کراچی آپریشن اور ایم کیو ایم: ریاست کا سایہ، کچھ اپنا کچھ پرایا!

| تحریر: پارس جان |
ایک دفعہ پھر کراچی تمام متجسس نظروں اور ’سنجیدہ‘ علمی اور سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر صحافت کے بازار میں ’آپریشن‘ نام کا چورن بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ یمن میں انسانی لاشوں کی تجارت کے بعد شاید یہ جنس میڈیائی اشتہار بازی میں سب سے آگے ہے۔ آپریشن کے چورن پر ضمنی الیکشن کے تڑکے نے اس کاروبار میں ’خیر و برکت‘ کو کئی گنا بڑھاوا دیا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر طرف سے محض جھوٹ اور بہتان تراشی برتی جا رہی ہے بلکہ گزشتہ چند ماہ میں بہت سے منجمد سچ بھی پگھل کر صحافتی افق سے ٹپکنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر سچ کے اوپر ابہام اور قیاس آرائیوں کی ایسی کثیف چادر لپیٹ دی گئی ہے کہ ہر سچ بھوت پریت کی کہانیوں کی طرح آسیب زدہ اور مضحکہ خیز ہو گیا ہے۔ ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ آدھا سچ پورے جھوٹ سے بھی زیادہ مضر ہو سکتا ہے۔ اور اس تمام تر مساوات کا سب سے خطرناک عنصر وہ خوش فہمیاں ہیں جو کراچی کے نوجوانوں کے معصوم دماغوں میں انڈیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہر خوش فہمی مکمل طور پر تشکیل پانے سے پہلے ہی شکست و ریخت سے دوچار ہو رہی ہے۔ یہ یکے بعد دیگرے وقتی روحانی اور اعصابی دھچکے عوامی شعور کو ایسے زور دار طریقے سے واقعات کے فرش پر پٹخ رہے ہیں جیسے دھوبی گھاٹ پر انتہائی میل خور کپڑوں کی زور آور دھلائی کی جا رہی ہو۔ یہ تمام عوامل مل کر کسی بہت بڑے سیاسی زلزلے کی پرورش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم، گلی سڑی فسطائیت
altaf hussain cartoonایم کیو ایم کوئی اپنی نوعیت کا واحد یا الگ تھلگ سیاسی معمہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ صدی میں ہر اس جگہ پر ایسے فسطائی عناصر مختلف شکلوں، شدتوں اور کیفیتوں میں پنپتے ہوئے نظر آئے ہیں جہاں عوامی تحریکیں اور انقلابات اپنی باطنی آرزؤں کی تکمیل میں ناکام ہوئے۔ محنت کش عوام کی تھکاوٹ اور پسپا ہوتے ہوئے عوامی شعور نے ایسے فسطائی عناصر کو وہ سماجی حمایت فراہم کی جسکی وجہ سے یہ طاقت کے نشے میں بد مست ہو کر اپنے آقاؤں کے گریبانوں سے بھی الجھ پڑے اور انہیں بار بار اس طرح کی سیاسی مہم جوئیوں کے ’جرمانے اور ہرجانے ‘ بھی بھرنے پڑے جس کے باعث بالآخر وہ پھر اسی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ پاکستان میں ایم کیو ایم کی روداد بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ پاکستانی ریاست نے محنت کشوں کے شہر کراچی میں تحریک کو براہِ راست جبر کے ذریعے مکمل طور پر نہ کچل سکنے کی وجہ سے اور مذہبی جنون کے طریقہ کار کی ناکامی کے باعث جماعتِ اسلامی کے بطن سے ایم کیو ایم کی شکل میں ایک نئی بی ٹیم تشکیل دے کر کراچی کواس کے حوالے کر دیا تھا۔ ان سماج دشمن درندوں نے جبر اور بدعنوانی کی وہ داستانیں رقم کیں کہ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی تمام غنڈہ گرد تنظیموں سے سبقت لے گئی۔
اسی اثنا میں ریاستی آشیرباد کے بلبوتے پر انہوں نے بین الاقوامی بلیک مارکیٹ سے بھی مضبوط بندھن استوار کر لیے۔ اسی بڑھتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی اثرو رسوخ نے کئی بار انہیں اسی ریاستی مشینری کو بائی پاس کرنے پر مجبور کر دیا جس کے بلبوتے پر یہ سارا خونی کھلواڑ رچایا جا رہا تھا۔ طاقت کے اس اصلی نیوکلیس نے جب اپنی مقناطیسی کشش سے ایم کیو ایم کے پھولے ہوئے غبارے سے ہوا نکالنے کی کوشش کی تو 90ء کی دہائی میں نہ صرف یہ کہ دو بڑے فوجی آپریشن سامنے آئے بلکہ ایم کیو ایم میں سنی تحریک اور ’حقیقی‘ ایم کیو ایم کی شکل میں دو بڑی پھوٹیں بھی ڈالی گئیں جن کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا۔ لیکن اس سارے عرصے میں ایم کیو ایم ریاستی جبر اور تشدد کا واویلا کر کے اور لاشوں کی خریدو فروخت کے دم پر اپنی سماجی حمایت کو کسی حد تک بچانے میں کامیاب رہی۔ دوسری طرف اسی دوران اور اس کے بعد بننے والی تقریباً تمام قومی، صوبائی اور شہری حکومتوں میں تسلسل سے حصہ داری نے اب کافی حد تک ریاستی گٹھ جوڑ کا پول کھول دیا ہے اور ساتھ ہی اتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی وجہ سے ایم کیو ایم کے اندر مختلف گروہی مفادات الگ الگ مراکز کے گرد مجتمع ہوتے رہے جو اب دیو ہیکل داخلی انتشار کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ڈرگ مافیا کے ایجنٹس، رئیل سٹیٹ اور قبضہ مافیا، اور کرائے کے قاتلوں کے الگ الگ نیٹ ورک ہیں جو الگ الگ قوتوں کے مطیع ہونے کے ساتھ ساتھ وفاداریاں بدلنے میں بھی بہت مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ عامر خان جیسے لوگوں کی واپسی (جسے ایک منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے) سے یہ داخلی خلفشار اور زیادہ ہنگامہ خیز شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان تمام گروہوں کے نہ صرف مختلف ریاستی گروہوں سے ’قول وقرار‘ اور مالیاتی شراکتیں ہیں بلکہ مختلف علاقائی اور عالمی مالیاتی دھڑوں کے ساتھ تانے بانے بھی منسلک ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سب طاقتیں ایم کیو ایم کو اپنی اپنی سمتوں میں کھینچ رہی ہیں جس کے باعث ایم کیو ایم کا مرکزہ (نیوکلیس) کئی بار ٹوٹنے کے قریب قریب پہنچ چکا ہے۔ الطاف حسین کے بارہا پارٹی قیادت سے استعفوں اور روٹھنے منانے کے ٹوپی ڈرامے اور رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹیوں کی وقتاً فوقتاً اکھاڑ پچھاڑ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
845812-CartoonSabirNazarthMarch-1427128272-393-640x480کہتے ہیں کہ دولت کی ہوس لا امتناعی طور پر بڑھتی چلی جاتی ہے اور پھر کالی دولت کی ہوس تو پاگل پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ پیاس ہے جو پینے سے اور زیادہ بھڑکتی ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں اس نام نہاد مڈل کلاس کی پارٹی میں بہت سے لوگوں کو اسی پیاس نے اتنا مشتعل کیا کہ انہوں نے اپنے شراکت داروں سے بھی بد دیانتی کرنی شروع کر دی۔ وہ زبانی کلامی تو ’قائدِ تحریک، قائدِ تحریک ‘ کا راگ الاپتے رہے اور درپردہ دولت کے انبار پر اپنی آزادانہ اجارہ داری قائم کرنا شروع کر دی۔ ان میں سے بہت سے لوگ تو لوٹ کا مال سمیٹ کر پتلی گلی سے نکل چکے یا نکالے جا چکے ہیں (جن میں مصطفی کمال جیسے نامور سیاسی ٹائیکون بھی شامل ہیں) مگر بہت سے ابھی بھی خفیہ ایجنڈے کے تحت دونوں ہاتھوں سے مال بنانے میں لگے ہوئے ہیں یا مناسب وقت پر بھاگنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ جو زیادہ ’سیانے‘ ہیں وہ نئی سیاسی ’گنگا جل‘ میں دھل کر پوتر ہونے کے سپنے بھی دیکھ رہے ہیںیہ وہی لوگ ہیں جن کو الطاف حسین کالی بھیڑیں کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ ان میں سے کتنوں کو یہ مال ہڑپ کرنے کا موقع ملتا ہے اس کا تعین کرنا مشکل ہے۔ لیکن حقیقتاً الطاف حسین خود بھی اتنی زیادہ طاقت، شہرت اور دولت کے ہاتھوں نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے اس حد تک غیر فطری اور مصنوعی مقبولیت اور اثرو رسوخ کا عموماً یہی انجام ہوتا ہے۔ اب وہ سرمائے کے علاوہ کسی اور تو کیا خود اپنے آپ کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے۔ منی لانڈرنگ کے حالیہ مقدمات نے اسے اور بھی وحشت انگیز بنا دیا ہے۔ وہ ایک دم ’ببر شیر ‘ بن جاتا ہے اور دوسرے ہی لمحے ’بھیگی بلی ‘ کی طرح ’میاؤں میاؤں ‘ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے اس حد تک بے نیازانہ لا ابالی پن نے نہ صرف پارٹی کے اندر اور باہر بلکہ ملک کے اندر اور باہر پارٹی سے وابستہ اور استفادہ حاصل کرنے والے مختلف طاقتور حلقوں میں مائنس ون کی سوچ کو تقویت دی ہے۔ لیکن پھر کراچی جیسے شہر میں خوف کے اس ’استعارے‘ کو منظر سے ہٹانا بھی بہت بڑی مہم جوئی ثابت ہو سکتا ہے اس لیے ہچکچاہٹ اور تذبذب ہر طرف نمایاں ہے۔ یوں یہ بیمار اور لاغر فسطائیت ریاست کے گلے کا ایسا ڈھول بن گئی ہے جس کو بجانا بھی ممکن نہیں رہا اور اسے اتار پھینکنا بھی ان کے بس کی بات نہیں۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رواں کراچی آپریشن کے کیا معینہ مقاصد ہیں اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟
براہِ راست ریاستی کھلواڑ اور کالی معیشت
Karachi-operation-cartoon-by-Feica-1صولت مرزا کے انکشافات اورایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے ٹارگٹ کلرز اور بڑے پیمانے پر ممنوعہ اسلحے کی برآمدگی کو میڈیا پر اتنا زیادہ اچھالا جا رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہو گئی ہو۔ عملی طور پر ایم کیو ایم کی مجرمانہ حقیقت سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ گزشتہ تین برسوں میں کئی مرتبہ رینجرز نے عزیز آباد (نائن زیرو) کے اطراف پوزیشنیں لیں لیکن پھر کچھ زیادہ با اثر قوتوں کی ایما پر پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ موجودہ آپریشن کے حوالے سے میکانکی سوچ کی طرف سے بہت بڑی غلطی یہ کی جا رہی ہے کہ اس آپریشن کو ایم کیو ایم بمقالہ ریاست قرار دیا جا رہا ہے جیسے کسی رسمی جنگ کی طرح ایک طرف ایم کیو ایم ہو اور دوسری طرف فوج اور براہِ راست لڑائی ہو رہی ہو۔ اصل میں دونوں طرف فوج اور ریاست کے مختلف دھڑے ہیں اور یہ بات محض کراچی آپریشن کے تناظر میں نہیں بلکہ بحیثیتِ مجموعی نام نہاد ’ضربِ عضب ‘ کے حوالے سے زیادہ اہم ہے۔ ویسے تو ریاست کی یہ داخلی لڑائی بہت پر پیچ ہے لیکن اس میں دو بڑے دھڑے آپس میں برسرِ پیکار ہیں جو مزید وقتاً فوقتاً نئی پھوٹوں کا سبب بن رہے ہیں۔ کچھ دانشور خواتین و حضرات ان متحارب دھڑوں کے لیے ’سیکولر‘ اور ’بنیاد پرست‘ جیسی غیر معتبر اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں وقتاً فوقتاً ان دھڑوں میں وقتی مفاہمتیں بھی دیکھنے میں آئیں (پرویز مشرف کی ’سیکولر‘ حکومت میں ایم ایم اے کی حصہ داری وغیرہ) جبکہ کئی مرتبہ طاقتوں کا توازن ایک یا دوسرے پلڑے کی طرف بہت زیادہ جھکتا ہو ادکھائی دیا۔ سات فیصد معاشی ترقی کی رفتار نے مڈل کلاس کے حجم میں جو اضافہ کیا تھا اس سے تبدیل شدہ طاقتوں کے توازن نے لال مسجد آپریشن کو جنم دیا تھا اور مسلسل گرتی ہوئی معاشی سرگرمی کے دباؤ سے ریاستی اتھل پتھل نے موجودہ آپریشن کو جنم دیا ہے۔ یہ آپریشن بھی یکسر یکساں نوعیت کا نہیں ہے۔ ایک طرف تو وزیرستان اور مغربی سرحدی علاقوں میں بنیاد پرستوں کے خلاف آپریشن کا تاثر دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم جیسی نام نہاد سیکولر پارٹی کو بظاہر زیرِ عتاب ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے لال مسجد آپریشن کے باوجود جامعہ حفصہ اور اس کے جنونی ملا کی بدمعاشی قائم و دائم ہے اسی طرح نائن زیرو آپریشن کے بعد بھی ایم کیو ایم موجود رہے گی۔ حقیقت میں نہ تو بنیاد پرستی کو ختم کیا جانا مقصود ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم کو مٹانے کا ارادہ ہے بلکہ یہ سب ریاست کی رٹ بحال کرنے کا تاثر دینے کی ناکام کوششوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔
Karachi-target-killing-cartoon-699x1024یہ بھی درست ہے کہ حکمران طبقے کے سنجیدہ حلقے کراچی جیسے شہر میں کاروبار کے لیے پر امن سازگار ماحول دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور وہ اس طرح کے آپریشن کی شفافیت کے لیے دباؤ بڑھاتے رہتے ہیں مگر ناقابلِ حل معمہ یہ ہے کہ کالی معیشت کو کسی صورت سنٹرلائز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ہونے والی کمی سے کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کرنے کی غلطی کر رہے ہیں کہ شاید کراچی میں دیرپا امن کی بنیادیں قائم ہو رہی ہیں لیکن صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اس آپریشن سے حقیقی کینسر کا نہیں بلکہ محض علامات کا تدارک ممکن ہے۔ کینسر قائم رہے گا تو نئی علامتیں نمودار ہوں گی۔ جیسے کسی نا قابلِ علاج بیماری کے مریض کو بھی عارضی صحت یابی اور اطمینان کے وقفے میسر آجاتے ہیں لیکن مریض اور ڈاکٹر دونوں کو علم ہوتا ہے کہ جان بخشی ہونا ناممکن ہے اسی طرح پاکستانی ریاست کو بھی علم ہے کہ وہ ہوا میں تیر چلا کر کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ 23 مارچ کو دارالحکومت میں پریڈ منعقد کرنے اور مختلف مقامات پر فلیگ مارچ کر دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ یہ ریاست سر سے پاؤں تک کالے دھن سے لتھڑی ہوئی ہے اوریہ کالے دھن کی نہیں بلکہ کالا دھن اس کاحکمران ہے۔
اگر یہ اس آپریشن کے حوالے سے واقعی سنجیدہ ہوتے تو پہلے عوام کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے اور معافی طلب کرتے۔ یہ تو بتایا گیا کہ نائن زیرو سے ممنوعہ اسلحہ بر آمد ہوا ہے لیکن یہ بھی تو بتایا جاتا کہ وہ اسلحہ گزشتہ دہائیوں میں خود فوج اور رینجرز کی زیرِ نگرانی ہی تو وہاں پہنچایا گیا تھا۔ لیکن ان اعترافات کے برعکس رینجرز اب خود براہِ راست کراچی کی کالی اور سفید ہر طرح کی معیشت میں ایک بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ اسی طرح پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی پاک صاف نہیں ہیں۔ 5اپریل کی ایک خبر کے مطابق اغوا برائے تاوان کی ایک واردات کے بعد مغوی کو ایک پولیس چوکی سے رینجرز نے بازیاب کرایا جس کو اغوا کرنے والے مجرم پولیس اہلکار تھے۔ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف بیان دیتے ہوئے ایک اور پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ ملزمان پہلے بھی اس قسم کی وارداتوں میں ملوث رہ چکے ہیں مگر کیوں کہ اس محکمے کے افسران بھی اس دھن سے مستفید ہوتے ہیں اس لیے ان کے خلاف کوئی موثر کاروائی نہیں ہوتی۔ یہ محض صرف ایک مثال ہے۔ بلیک مارکیٹ کے باب کا کوئی بھی صفحہ کھولیں گے تو وردی اور بوٹوں کے نشان ضرور نظر آئیں گے۔ یہی ریاستی عناصر زیادہ حصہ وصول کرنے کے لیے امن کمیٹی، پی پی آئی (پنجابی پشتون اتحاد )، ANP کا مافیا گروہ، نام نہاد طالبان گروپوں اور مجرموں کی سرپرستی کرتے ہیں اور نئے مہرے تیار کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جن کے خلاف آپریشن درکار ہے ان کے ذریعے آپریشن کرنے سے کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل ہونے والا نہیں ہے۔
بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال
war in yemen and pakistan cartoonکراچی دنیا سے الگ تھلگ خلا میں موجود نہیں ہے۔ 2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد سے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اس خطے میں بھی بہت بڑے بڑے سیاسی واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں نئے سیاسی اتحادوں اور بلاکوں کے لیے سنسنی خیز جوڑ توڑ عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ جوڑ توڑ انتہائی مبہم اور بالواسطہ ہی سہی لیکن پاکستان کی داخلہ پالیسیوں اور ان آپریشنز کی فعالیت اور نتائج پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ پاکستان میں چین کے ساتھ ’اکنامک کوریڈور‘ کی تشکیل قومی اور مذہبی پراکسی جنگوں کو ایک دفعہ پھر مہمیز دے سکتی ہے۔ پرانے سامراجی کھلاڑیوں کی موضوعی کمزوریوں نے نئے کھلاڑیوں کو بہتر کھیل پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پاکستان جیسی گماشتہ ریاستوں کے مختلف حصے ان نئے مواقعوں سے ٹپکتی ہوئی رالوں کے ساتھ مستفید ہو رہے ہیں جسکے ملکی سیاست پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ مغربی ممالک اور بالخصوص امریکی سامراج کی نرم روی نے علاقائی سفارتکاری میں کھلبلی مچا دی ہے۔ سعودی سامراج علاقے میں اپنے اثرو رسوخ کو بحال رکھنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے اور اس ضمن میں وہ پاکستان کو ایک لے پالک ریاست تصور کرتا ہے۔ نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دلانے میں ان کی مداخلت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی لیکن پاکستانی ریاست امریکی خوشنودی کو بھی داؤ پر نہیں لگا سکتی۔ خود ایران کا پروردہ ریاستی دھڑا بھی کافی موثر ہو چکا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ملکی سیاست میں حیران کن ہیجان پیدا کر رہے ہیں۔ یمن کے مسئلے پر پارلیمنٹ کی قرارداد سعودی نواز ریاستی دھڑے کو بظاہربڑا دھچکا ہے۔ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کے خطرے کے پیشِ نظر یمن میں فوجی مداخلت سے گریز کیا جا رہا ہے لیکن سعودی عرب کے پاکستانی ریاست کی سرپرستی میں کام کرنے والے ’اچھے‘ اور بعض ’برے‘ طالبان سے بھی دیرینہ تعلقات ہیں یوں یہ رجعتی عناصر ردِ عمل کے طور پر ملک میں فرقہ وارانہ قتلِ عام کی روش کو تقویت دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی ’دفاعِ حرمین شریفین کانفرنس‘محض ایک آغاز ہے جو کوئی بھی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
کراچی پہلے ہی گزشتہ تین برسوں سے فرقہ وارانہ درندگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ تمام بنیاد پرست کالعدم تنظیمیں جن کے خلاف آپریشن کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے ان سب کو عملاً کراچی میں وال چاکنگ، کیمپنگ، جلسے جلوس اور بھتہ خوری کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ کراچی کے مختلف مدارس جو دنیا بھر میں دہشت گردی ایکسپورٹ کرنے کی وجہ سے کافی مقبول ہو چکے ہیں درحقیقت بلڈر مافیا اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ کراچی میں آپریشن کو شروع ہوئے ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کسی مدرسے اور انکے سرغنہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ یہ مدارس علاقائی سامراجی قوتوں کی پراکسی جنگوں کے لیے بارود کی فیکٹریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کراچی میں تبلیغی جماعت کا نیٹ ورک بھی ریاستی پشت پناہی میں تمام قومیتیوں اور مختلف علاقوں میں پھیلایا جا رہاہے۔ سطحی طور پر بے ضرر نظر آنے والی یہ جماعت درحقیقت دہشت گردوں اور خود کشوں کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔ یہ کارخانہ سعودی سامراج کے براہِ راست تصرف میں ہے اگرچہ اب اسے قطری اور ترکی آشیرباد بھی حاصل ہو رہی ہے۔ ایران نواز شیعہ جماعتیں بھی پہلے کی نسبت نہ صرف مالی طور پر زیادہ مستحکم ہیں بلکہ زیادہ خونخوار اور متشدد ہوتی جا رہی ہیں۔ ایران اور امریکہ کی قربت انہیں اور زیادہ حوصلہ اور اخلاقی حمایت دینے کا موجب بنے گی۔ یاد رہے کہ کراچی کی تمام بڑی اور نام نہاد جمہوری پارٹیوں کے اندر تک فرقہ وارانہ تعصبات سرایت کر چکے ہیں اور انکے متعلقہ ریاستی دھڑوں کے ساتھ برق رفتار مراسم بھی ہیں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی میں فیصل رضا عابدی کی علی الاعلان شیعہ گردی شہ سرخیوں کا حصہ اور ٹاک شوز کی زینت رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے اندر بھی شیعہ سنی تضادات مسلسل شدت اختیار کرتے رہے ہیں۔ کچھ صحافتی حلقوں کا تو یہاں تک بھی کہنا ہے کہ کراچی میں شیعہ سنی ٹارگٹ کلنگ میں دونوں طرف سے ایم کیو ایم کے متحارب دھڑوں کے کلرز ہی ملوث ہوتے ہیں۔ یعنی ایم کیو ایم میں شیعہ اور سنی الگ الگ عسکری ونگ موجود ہیں۔ مرکز میں ن لیگ میں سنی انتہا پسنداہم عہدوں اور اہم حکومتی پوزیشنوں پر براجمان ہیں۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی یہ منافقت جہاں پارٹیوں کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ رہی ہے وہیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور مالیاتی سپلائی لائن کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔
سادہ دل مڈل کلاس دانشوروں کی خواہشات کے برعکس یہ آپریشن ریاستی ایجنسیوں اور سیاستدانوں کے ضمیرکے جاگنے کی علامت نہیں بلکہ اپنی کھوکھلی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کی منافقانہ جعلسازی ہے تاکہ بدعنوان اور بے لگام فوجی اشرافیہ اور ان کے تنخواہ دار سیاستدانوں کی لوٹ مار بغیر کسی سماجی اور سیاسی دباؤ کے جاری رکھی جا سکے۔ مختصر یہ کہ یہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں بلکہ مستحکم اور منظم ہوتے ہوئے عوامی شعور کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
ضمنی الیکشن اور ریاست کا ’دستِ شفقت‘
today-s-cartoon-1423607062-5782مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں غیر جانبدار رہتے ہوئے مصالحت کا کردار ادا کرنے کی قرارداد ( جس کی پائیداریت ابھی تک مشکوک ہے اور عملاً اس پر مکمل طور پر عمل ہونا ناممکن ہے)کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ملک میں جمہوریت کی ترقی اور تسلسل کا راگ الاپنے والے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ گزشتہ وفاقی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے پر بھی وہ اسے جمہوریت کی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کے براہِ راست اقتدار سے دور رہنے کے باوجود یہ نام نہاد جمہوریت آج پہلے سے کہیں زیادہ ان کی مطیع ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف کے تمام تر سیاسی اقدامات اور پالیسیوں کی ڈوریں GHQ سے ہی کھینچی جا رہی ہیں۔ آج سے20 سال قبل تک یہ سب کچھ کم از کم چھپانے کی ضرور کوشش کی جاتی تھی لیکن ’جمہوریت کے تسلسل‘ نے اس تکلف کی ضرورت بھی ختم کر دی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنی تمام تر داخلی اور ضروری لڑائیاں سیاست کی شطرنج کے ذریعے لڑ رہی ہے۔ تمام لیڈران کسی نہ کسی درپردہ قوت کے فرنٹ مین اور مہرے ہیں۔ موضوعی بحران کے باعث مارشل لا نہ لگا سکنے کی کمزوری کو ’جمہوری‘ شکل دے کر انہوں نے اپنی بچی کھچی ساکھ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جھوٹ، منافقت، دھوکہ دہی اور بے اصولی سے لبریز اس جمہوریت نے عوام کی بڑی اکثریت کو سیاسی عمل سے مکمل طور پر بیگانہ کر دیا ہے۔ جمہوریت کی چھتری تلے کسی بھی سیاسی لیڈر کی کسی بھی پارٹی سے مکمل وابستگی ہی مشکوک اور غیر ضروری ہو چکی ہے۔ عام انتخابات میں بھی عین الیکشن کے وقت تک بہت سے لیڈران کے حوالے سے یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ کونسی پارٹی کے امیدوار ہونگے یعنی دوسرے معنی میں وہ ایک طرف ’محفوظ‘سرمایہ کاری کے لیے درست پلیٹ فارم تلاش کر رہے تھے اور ساتھ ہی ’تھرڈ ایمپائر‘ کی طرف سے اشارے کے منتظر تھے۔
کراچی میں NA-246 میں جاری ضمنی انتخابات کا مصنوعی پن بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ عام انتخابات سے قبل نبیل گبول کی ایم کیو ایم میں شمولیت اور دو سال بعد اچانک ان کے’ ضمیر کی ملامت‘ ایک واضح منصوبہ بندی کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر اب انہیں تعجب کیوں ہونے لگا کہ ان کو اتنے زیادہ ووٹ کیسے مل گئے۔ دھرنوں کی ناکامی کے بعد اور جوڈیشل کمیشن کے ’لولی پاپ ‘ سے غیر مطمئن سیاسی طور پر بیروزگار ہونے والے ’سونامی ‘ کو بھی حسبِ منشا ایک نیا قومی فریضہ ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ جس کے لیے NA-246 کو خالی کرا کر نورا کشتی کا اکھاڑا بنا دیا گیا ہے۔ ریاست کی داخلی لڑائیوں میں ایم کیو ایم اور تحریکِ انصاف کی طرف سے ایک دوسرے کو بری طرح ایکسپوز کرنا جمہوریت کی مضبوطی نہیں بلکہ ریاستی عدم استحکام کی علامات ہیں۔ ایم کیو ایم نے لوگوں کو ہراساں کرنے کی واردات کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور ’نامعلوم افراد ‘ کا نام بدل کر اب ’علاقے کے شہری ‘ رکھ دیا ہے۔ ان کے خیال میں کسی بھی قسم کی متشدد کاروائی کی ذمہ داری ایم کیو ایم یا ان کے کارکنان پر اس لیے عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ الطاف حسین ایک عوامی لیڈر ہیں اس لیے عوام کسی بھی وقت ’فرطِ جذبات ‘ میں مشتعل ہو سکتے ہیں۔ اسے بھی جمہوریت کی ’فتح ‘ قرار دیا جانا چاہیے۔ لیکن ’جمہوریت کا یہ حسن‘ اس وقت سب سے زیادہ آشکار ہوا جب کپتان خان اچانک ’ آدھے مہاجر‘ ہو گئے اور انہیں پتہ چلا کہ ان کی والدہ تو ہجرت کر کے آئی تھیں۔ لیکن سونے پر سہاگہ یہ کہ الطاف حسین نے انہیں آدھا نہیں بلکہ پورا مہاجر تسلیم کر لیا اور پر تپاک استقبال کی یقین دہانی کرا دی۔ جناح گراؤنڈ میں جمہوریت کی دوشیزہ کیا خوب محوِ رقص تھی جب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی عمران خان کے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھی۔
لیکن یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ عمران خان کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم پر جتنی بھی لعن طعن کرلیں لیکن جوں ہی وہ کراچی کی طرف سفر کا آغاز کرتے ہیں تو کراچی سے فاصلہ جتنا کم ہوتا چلا جاتا ہے انکا زہریلا لب و لہجہ اتنی ہی شیرینی اگلنے لگتا ہے۔ سب سے اہم بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی کہ ’ تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم کے نظریات میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے اگر کوئی فرق ہے تو صرف ملیٹنٹ ونگ کا ہے‘۔ لیکن کون جانے کہ یہ فرق بھی کب تک قائم رہتا ہے۔ دراصل خان صاحب کو سوشل ڈیموکریٹ سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ان کا جمہوری لبادہ چاک ہوتا جا رہا ہے اور اندر سے بہیمانہ فسطائی چہرہ ننگا ہوتا جا رہاہے۔ ایم کیو ایم اور تحریکِ انصاف دونوں مڈل کلاس کی نمائندہ پارٹیاں ہیں اور مڈل کلاس کبھی بھی کوئی ترقی پسندانہ کردار ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ محنت کش طبقے کی قیادت پر متفق نہ ہو جائے۔ اس لیے عمران خان کا کوئی مستقل ووٹ بینک نہیں ہے۔ ٹراٹسکی کے بقول مڈل کلاس صرف ایک خدا کی پرستش کرتی ہے جس کا نام طاقت ہے۔ لیکن عمران خان وزیرِ اعظم بننے کے لیے جتنا اتاولا ہوا جا رہا ہے اسے استعمال کرنے والے اتنے ہی چالاک اور سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں وہ ’درپردہ مذموم ‘ مقاصد کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لیڈر ہے۔ ہر دفعہ اس کے ساتھ وزیرِ اعظم کا وعدہ کر کے عین وقت پر دستِ شفقت ہٹا لیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف نے وطن واپسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’ ایم کیو ایم اور تحریکِ انصاف میرے فطری اتحادی ہیں۔ جناح گراؤنڈ میں عمران اسماعیل کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی کے بعد گورنر ہاؤس میں ہونے والی ’صلح‘ کے پیچھے بھی پر ویز مشرف اور ان کے ریاستی اتحادی ہی کارفرما تھے۔ عشرت العباد بھی اب ایم کیو ایم سے زیادہ براہِ راست GHQ کے نمائندہ گورنر ہیں۔ حال ہی میں مشرف کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں عمران خان صاحب کو باور کرایا گیا ہے کہ وہ ’تنِ تنہا ‘ کراچی پر حکمرانی کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔ عین ممکن ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں بھی عمران خان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے چکنا چور ہو جائیں اور ان کو خوش رکھنے کے لیے کسی اور حلقے میں بھی ضمنی انتخاب کا ناٹک رچانا پڑ جائے۔ فی الوقت NA-246 میں کوئی ایسا تاثر قائم نہیں کیا جا سکا جس کی بنیاد پر ایم کیو ایم کو شکست دی جا سکے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کتنی مقبول یا ہر دلعزیز جماعت ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے لیڈر کے لیے لوگ ایم کیو ایم کے سامنے کیوں کھڑے ہو جائیں جس کے پاس نہ صرف یہ کہ حقیقی تبدیلی کا کوئی پروگرام نہیں ہے بلکہ وہ خود کسی بھی وقت ایم کیو ایم کے ساتھ مصالحت کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اور اوپر سے مصالحت کی قیمت جلد یا بدیر نیچے کارکنوں یا ووٹروں کو ہی چکانی پڑتی ہے، اس حقیقت کو کراچی کی عوام سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔
اس ضمنی انتخاب میں ایک اور اہم فریق جماعتِ اسلامی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے اندر اس الیکشن کے حوالے سے داخلی تناؤ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ زیادہ گھاگھ اور تجربہ کار سیاستدان جانتے ہیں کہ اپنا ووٹ بینک ایک دفعہ خان صاحب کی جھولی میں ڈال دینے سے وہ شاید دوبارہ کبھی واپس حاصل نہ کیا جا سکے۔ اس لیے وہ تحریکِ انصاف کے حق میں دستبردار ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم نے بہت پہلے بھی وضاحت کی تھی کہ پشتونخواہ کے اتحادی کراچی کی بندربانٹ کے معاملے میں دست و گریبان بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر جماعتِ اسلامی الیکشن سے دست بردار ہوتی ہے تو اندر سے شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے جس کا فوری فائدہ تحریکِ انصاف کے پلڑے میں جا کر الیکشن کے نتائج پر اثرانداز بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایم کیو ایم ہارتی بھی ہے (جس کے امکان بہت کم ہیں) تو وہ پہلے ہی ان نتائج کو ’تھرڈ ایمپائر کی جانبداری‘ قرار دے کر تسلیم نہ کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ یوں کراچی میں خوف وہراس کی فضا عارضی طور پر کم ہونے کے بعد مزید شدت سے ابھر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی فسطائیت جتنی بھی کمزور ہو، کراچی کو اس کے خونی شکنجے سے صرف محنت کش طبقہ ہی فیصلہ کن طور پر واپس لے سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی نیم مردہ روایت کا تعفن
today-s-cartoon-1426805086-6182ایک سروے کے مطابق پاکستان میں آبادی کا صرف 12 فیصد سیاسی عمل میں متحرک ہے اور باقی 88 فیصد محنت کش عوام محض تماشائیوں کی طرح مڈل کلاس کا یہ ’شغل ‘ دیکھ رہے ہیں۔ کراچی جو محنت کشوں کا شہر ہے، اس میں یہ شرح اور بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ پاکستانی سیاست پر حاوی موجودہ کارپوریٹ برانڈ اس حکمران طبقے کی تاریخی خصلت کے منطقی ارتقا کا نتیجہ ہے لیکن اگر کسی ایک شخص کو اس کا سہرا باندھنا ہو تو آصف علی زرداری کا نام نہ لینا بڑے پیمانے کی فکری بد دیانتی کے مترداف ہو گا۔ وہ 2008ء سے اب تک پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی دکان کے طور پر ’کامیابی‘ سے چلا رہے ہیں۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے ملک بھر کے دائیں اور بائیں بازو کے موقع پرستوں اور بد عنوان سیاسست دانوں نے انہیں اس عہد کا ’سیاسی پیغمبر‘ تسلیم کر لیا ہے۔ کچھ مڈل کلاس کے ابھرتے ہوئے نوجوان بھی ان کی ’سیاسی بصیرت ‘ کے بڑے گرویدہ ہیں۔ زرداری صاحب کی ’مدبرانہ مفاہمت ‘ نے عملاً پیپلز پارٹی کی انقلابی روایت کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔ 4 اپریل کو اس دفعہ سندھ حکومت کی سرکاری خزانے سے بڑی رقوم خرچ کر کے اخبارات میں بھٹو کی تصاویر کی اشتہار بازی کے باوجود گڑھی خدا بخش میں ’ہُو ‘ کا عالم تھا۔ عوامی ردِ عمل کو بھانپتے ہوئے عزت بچانے کی غرض سے عین وقت پر مرکزی جلسے کی کال واپس لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ا گر بارش نہ ہوتی تو گڑھی خدا بخش میں عوامی سیلاب آ جاتا۔ محنت کش طبقہ اپنی سیاسی روایت سے مکمل طور پر لا تعلق ہو کر وقتی طور پر سیاسی معذوری کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ کراچی کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا کہیں نام تک بھی نہ آنا کسی سیاسی پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی پیش رفت ہے۔ کراچی میں عزیز آباد ہی نہیں بلکہ لیاری اور ملیر جیسے پارٹی کے گڑھ بھی خود پارٹی کے سرغنوں کی سرپرستی میں گینگ وار کی معاشی اور سیاسی لوٹ مار کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ ذاولفقار مرزا اور عزیر بلوچ کے حالیہ انکشافات نے پارٹی قیادت کے ’تدبر‘ کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ کراچی میں دوبارہ اپنے وجود کا تاثر دینے کے لیے زرداری نے 26 اپریل کو لیاری میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی لاجسٹک کے ذریعے شاید خاطر خواہ لوگ جمع کر کے یہ جلسہ کر لیا جائے لیکن عملاً لیاری کے نوجوانوں میں پارٹی پالیسیوں سے شدید بغاوت کا لاوہ پک رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی قوم پرستانہ زوال پذیری (سندھ کارڈ) آصف علی زرداری کی ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے سندھی وڈیروں اور اسٹیبلشمنٹ سے ’یارانوں ‘ کا منطقی نتیجہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو بھی قبل از وقت ایکسپوز کر کے یہ اہم کارڈ بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اب از سرِ نو بلاول اور زرداری کے مابین اختیارات اور خاندانی جائیداد کے گرد موجود اختلافات کو سیاسی شکل دے کر بلاول کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا ہے تاکہ وقت آنے پر بلاول کے ایک نئے استقبال کے ذریعے پارٹی کے مردہ جسم میں روح پھونکنے کی کوشش کی جا سکے۔ ساتھ ہی زرداری نے آصفہ کو سیاست میں لانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور بلاول کو سیاسی طور پر مزید پختہ کرنے کے بعد واپس میدان میں اتارنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ سب اگلے سیاسی راؤنڈ کی پیش بندی ہے تاکہ دوبارہ عوام کو یرغمال بنا کر اقتدار میں بندر بانٹ کا مکروہ کھیل جاری رکھا جا سکے۔ مگر گزشتہ برس 18 اکتوبر کو شہدائے کارساز کی برسی کے موقع پر تقریب سے بلاول کی مایوس کن تقریر محنت کشوں کے لیے صاف اور دو ٹوک پیغام تھا۔ اس دردناک تجربے کے بعد شاید اب بلاول اور آصفہ جیسے سیاسی مہرے اہم سیاسی بحران میں اپنی تاریخی افادیت کھو چکے ہیں۔ ایک نئی شہادت بھی شاید ’ابنِ مریم ‘ کے جیسی مسیحائی کا کردار ادا نہ کر سکے۔ اس کڑے وقت میں سب سے زیادہ غلیظ کردار پیپلز پارٹی کا نام نہاد بایاں بازو ادا کر رہا ہے۔ بائیں بازو کے اصلاح پسند اس کرۂ ارض پر غلیظ ترین سیاسی مخلوق ہیں۔ ٹریڈ یونین اشرافیہ کے چہیتے رضا ربانی کا سینیٹ چیئرمین بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ جب بھی بابِ ہوس کھلتا ہے تو یہ مڈل کلاس کے نفسیاتی اور روحانی طور پر بھوکے سیاستدان فقط ایک لقمہ تر پر سر بسجود ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ لیکن ان کا یہ گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر کے تاریخ محنت کش طبقے کے راستے کے سارے کانٹے صاف کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
عوامی بغاوت کب، کیوں اور کیسے؟
حکمران طبقے کی ساری لڑائیاں اور نورا کشتیاں چاہے کسی بھی مقصد کے لیے ہوں سطح کے نیچے شدید عوامی مزاحمت کی سرسراہٹ کی آئنہ دار ہیں۔ تیس سالوں سے سیاسی طور پر بالکل بند محنت کشوں کے پیٹرو گراڈ (کراچی ) کو تھوڑا ساہی کھول کر ریاست بہت خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ وہ محض خوف کے بلبوتے پر اتنے عرصے سے کراچی کو دبائے ہوئے ہیں۔ لوٹ مار کی لڑائیوں میں انہوں نے اسی شاخ کو کاٹنا شروع کر دیا ہے جس پر یہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی عمل کو شروع کرنا ایک اور بات ہوتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا ایک بالکل مختلف چیز۔ کچھ عرصے کے بعد وہ عمل خود اپنے عامل کو کنٹرول کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کراچی آپریشن کے آغاز پر ہی مارکسیوں نے وضاحت کی تھی کہ یہ ریاست اب اپنے تاریخی ارتقا کے اس مرحلے پر ہے کہ اب یہ جو بھی کرنے کی کوشش کریں گے، اس کا الٹ نتیجہ بر آمد ہو گا۔
سرمایہ داری کا عالمی معاشی بحران بھی پاکستانی حکمران طبقات کو محنت کشوں کے خلاف زیادہ معاشی جارحیت کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تھوڑا سا بھی استحکام مصنوعی طور پر کنٹرول کی گئی روپے کی قدر میں تیز ترین گراوٹ اور افراطِ زر کے منہ زور اژدہے کو بے لگام کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ بجلی اور گیس مصنوعات پر سبسڈی بتدریج ختم کی جا رہی ہے جس سے ان مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ماہانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ IMF، ورلڈ اور ایشیائی بینک اور دیگر مالیاتی سامراجی اداروں پر انحصار ایسی کیفیت میں بڑھ رہا ہے جب و ہ خود عالمی بحران کے پہاڑ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں وہ مزید قرضوں کی شرائط کے ذریعے پاکستانی حکمرانوں سے محنت کشوں پر اور زیادہ حملوں کا مطالبہ کریں گے۔ قومی اداروں کی نجکاری کی پالیسی تیز کی جائے گی جس سے محنت کش طبقے کے شعور پر وہ تازیانہ پڑے گا جو رفتہ رفتہ ایک دفعہ پھر انہیں سیاست کے میدانِ کارزار کی طرف دھکیلے گا۔ حبیب بینک کے شیئرز کی با قاعدہ نیلامی کاپہلے ہی باقاعدہ اعلان کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ برس 21 ارب روپے کمانے والے ادارے کی فروخت حکمران طبقے کی جارحانہ نجکاری کی پالیسی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ حکمرانوں کی اس جلد بازی نے محنت کش عوام کے سامنے وہ بحثیں دوبارہ کھول دی ہیں جو انہیں طبقاتی وحدت کا احساس دلانے کا موجب بنیں گی۔ کراچی میں ایک نسبتاً سہل سیاسی معروض کے اندر یہ بحثیں ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک ایسا کنکر ثابت ہو سکتی ہیں جو سیاسی افق پر لرزہ طاری کر سکے۔ کراچی میں محنت کشوں کے ساتھ ساتھ طالبِ علموں کی بھی عظیم انقلابی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ بلند پیمانے پر دہرائی جائے گی۔ عمران خان نے اپنی تمام تر بکواسیات میں ایک بات بالکل ٹھیک کہی ہے کہ ’تبدیلی کراچی سے آئے گی‘۔ ہاں روشن اور سرخ مستقبل کی نئی سحر یہیں سے طلوع ہو گی۔