خواتین پر جبر اور آزادی کی جدوجہد!

| تحریر: ساشا جاوید ملک |

’’سماج میں خواتین کی حالت کسی بھی معاشرتی نظام اور ریاستی کردار کی سب سے واضح اور ٹھوس علامت ہوتی ہے۔‘‘ یہ الفاظ لیون ٹراٹسکی کے ہیں۔ بالشویک انقلاب کا مرکزی کردار ٹراٹسکی ان عظیم شخصیات میں سے ایک تھاجنہیں مارکسی تحریک نے جنم دیا تھا۔
آج بھی پنچایت اور جرگے کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار ہونے والی بے شمارخواتین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے دیہی اور سرحدی علاقوں میں آج بھی عورت کو ایک کم تر مخلوق سمجھا جاتا ہے جوکہ گھریلو چاکری اور بچوں کی نگہداشت کرتی ہیں۔ ان کی ملازمت میں بھی انکے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو پاکستان میں بسنے والی محنت کش خواتین کہیں زیادہ مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ پاکستان میں 105.7 مردوں کے مقابلے میں 100 عورتیں ہیں جبکہ بہت سے ممالک میں یہ شرح 50/50 ہے۔ اس کی وجوہات میں بچپن میں بچیوں کی صحت پر توجہ نہ دینا‘ چھوٹی عمر میں شادیاں، اسقاطِ حمل اورطبی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہاں ہر سال پانچ لاکھ خواتین صرف زچگی کے دوران مناسب سہولیات نہ ہونے باعث مر جاتی ہیں۔ لیکن اس کی ایک اوربڑی وجہ بچیوں کا ماں کے پیٹ میں ہی قتل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2000ء سے 2014ء کے درمیان پاکستان میں 12 لاکھ بچیاں ماں کے پیٹ میں ہی قتل کر دی گئیں جبکہ سالانہ اوسط 116,384 ہے۔ اس قتل عام میں پاکستان چین اورہندوستان سے تھوڑا ہی پیچھے ہے (اگر آبادی کے تناسب کو مد نظر رکھا جائے تو معاملہ مختلف ہے) جہاں ہر سال 8 لاکھ اور چھ لاکھ ایسے قتل کر دیے جاتے ہیں۔
اس سماج میں بیٹی پیدا ہونا شرمندگی اور رسوائی کا باعث بنا دیا گیا ہے جس کے باعث ماں باپ اکیسیویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی کو سماج کے سامنے اپنی خجالت اور اپنے پر ’بوجھ‘ کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ الٹرا ساؤنڈ مشین پر جیسے ہی نظر آتا ہے کہ ماں کی کوکھ میں بیٹی پل رہی ہے تو اسقاطِ حمل کروا دیا جاتا ہے۔ جبکہ بیٹے کو مستقبل کے لیے اچھی سرمایہ کاری تصور کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اسی باعث آج پاکستان میں خواتین کی آبادی کی شرح مردوں کی نسبت کم ہو رہی ہے جس کے باعث آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے شدیدمشکلات پیدا ہوں گی۔
جو خواتین اس فرسودہ سماج میں جنم لینے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں انہیں بھی ماضی کے بوسیدہ رسم ورواج نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ہر عام عورت کی زندگی دل میں ڈر لیے ہی گزر جاتی ہے۔ بچپن میں باپ اور بھائیوں کا خوف لیے‘جوانی میں شادی کے بعد شوہر کا خوف لیے اور بڑھاپے میں بیٹوں کا خوف لیے۔ آخر میں وہ اسی خوف کو لیے مرجاتی ہے۔ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اسی خوف کو لیے کاروکاری‘ ونی اور سوارا جیسی فرسودہ رسموں کی بلی چڑھ جاتی ہیں۔ لاکھوں لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے اپنے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں۔ گو کہ اس سے متعلق قوانین موجود ہیں مگر ان کے ساتھ بھی وہی حشر ہوتا ہے جو دیگر محنت کشوں کے حقوق کے متعلق قوانین کے ساتھ ہوتا ہے۔ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے پاکستان 142 ممالک میں سے 132 ویں نمبر پر آتا ہے۔ صرف 22 فیصد خواتین کی تعلیم تک رسائی ہے۔ جس کا زیادہ تر حصہ حکمران یا درمیانے طبقے کی خواتین پر مشتمل ہے۔ آج پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین سیاست‘ فنون ولطیفہ‘ کاروبار اور دیگر شعبہ جات میں شہرت کمار رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے تقریباً تمام کا تعلق حکمران طبقے یا درمیانے طبقے کی بالائی پرت سے ہے۔ پاکستان کی عام محنت کش خاتون کی حالت یہ ہے کہ پاکستان کی دیہی آبادی میں صرف13 فیصد خواتین کو رسمی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جب کہ باقی 87 فیصد ناخواندہ ہیں۔ 14 سال سے کم عمر کی 90 لاکھ بچیاں سکول جانے سے محروم ہیں۔ ہر عام محنت کش عورت بارہ گھنٹے کام کرتی ہے اور کھیتوں میں کام کرنے والی 75 فیصد خواتین کو ان کا معاوضہ ہی نہیں دیا جاتا۔ ہر چھ گھنٹوں میں ایک عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ اور آئے روزکوئی عورت انصاف نہ ملنے کی صورت میں تھانے یا کچہری میں آگ لگاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ عموماً ایسے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں جن کی رپورٹ درج نہیں کروائی جاتی۔ ان حالات میں پاکستانی عورتیں مزید مشکلات کا شکار ہوجائیں گی جوکہ پہلے ہی مصائب میں گھری ہوئی ہیں۔ صرف پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے سے ‘ فائیو سٹار ہوٹلز میں تقریریں کرنے اور این جی اوز کے نام پر فنڈ بٹورنے سے خواتین کواس جبر سے آزادی نہیں مل سکتی اور نہ ہی ان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
وراثت میں ملنے والی مردانہ حاکمیت کی سوچ اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ مادی حالات فراہم نہ ہوسکیں جن کی بنیاد پر مرداور عورت کے رشتے کا درست تعین کیا جاسکے۔
خواتین کی آزادی کی بنیادی شرط نجی ملکیت کے نظام کا خاتمہ ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے بغیر نہ ہی عصمت فروشی ختم کی جا سکتی ہے اور نہ خواتین کو سماج میں مرد کے برابر حقوق مل سکتے ہیں۔ اس نجی ملکیت کا خاتمہ صرف اور صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اور پوری دنیا میں برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب خواتین کو ان کی غلامی سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائے گا۔