[رپورٹ: دانیال مزاری]
مورخہ 18نومبر بروز اتوار کسان ہال لاہور میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول مجموعی طور پر تین سیشنز پر مشتمل تھا جس میں مختلف تعلیمی اداروں اور طلباء تنظیموں سے 40 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی۔ پہلے سیشن کا موضوع عالمی تناظر تھا جس پر کامریڈ عمران کمیانہ نے لیڈ آف دی جبکہ کامریڈ امجد شاہسوار نے سیشن کو چئیر کیا۔ کامریڈ عمران نے اپنی لیڈ آف میں 2008ء کے عالمی معاشی بحران اور اس کے بعد پوری دنیا میں ابھرنے والی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریکوں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک بند گلی میں داخل ہو
چکا ہے اور بورژوا معاشی ماہرین کے پاس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ سرمایہ داری کو پچھلی کئی دہائیوں سے مصنوعی طریقوں سے چلایا جاتا رہا ہے اور وہ اقدامات جو بحران سے باہر آنے کے لئے اٹھائے جاتے ہیں، بحران کو ٹالنے کے لئے پہلے ہی استعمال کئے جا چکے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ریاستیں قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دب چکی ہیں اور اس بوجھ کو اب محنت کشوں پر ڈال کر ان کی زندگیاں عذاب بنا ئی جا رہی ہیں۔ لیکن امریکہ میں آکوپائی تحریک، عرب انقلاب، یورپ میں 14نومبر کی عام ہڑتال اور اردن سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں جاری ہڑتالیں اور مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت کش اور نوجوان اس بحران کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا منطقی نتیجہ ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں دنیا بھر اور خاص طور پر یورپ میں طبقاتی جدوجہد تیز ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔ ان حالات میں ایک عالم گیر لینن اسٹ قوت کے زیرِ اثر انقلابی صورتحال میں فیصلہ کن مداخلت کرکے، مختلف ممالک کے محنت کشوں کی جدوجہد کو آپس میں جوڑتے اور منظم کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو فیصلہ کن شکست دی جاسکتی ہے۔ سوالات کے بعد کنٹری بیوشنز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے کامریڈ آفتاب نے کہا کہ کئی ہزار سالوں کے سماجی و معاشی ارتقاء کے نتیجے میں آج پیداواری قوتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ مانگ اور قلت سے پاک انسانی معاشرے کا قیام ممکن ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ معاشی رشتوں کے زیرِ اثر چند لوگوں کی ہوس کی قیمت پورا سماج چکا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینک کر بہت کم عرصے میں قلت، غربت، بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) سے کامریڈ ظریف رند نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل، بلوچ عوام کے لئے نعمت کی بجائے عذاب بن چکے ہیں۔ پاکستانی ریاست کے جبر اور سامراجی لوٹ مار نے بلوچ محنت کشوں اور نوجوانوں کے لئے زندگی محال کر دی ہے۔ ان حالات میں بلوچستان میں آزادی کی تحریک کو ایک سوشلسٹ پروگرام کے ذریعے پورے خطے کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے ہی ریاست اور سامراج کو شکست دی جاسکتی ہے۔ سیشن کا سم اپ کرتے ہوئے کامریڈ لال خان نے کہا کہ سرمایہ داری کا بحران زائد پیداوار سے بڑھ کر زائد پیداواری صلاحیت کا بحران بن چکا ہے۔ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت اور قومی ریاست انسانیت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ آج دنیا کی چند ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس اتنی
پیداواری صلاحیت موجود ہے جس سے دنیا بھر کے انسانوں کی بنیادی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نام نہاد معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ بڑی عالمی اجارہ داریوں کے شرح منافع اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے لئے جنگیں اور انسانیت کی بربادی نا گزیر ہو گئی ہے۔ غزہ پر اسرائیل کا حملہ اسی پاگل پن اور وحشت کا اظہار ہے۔ لیکن جہاں سرمایہ داری نے سرمائے کو گلوبلائزکیا ہے وہاں محنت کش طبقہ اور اس کی جدوجہد بھی گلوبلائز ہوئی ہے۔ امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور روس میں ایک ہی سال میں ہونے والے لاکھوں افرد کے مظاہرے اور ہڑتالیں عالمی سطح پر اسی طبقاتی جڑت کا اظہار ہیں۔ 1917ء کے بالشویک انقلاب کی خبر برصغیر تک ایک ہفتے کے بعد پہنچی تھی لیکن آج ہم دنیا بھر میں ہونے والے انقلابات کو ٹی وی اور انٹر نیٹ پر براہِ راست دیکھ سکتے ہیں۔ انقلابی پارٹی کی تعمیر کوئی آسان کام نہیں ہے، لیکن کٹھن راستے کی تمام تر رکاوٹوں کو عبور کر کے ہی ہم وہ ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں جو تاریخ نے ہم پر عائد کی ہے۔
کھانے کے وقفے کے بعد شروع ہونے والے دوسرے سیشن کا موضوع ’’مارکسی معیشت‘‘ تھا جس پر کامریڈ وسیم اقبال شیخ نے لیڈ آف دی جبکہ سیشن کو چئیر کامریڈ امان اللہ نے کیا۔ کامریڈ وسیم نے اپنی لیڈ آف میں مارکسی معاشیات کے بنیادی تصورات محنت، قوتِ محنت، قدر، قدرِ زائد، منافع، شرح منافع وغیرہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ سوالات کے بعد کامریڈ عمران اور
کامریڈ آفتاب نے سرمایہ داری کے موجودہ بحران کی وجوہات، مارکسی معاشیات کی روشنی میں بیان کیں۔ سم اپ کرتے ہوئے کامریڈ وسیم نے سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کے بنیادی قوانین بیان کئے اور بتایا کہ سرمایہ داری کے تضادات سے پاک ایک ایسی معیشت کا اجرا کیونکر ممکن ہے جس میں پیدوار کا مقصد منافع کی بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل ہو۔
تیسرے سیشن میں کامریڈز نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’چکرویو‘‘ دیکھی جو کہ ہندوستان میں جاری ماؤاسٹ گوریلوں کی مسلح جدوجہد کی عکاسی کرتے ہے جس کے بعد ماؤ ازم اور مسلح جدوجہد پر مختصراً تبادلہ خیال کیا گیا۔
سکول کا باقاعدہ اختتام مزدوروں کا عالمی ترانہ انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔