محنت کشوں کا عالمی دن اور عالمی مزدور تحریک

تحریر: حارث قدیر:-
جاگیر داری کے خاتمے اور سرمایہ داری نظام کے آغاز نے جہاں انسانیت کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا وہاں سماج میں موجود مختلف طبقوں کا خاتمہ کرتے ہوئے دو طبقات کے جنم کا باعث بنا۔

ایک محنت بیچنے والا اور دوسرا طبقہ محنت کا خریدا ر یا سرمایہ دار طبقہ تھا۔ اس نئے سماجی ڈھانچے نے انسانیت کو وسیع بنیادوں پر ترقی سے روشناس کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں تک انسانیت کو پہنچایا۔ لیکن سماجی سائنس کا اصول ہے کہ کسی بھی سماج میں موجود تضادات ایک وقت میں اس قدر شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ سماج میں موجود متحارب طبقات کے مابین باہمی اندرونی چپقلش ایک ظاہری جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سرمایہ داری جس نے جاگیرداری کے بطن سے جنم لیا تھا اس نے طبقات کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ محض طبقات کی نوعیت تبدیل کی۔ جاگیرداری کی نسبت ایک ترقی پسند نظام ہونے کے باوجود سرمایہ داری نے نئے ابھرنے والے طبقات کے درمیان نئے تضادات کو پیدا کر کے طبقاتی جدوجہد و کشمکش کو زیادہ وسیع پیمانے پر ایک نیا جنم دیا۔ متضاد مفادات اور بالادست طبقے کی سرمائے کی حرص و لالچ اور محنت کے استحصال نے دونوں طبقات کے درمیان موجود تضاد کو شدت بخشی اور چودہ گھنٹے تک اپنی محنت بیچنے کے عوض انتہائی کم معاوضہ ملنے کی وجہ سے 1880ء میں امریکہ کے محنت کشوں نے چودہ گھنٹے کی ڈیوٹی کو کالعدم قرار دینے اور آٹھ گھنٹے تک کی ڈیوٹی کا مطالبہ کر دیا۔ جس کے بعد اس مطالبے میں شدت آتی گئی اور بالآخر 1884ء میں ٹریڈ یونین فیڈریشن کے کنونشن میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کا قانون پاس کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس مطالبے پر عملدرآمد کرنے کیلئے باقاعدہ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور 1886ء میں Eight Hour Leaguesکے پلیٹ فارم سے مزدور تحریک کا آغاز کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مزدوروں کی ایک کثیر تعداد اس تحریک کا حصہ بنتی چلی گئی۔ یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے شہر شکاگو میں 25000سے زائد مزدورں نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کو روکنے کیلئے حکمران طبقات کے پاس محنت کشوں پر ریاستی تشدد کا راستہ اپنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچ چکا تھا۔ مزدوروں کے اس پر امن احتجاج کو منتشر کرنے کیلئے مختلف ایجنٹوں کو مزدوروں کے احتجاج میں بھیجا گیا جنہوں نے پولیس پر بم پھینکنے جیسے عمل کے ذریعے تشدد کا راستہ ہموار کیا۔ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور فائرنگ سے کئی مزدورشہید اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ لیکن اس تشدد نے محنت کشوں کی تحریک کو کمزورکرنے کی بجائے اس کو مزید شدت بخشی دوسری طرف ریاستی تشدد اور جبر کو بھی طول دیا گیا اور احتجاجی مظاہروں اور ٹریڈیونینوں کے اجلاسوں میں پولیس چھاپے مارے گئے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور موت کی سزائیں بھی سنائی گئیں جو بعد میں عمرقید میں تبدیل کر دی گئی تھیں۔ 1889ء میں محنت کشوں کے نمائندوں کی طرف سے محنت کشوں کی بین الاقوامیت کے بینر تلے دوسری انٹرنیشنل کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی افتتاحی کانگریس میں یکم مئی 1886ء میں محنت کشوں کی سفید جھنڈے اٹھائے۔ ڈیوٹی کا دورانیہ کم کرنے کیلئے شروع کی جانیوالی تحریک پر ریاستی جبر ، فائرنگ اور شکاگوکی گلیوں میں بہنے والے مزدور کے خون کی وجہ سے مزدوروں کو ملنے والی حاصلات کو سامنے رکھتے ہوئے سرخ جھنڈے کو محنت کشوں کے عالمی نشان کے طور پر منظور کیا گیا اور یکم مئی کو عالمی یوم مزدور ٹھہرایا گیاجس کے بعد پوری دنیا کے محنت کش ہر سال یکم مئی کو شہدائے شکاگو کی ان عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے مسائل کے حوالہ سے اس دن کو تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں۔

مئی 1886ء: شکاگو میں محنت کشوں کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی کا ایک تصوراتی خاکہ

بالائی سطروں میں بیان کردہ یکم مئی کے تاریخی پس منظر سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ محنت کشوں نے سرمائے کے تسلط اور جبر کیخلاف محنت کشوں کے مشترکہ مفادات کے لئے لڑائی کا آغاز کیا تھا لیکن آج عالمی یوم مزدور کو حکمران طبقات مختلف این جی اوز کے ذریعے اور ریاستی سطح پر پروگرامات کا انعقاد کرتے ہوئے محنت کشوں کی عالمی جڑأت کو توڑنے اور اس دن کی تاریخی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔دوسری طرف محنت کشوں کی اپنی جدوجہد کی نتیجے میں حاصل کی گئی حاصلات کو چھیننے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سماجی معاشی ڈھانچہ ایک وقت تک انسانیت کو ترقی دینے کا باعث بنتا ہے لیکن اس میں ہر لمحہ ہونیوالی تبدیلیوں اور تضادات کی بنا پر ایک و قت میں وہی سماجی ڈھانچہ ذرائع پیداوار کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوئے انسانی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جہاں عالمی مالیاتی زوال نے سرمایہ داری نظام کی تاریخی متروکیت کو سامنے لایا وہاں اس زوال کے گہرے اثرات محنت کشوں کی زندگیوں پر بھی پڑے ہیں۔ حکمران طبقات بحران سے نکلنے اور مالیاتی اداروں کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے محنت کشوں کو دی جانیوالی حاصلات تنخواہوں میں مختلف قسم کی کٹوتیوں، نئے ٹیکسز کے نفاذ ،الاؤنسز میں کٹوتیوں ، تعلیم ، صحت اور انفراسٹریکچر کی تعمیر میں کمی کی صورت میں کرتے ہوئے اپنی عیاشیوں کو جاری رکھنے اور سرمایہ داری کے موجودہ بحران سے نکلنے کی بے سود کوششوں میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف پوری دنیا میں محنت کش اور نوجوان اس نظام کے خلاف وسیع بنیادوں پر برسر پیکار نظر آتے ہیں۔ عرب دنیا سے لیکر افریقہ، یورپ ، امریکہ اور جنوبی ایشیاء تک محنت کشوں اور نوجوانوں کی لڑائی اس نظام کیخلاف منظم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اوریکم مئی 2012ء کو اس تحریک میں ایک نئی اٹھان بھی آسکتی ہے لیکن ایک چیز جس کی کمی اور فقدان کا سامنا آج مزدور تحریک کو کرنا پڑ رہا ہے وہ پھر ایک بین الاقوامی انقلابی مارکسی نظریات کی حامل قیادت ہے جس کی عدم موجودگی یا کمزوری کے باعث ان تحریکوں کو کوئی واضح راستہ نظر نہیں آرہاجیسا کے عظیم انقلابی رہنما لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ سرمایہ داری کا بحران سمٹتے ہوئے قیادت کا بحران رہ جائے گا۔ امریکہ اور یورپ سمیت عرب دنیا میں سائنسی سوشلزم کے نظریات کی مانگ میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے جو مستقبل میں مزدور تحریک کے مزید منظم ہونے اور سرمایہ داری کے خاتمے اور عالمی مزدور راج کے قیام کا باعث بن سکتا ہے۔ سٹالنزم کے دو مراحل کے نظریات اور سوشل ڈیموکریسی کے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کے نظریات تاریخ کے ہاتھوں متروک ہو چکے ہیں۔ آج سرمایہ داری نظام کے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آرہا، سامراج بحران سے نکلنے کیلئے انسانیت کو وسیع بنیادوں پر جنگ و جدل اور بربریت کی اندھی کھائیوں میں دھکیلتا جا رہا ہے۔ عراق ، افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں پر فوجی جارحیت اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اب یہ بربریت بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی پھیل چکی ہے جو صرف اور صرف سامراجی عزائم ، محنت کشوں کے استحصال اور قدرتی وسائل پر قبضے کے حصول کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
اس سال مئی میں امریکہ کے شہر شکاگوجہاں سے 1886ء میں مزدور تحریک آغاز ہوا تھا میں سامراجی استحصالی اداروں جی ایٹ ممالک کے سربراہان ، عالمی مالیاتی اداروں اور نیٹوکے نمائندگان کا اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے جبکہ یکم مئی کو امریکہ کے نوجوانوں کی طرف سے سرمایہ داری کے خلاف شروع کی گئی آکو پائی وال سٹریٹ(وال سٹریٹ پر قبضہ کرو) تحریک کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے سامراج مخالف نمائندگان اور لاکھوں کی تعداد میں محنت کش اور نوجوان آکو پائی شکاگو کی کال پر کیمپنگ کا آغاز کر چکے ہیں اور اس سال یکم مئی سے امریکی شہر شکاگو سے مزدور تحریک ایک نئی سرے سے ابھرنے کی طرف جا رہی ہے جو پوری دنیا میں گہرے اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتے ہوئے مزدور تحریک سے ایک نئی قیادت کو تراشنے اورپوری دنیا سے سرمایہ داری نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے عالمی مزدور راج کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کے چکے ہیں کہ سرمایہ داری نظام عالمی طور پرانسانیت کو ترقی دینے میں ناکام ہو چکا ہے ،دو مراحل کی تھیوری پر مبنی سٹالنسٹ نظریات اور اسی نظام کے اندر اصلاحات پر مبنی سوشل ڈیموکریسی کے نظریات کی بھی تاریخی متروکیت ثابت ہو چکی ہے تو انسانیت کے پاس اس بربریت اور سامراجی استحصال سے نجات کا سوشلزم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچ جاتا۔ یکم مئی 2012ء سے مزدور تحریک کی ایک نئی اٹھان عالمی طور پر انسانیت کے ایک سوشلسٹ مستقبل کی بنیادوں اور عالمی سوشلسٹ انقلاب سے کمیونزم کے جانب سفر کا باعث بن سکتی ہے۔