غربت میں امن؟

اداریہ جدوجہد:-

امن ’’مذاکرات کیلئے مذاکرات‘‘ ابھی شروع بھی نہ ہوپائے تھے ’’سرحدی جھڑپیں‘‘ شروع ہو گئیں۔ جنگ اور امن کے یہ پراسرار سلسلے کب سے چل رہے ہیں . . . اور جانے کب تک چلتے رہیں گے . . . کہیں جنگ کے بھونڈے طبل ماند سی آواز میں بج رہے ہیں تو کہیں ’’امن کی آ شا‘‘ کا مدہم شور ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف 17 بے گناہ شہری جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ کشمیر اور انٹرنیشنل سرحدوں پر رہنے والے ان باسیوں کی زندگیاں دوہرے عذابوں سے دوچار ہیں۔ وہ یہاں رہ بھی نہیں سکتے اورچھو ڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتے۔ بارڈر چھوڑ کر یہ جہاں بھی جائیں گے، غربت کے عذاب ہی ان کااستقبال کریں گے۔ جوٹوٹی پھوٹی زندگی ان خطرناک سرحدی علاقوں میں وہ گزارتے ہیں، اس سے بھی جاتے رہیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایک ’’بے قاعدہ با قاعدگی‘‘ کے ساتھ جھڑپوں اور جنگی جنون کا یہ سلسلہ کیوں شروع کیا جاتا ہے؟ سرحدوں پر جنگیں اب ماضی کی طرح کم ہی ہوتی ہے۔ آج جنگیں زیادہ تر میڈیا پر لڑی جاتی ہیں، خواہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران طبقات کے سیاسی نمائندوں کی لڑائیاں ہوں، مذہبی بنیاد پرستی اور سامراج کے تصادم ہوں یا پھرقومی او ر مذہبی جنون کے فرسودہ تضادات۔ پھر اس قسم کی صورتحال میں تقسیم کی دونوں اطراف کے سیاست دان حب الوطنی اور قومی شاونزم کا شور مچاتے ہیں، زہریلی انتہا پسندی کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا کے اینکر اور تجزیہ نگار، یوں آگ بگولے ہوتے ہیں کہ منہ سے جھاگ برآمد ہونے لگتی ہے۔ چائے کی پیالی میں یہ طوفان کبھی تھوڑا لمباہوتا ہے تو کبھی جلد ہی تھم جاتا ہے۔ پھر ’’امن‘‘ کی باتیں ہوتی ہیں اور مذاکرات کے نہ ختم ہونے والے ’’عمل‘‘ شروع ہوجاتے ہیں۔
برصغیر کے حکمران آج ایسی کیفیت سے دوچار ہو چکے ہیں کہ کھل کر کوئی بھرپور قومی جنگ لڑسکتے ہیں نہ ہی دوررس، پیہم امن اور ’’اچھے تعلقات‘‘ قائم کرسکتے ہیں۔ اس کھلواڑ کو سمجھنے کے لیے ان حکمران طبقات کی ساخت اورتاریخی کردار کو سمجھنا نہایت ہی ضروری ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے سرمایہ دار طبقات نے جب سامراج کی براہِ راست غلامی سے بالواسطہ غلامی کو ’’آزادی‘‘ کے نام پر اختیار کیا تو انکے خواب تھے کہ وہ مغربی یورپ اور دوسرے کلاسیکی سرمایہ دارانہ ممالک کی طرح یہاں ایک جدیدصنعتی معاشرہ، ترقی یافتہ معیشت اور صحت مند پارلیمانی جمہوریت کا اجرا کرسکیں گے۔ لیکن عالمی سامراج کے غلبے میں یہ مفلوج اقتدار جب انگریز آقاؤں کے ’پلانٹڈ‘ مقامی حکمران طبقے کو ملا تو انہیں جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ تاریخ کے میدان میں بہت تاخیر سے داخل ہوئے ہیں۔ ان کے نظام کا وقت گزر چکا تھا۔ انہوں نے ایک طرف سامراج کی گماشتگی اختیار کی تو دوسری جانب جاگیرداری سے مصالحت کرکے ایک پیروکاراور مطیع سرمایہ دار طبقے کا کردارادا کیا۔ اپنی شرح منافع کو بڑھانے کے لیے اس سرمایہ دار طبقے نے بدعنوانی اور ریاستی خزانے کی لوٹ مار کا جو عمل شروع کیا اس کے بعد ریاستی مشینری انکی حفاظت اور انکی مراعات کے فروغ کا کام بھلا مفت میں کیوں کرتی؟ نتیجتاً ریاستی افسر شاہی کی اعلیٰ پرتیں خود حکمران طبقے کا حصہ بننا شروع ہوگئیں۔ دولت اور طاقت کے اس کھیل میں ریاستی افسر شاہی اور سرمایہ دار طبقے کا ساتھ ہمیشہ چولی دامن کا رہا ہے۔ دونوں قوتیں توازن برقرار رکھنے اور اپنے منافعوں کے فروغ کے لیے ہی تمام داخلی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرتی رہی ہیں۔ سوائے چند غیر معمولی سالوں کے، ہر دور کی سیاست، ریاست اور حکومت انہی مالی مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہی ہے۔
پھر سامراجی اجارہ داریوں کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کے اپنے مفادات اور مضمرات ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں جنگی صنعت کی پیداوار اور اس پیداوار کی کھپت کلیدی کردار کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں برصغیر کے سرمایہ دار طبقے کے کچھ دھڑے وسیع منڈیوں کے حصول کے لیے ’’امن وآشتی‘‘ چاہتے ہیں وہاں عالمی سیاست پر حاوی اسلحے کی سامراجی اجارہ داریوں کے مالکان اور ان کے مقامی کمیشن ایجنٹ اپنی بِکری کے لیے جنگ اور تصادم کے خواہاں ہیں۔ لیکن ایک بڑی جنگ سے ہونے والی ہولناک بربادی سے ملٹی نیشنل اجارہ داریوں اور مقامی سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری اور اثاثوں کو چونکہ تباہی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے اس لیے ایک بھرپور جنگی تصادم کی بجائے ’’حالتِ جنگ‘‘ وقفے وقفے سے پیدا کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ جنگ اور اسلحے کے منافعوں سے وابستہ حکمران دھڑے اور عسکری اشرافیہ جنگی جنون کو ہوا دیتے اور دلواتے ہیں تو منڈیوں میں کھپت کے متلاشی دوسرے حکمران ’’امن‘‘ کے پراجیکٹس کو فنانس کرتے ہیں۔
ہندو اور اسلامی مذہبی بنیاد پرستیاں ایک دوسرے پر پلتی ہیں۔ ایک کے جنون کی شدت دوسرے کی وحشت کو تقویت دیتی ہے۔ جہاں اسلامی بنیاد پرست ’پین اسلام ازم ‘ کا پرچار کرتے ہیں وہاں ہندو بنیاد پرست جارحانہ پھیلاؤ کے اپنے عزائم کے لئے سرگرم ہیں۔ مذہب کو برصغیر کی سیاست پر ٹھونسنے والے موہن داس گاندھی کو قتل کرنے والے نتھورام گودسے کی ’’ارتھیاں‘‘ابھی تک پونا میں ایک پیتل کے برتن میں محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ہندو بنیاد پرست، نتھو رام کی وصیت کے مطابق انہیں گنگا کی بجائے پاکستان پر قبضہ کے بعد دریائے سندھ میں بہانے کے جنون میں مبتلا ہیں کیونکہ قدیم ہندو مت میں اصل مقدس دریا ’’سندھو‘‘ کوسمجھا جاتا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت اور پاکستان کے حکمران سیاست دان ’’غربت کے خاتمے کے لیے امن‘‘کی آڑ میں اپنے مالی مفادات کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ کانگریس حکومت ہو یا نریندرا مودی کی بی جے پی کا رجعتی اقتدار، انداز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن بنیادی فلسفہ یہی ہے۔ اس ملک میں بھی ’’بھرپور جواب‘‘ سے لے کر ’’امن کی آشا‘‘ تک، دو بظاہر متضاد فلسفوں پر انہی حکمرانوں کی اجارہ داری ہے۔ عمران خان نے بیک وقت مودی کو انتباہ کرتے ہوئے امن قائم کرکے غربت کے خاتمے کا مشورہ بھی دے دیا ہے۔ پاکستان کے باقی تمام سیاسی راہنماؤں کا بھی یہی ’’مؤقف‘‘ ہے۔
درحقیقت امن کے ذریعے غربت کے خاتمے کا پورا مفروضہ ہی الٹ، بے بنیاد اور نامراد ہے۔ جب تک غربت ہے تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ غربت کی ذلت سے تنگ محنت کشوں نے جب بھی اس نظام کے خلاف بغاوت کی ہے تو’’امن کے خواہاں‘‘ برصغیر کے انہی حکمرانوں نے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور طبقاتی جدوجہدکو زائل کرنے کے لئے خود جنگی جنون کو ہوا دی ہے۔ داخلی تضادات اور عوامی تحریکوں کو دبانے کے لئے ہمیشہ بیرونی دشمن کا ہوا کھڑا کیا جاتاہے۔ دنیا بھر میں حکمران طبقے کی یہ آزمودہ واردات ہے۔ جدید جرمنی کے بانی بسمارک کے مایہ ناز جرنیل کارل کلازویٹ نے ایک مرتبہ لکھا کہ’’جنگ درحقیقت داخلی سیاست کو خارجی تسلسل دینے کا نام ہے۔ ‘‘ لہٰذا جب تک غربت اور محرومی رہے گی، امن قائم ہو ہی نہیں سکتا اور جب تک یہ متروک سرمایہ دارانہ نظام قائم ہے، غربت اور محرومی میں اضافہ ہی ہوگا۔
حکمرانوں کی دولت اور منڈیوں کی لڑائیاں عوام پر تب تک ہی مسلط کی جاسکتی ہیں جب تک کہ وہ جمود کی کیفیت میں سیاست سے بے نیاز اور سماجی بے حسی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس برصغیر میں آباد دنیاکی 22 فیصد آبادی میں کرہ ارض کی46 فیصد بھوک پلتی ہے۔ اس اذیت کو منافقانہ سفارت اور ’’حب الوطنی‘‘ کے ذریعے بھلاکب تک دباکر رکھاجاسکتا ہے؟ عوام کو ’’مذاکرات‘‘ اور جنگی جنون کے سحر میں ایک وقت تک تو مبتلا رکھا جاسکتا ہے، ہمیشہ کے لیے کبھی نہیں۔ پاکستان یا ہندوستان میں ہونے والی ہر تبدیلی سرحد کے دونوں اطراف اثرانداز ہوتی ہے۔ 1968-69ء میں پاکستان سے اٹھنے والی انقلابی تحریک نے ہندوستان کے حکمرانوں کو بھی لرزا دیا تھا اور 1971ء کی جنگ جیتنے والے اندرا گاندھی کا تختہ 1972-74ء میں ہندوستان کے محنت کشوں نے خود الٹ دیا تھا۔
امن تب قائم ہوگا جب استحصال اور مانگ کا خاتمہ ہوگا، غربت مٹے گی، سماجی خوشحالی اور معاشی آسودگی آئے گی۔ امن کی یہ شرائط خود سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی غلبے کو اکھاڑ پھینکنے والے محنت کش عوام کے انقلاب سے مشروط ہیں۔