پیرا میڈیکل سٹاف کا لاہور میں احتجاج اور پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا

[رپورٹ: PTUDC لاہور]
13نومبر کو پیرامیڈیکل سٹاف لاہورکے سینکڑوں ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں گنگا رام ہسپتال سے ایک ریلی نکالی جو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے کی شکل اختیار کر گئی۔ اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت پیرامیڈیکل سٹاف کے رہنما یوسف بلا اور ارشد بٹ کر رہے تھے۔
ریلی کا آغاز گنگا رام ہسپتال سے کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں نرسیں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ملازمین موجود تھے جبکہ سروسز ہسپتال لاہور سے بھی بڑی تعداد میں ملازمین موجود تھے۔
ریلی کے آغاز پر گنگا رام ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کی طرف سے ڈاکٹر علی ڈوگر نے پیرامیڈیکل سٹاف کو اس لڑائی میں YDAپنجاب کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اگر پیرامیڈیکل سٹاف پر کسی بھی قسم کا ریاستی تشدد کیا گیا تو YDA اس احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ احتجاجی عمل میں شریک ہو جائے گی اور اگر YDA کو ہڑتال کی کال بھی دینی پڑی تو ذرا بھی نہیں ہچکچائے گی۔
ریلی گنگا رام ہسپتال کے اندر چکر لگانے کے بعد سڑک پر آئی اور مزدور اتحاد اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی جانب بڑھنا شروع ہوئی۔ ریلی کے شرکا نے اپنے مطالابت کے حق میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کابینر بھی موجود تھا۔ راستے میں لاہور کے مختلف ہسپتالوں کے پیرامیڈیکل سٹاف کے راہنماؤں نے تقاریر کیں اور حکومت کی ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کی۔ ریلی کے دوران PTUDC کے رہنما کامریڈ آدم پال نے پیرامیڈیکل سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ PTUDC پیرامیڈیکل سٹاف کی اپنے حقوق کو منوانے کی اس جدوجہد کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتی ہے اور ہم ہر قدم پر پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ اس احتجاج میں شریک رہیں گے۔ آج حکمران مراعات دینا تو دور کی بات، محنت کشوں سے ان کا جائز حقوق بھی چھین رہی ہے اور محنت کشوں پر پے در پے وار کئے جا رہی ہے مگر ہم اپنے حقوق کو کسی صورت پامال نہیں ہونے دیں گے اور اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور اس کے ساتھ ہی ہمیں اس لڑائی کو دیگر شعبوں کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک طبقاتی جڑت بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو محنت کش اپنا پسینہ بہا کر ہسپتالوں کو چلاتے ہیں انہیں ہی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ وہ حکمران جو صرف عیاشی کرتے ہیں وہ تمام دولت اور وسائل پر قابض ہیں۔ ہمیں اس نا انصافی کیخلاف جدوجہد کو حتمی منزل تک پہنچانا ہو گا۔ جب ریلی مال روڈ پر چئیرنگ کراس کے قریب پہنچی تو اسے آگے جانے سے روکا گیا اور بڑی تعداد میں پولیس کی نفری اس مقصد کے لیے تعینات کی گئی۔ اس جگہ پر ریلی دھرنے کی شکل اختیار کر گئی۔
پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات تھے کہ بورڈ آف منیجمنٹ (BOM) کے تحت بھرتی کئے گئے کنٹریکٹ، ایڈہاک اور ڈیلی ویجز ملازمین اور سٹاف نرسز کو مستقل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ اپنے کئے ہوئے وعدے پورے کرے جو 10 جون 2012ء کو مینار پاکستان پر لگائے گئے وزیر اعلیٰ کے دفتر میں کئے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئیپیرامیڈیکل سٹاف کے رہنما یوسف بلا نے کہا کہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ آپ کے تمام تر مطالبات پورے کئے جائیں گے مگر مطالبات پورے کرنے کی بجائے ہمارے معاملے کو لٹکایا جا رہا ہے جو حکومت کی ہر شعبے کے ملازمین کے حوالے سے بنیادی پالیسی ہے۔ سکیل 1سے16تک بھرتیوں کے لئے گورنمنٹ کی پالیسی ہے کہ تمام ملازمین کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے مگر جہان ان کا جی چاہتا ہے وہاں وہ ایڈہاک کی بنیاد پر تقرریاں کرتے ہیں جس کی مثال پھر گنگا رام ہسپتال ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام تر ملازمین کی تقرریاں مستقل بنیادوں پر کی جائیں اور پہلے سے موجود تمام ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ مگر ہمارے مطالبات ماننے کی بجائے BOM کے تحت بھرتی کی گئی سٹاف نرسز کو ان کی نوکریوں سے ہی فارغ کر دیا گیا۔ پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ اس طرح کی ناانصافیاں ناقابل برداشت ہیں اور ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی حد تک بھی جانے کے لئے تیار ہیں۔ یوسف بلا نے کہا کہ اس ظالمانہ رویے کی وجہ سے تمام پیرا میڈیکل ملازمین اگلے انتخابات میں ن لیگ کو شکست دلوانے کی بھرپور جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں بیٹھے عوام دشمن نمائندوں کو چوڑیوں کا تحفہ پیش کیا اور کہا کہ ہم اپنی جدوجہد کو آخری فتح تک جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اپنے احتجاج کے دوران 6مارچ کو پیرامیڈیکل سٹاف کے رہنما یوسف بلا نے حکمرانوں کی ناانصافیوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی طرف غیر موزوں رویئے کے خلاف احتجاجاََ خود سوزی کی تھی اور ایک لمبے وقت کے علاج کے بعد وہ صحتیاب ہو پائے تھے۔

متعلقہ:
لاہور میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی احتجاجی ریلی