کراچی میں ایک روزہ مارکسی سکول

[رپورٹ: بوتھم ڈیوڈ]
مورخہ 28 دسمبر بروز اتوار PMA House صدر کراچی میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول مجموعی طور پر دو سیشنز پر مشتمل تھا جن میں ’’عالمی معیشت‘‘ اور’’مارکسی فلسفے کے ماخذ‘‘ کو زیر بحث لایا گیا۔ مارکسی سکول کا پہلا سیشن میر مرتضیٰ نے چیئر کیا اور مصر قیصرانی کو لیڈ آف کی دعوت دی۔ امصرقیصرانی نے کیمونسٹ مینی فسٹو کے اقتباسسے اپنی بات کا آغازکیا کہ’ ’سرمایہ داروں کے پاس بحران سے نکلنے کا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے مگر یہ راستہ سرمایہ داری کو ایک بڑے بحران کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ سچ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے معیشت کی عالمی سطح پر جڑت اور وابستگی پر بحث کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح امریکہ کی معاشی گراوٹ چین اور یورپ پر اثر انداز ہوئی۔ دنیا میں 2008ء کے بحران اور سرمایہ دارانہ معیشت کی سزا صرف محنت کش طبقے کو ہی بھگتنی پڑ رہی ہے جبکہ بورژوازی کو آج بھی نوازا جا رہا ہے۔ اٹلانٹک ممالک کی2013ء کی حاصلات 2000ء سے دوگنا ہیں لیکن محنت کش طبقہ علاج، تعلیم اور روزگار سے مسلسل محروم ہورہا ہے۔ 2008ء کے بحران سے عالمی معیشت نکلی نہیں کہ ایک اور بڑا بحران منہ کھولے نظر آ رہا ہے۔ یورپ کی مجموعی بیروزگاری 10.2فیصد تک پہنچ گئی ہے یعنی 24.850 ملین افراد سرکاری طور پر بیروزگار ہیں۔ بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے صدام نے یورپ کے بحران ،یونان اور جرمنی کی معیشت اور عالمی سطح پر سکڑتی ہوئی معیشت کے آپسی تعلق پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد جنت حسین نے پاکستانی معیشت پر عالمی مالیاتی بحران کے اثرات پر بحث کی جبکہ پارس جان نے تیل کی قیمت میں گراوٹ کی وجوہات اور اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح OPEC تجارتی جنگ میں ناکام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ سعودی عرب عالمی منڈی میں 10.6 فیصد تیل فروخت کرتا ہے جبکہ امریکہ اس سے دوگنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کرنا چاہتا ہے۔ مصر قیصرانی نے اس سیشن کے آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے انقلابی تنظیم کے فرائض پر روشنی ڈالی۔
سکول کے دوسرا سیشن کا آغاز کھانے کے وقفے کے بعد ہوا جسے ظہیر نے چیئر کیا۔ ’’مارکسی فلسفے کے ماخذ‘‘ پر صمد نے لیڈ آف دی جس میں انہوں نے ہیگل کے فلسفے سے آغاز کیا اور بتایا کہ کس طرح ہیگلیائی فلسفے کو جرمنی کا حکمران طبقہ استعمال کر رہا تھا۔ ’’جو حقیقی ہے وہ معقول ہے اور جو معقول ہے وہ حقیقی ہے‘‘ کے فقرے کو جواز بنا کر بادشاہت اور ریاست کو حقیقی اور معقول بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ فائر باخ نے فلسفے کا رخ خالص مادیت کی طرف موڑ دیا لیکن اس کے باوجود ہیگل کو مکمل طور پر رد نا کر سکا۔ کانٹ جیسے مادیت پرستوں نے مادے کی جو تشریح کی تھی وہ فائر باخ سے مختلف تھی اور مارکس نے آخر کار جدلیاتی مادیت کا نظریہ دے کر فلسفے کو صحیح طرف موڑ دیا۔ سوالات کے بعد بحث کو ماجد میمن نے آگے بڑھاتے ہوئے ہیگل کے فلسفے کی قدامت پرست اور ترقی پسند پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ بحث میں پال جان نے بھی حصہ لیا جبکہ سیشن کا سم اپ کرتے ہوئے پارس جان نے واضح کیا کہ جدلیات کو سمجھے بغیردرست تناظر بنانا، نا ممکن ہے۔ ہیگل کے نظام کو چھوڑ کر اس کا طریقہ کار انتہائی قابل تحسین ہے۔ ہیگل وہ پہلا شخص تھا جس نے تبدیلی کے عمل کو فطرت میں ڈھونڈ نکالا تھا۔ سکول کا اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔