دادومیں ایک روزہ مارکسی اسکول

[رپورٹ: کامریڈ ضیاء]
19 اکتوبر 2014ء کو دادو میں مارکسی اسکول کا انعقاد ہوا جس میں تین موضوعات زیر بحث آئے۔ پہلا سیشن عالمی و ملکی تناظر پر تھا جس کی صدارت حفیظ جمالی نے کی جب کہ لیڈ آف دیتے ہوئے رمیز مصرانی نے موجودہ عالمی و ملکی صورتحال پر تفصیل سے بات رکھی اور کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پاس اب کوئی آپشن نہیں ہے جسے استعمال کرتے ہوئے وہ بحران سے نکل سکے، امریکا سے لیکر چین تک کی معیشتیں بحران کا شکار ہیں، انہوں نے حالیہ معاشی بحران کے پس منظر، وجوہات اور اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ کاشف زؤنر اور اعجاز بگھیو نے بحث کو آگے بڑھایا۔ دوسرے سیشن ’’انقلاب کیا ہے؟‘‘ کی صدارت سکندر زؤنر نے کی جب کہ لیڈ آف دیتے ہوئے خالد جمالی نے کہا کہ انقلاب کی چار نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہمیں واضح طور پر نظر آ رہی ہیں، حکمران طبقہ آپس میں برسر پیکار ہے اور مڈل کلاس تذبذب اور ہیجان کا شکار ہے، تیسری نشانی یہ ہے کہ مزدور طبقہ اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے سیاسی طور پر متحرک ہو اور چوتھی نشانی یا شرط انقلابی پارٹی کی موجودگی ہے۔ راشد زؤنر، صدام خاصخیلی اور کامریڈ انور پنہور نے موضوع پر مزید روشنی ڈالی۔ تیسرے اور آخری سیشن ’’نقلابی پارٹی کی تعمیر کیوں اور کیسے؟‘‘ کی صدارت اعجاز بگھیو نے کی جب لیڈ آف سجاد جمالی نے دی اور انتہائی جامع اور مفصل انداز میں ماضی میں کامیاب اور ناکام ہونے والے انقلابات میں موضوعی عنصر کے کردار پر بات رکھی، مزید برآں انقلابی پارٹی کی ساخت اور تعمیر پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی۔ محنت کشوں کا عالمی گیت گا کر اسکول کا اختتام کیا گیا۔