارے میں اس پر سرمایہ دار قابض ہیں۔ گڈانی شپ بریکنگ لیبر یونین پچھلے 20 برسوں سے ایک مافیا کے طور پر یونین پر مسلط ہے۔ ادارے میں ہزاروں مزدور بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہیں اور کام کے دوران کسی قسم کے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے بہت سے مزدور جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ صرف گزشتہ تین سالوں میں 60 افراد کام کے دوران جہاز سے گر کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک ہونے والے 60 محنت کشوں کے لیے جاری کردہ 3 کروڑ کی ڈیتھ گرانٹس کی رقم لیبر افسران اور پاکٹ یونین نے ہڑپ کر لی ہے۔ اگر کبھی کچھ مزدور یونین کے الیکشن کے حوالے سے کوشش کرتے ہیں تو انہیں پولیس اور دیگر ذرائع استعمال کر کے گڈانی بدر کر دیا جاتا ہے۔ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں تحقیقات کی خبر سے لیبر افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے لیکن ادارے کے دس ہزار مزدوروں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔گڈانی شپ بریکنگ یارڈ مزدور یونین کے رہنما بشیر احمد محمودانی اور طاہر یوسف زئی نے پاکٹ یونین کے خلاف تحقیقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر ریفرنڈم کا اعلان کرے تاکہ شپ بریکنگ کے مزدوروں کو ان کی حقیقی قیادت میسر آ سکے۔