لاہور: یوم مئی کے موقع پر جدوجہد لیبر کانفرنس کا انعقاد

[رپورٹ: PTUDC لاہور]
یوم مئی 2013ء کے موقع پر لاہور پریس کلب میں جدوجہد لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر مزدور تنظیموں نے شرکت کی اور مشترکہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دی۔ کانفرنس کا آغاز کامریڈ غفار نے ایک انقلابی ترانہ گا کر کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سیاسی پارٹی الیکشنوں کے موقع پر بھی مزدور وں کے حقوق کی بات نہیں کر رہی اور ٹریڈ یونین پر عائد پابندیوں اور مزدور دشمن قوانین کے خاتمے کی آواز بلند نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی مزدور دشمن اقتصادی پالیسیوں پر ایمان لا چکی ہیں اور ہر پارٹی نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، لبرلائزیشن اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ٹریڈ یونین کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یوم مئی کے موقع پر ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ محنت کشوں کے حقوق کی جنگ کو جاری رکھیں گے اور سرکاری اداروں سے لے کر نجی صنعتوں تک مزدوروں کو یکجا کرنے کا کام جاری رکھیں گے۔ تمام مقررین نے اس موقع پر شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام پیش کیا اور کہا کہ 1886ء میں ہونے والی جدوجہدرائگاں نہیں گئی اور جس مقصد کے لیے مزدوروں نے خون بہایا اور تحریک آج بھی زندہ ہے۔ آج پھر آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ مزدوورں سے پنشن اور دیگر بنیادی سہولیات چھینی جا رہی ہیں۔ ٹھیکیداری نظام اور ڈیلی ویجز کے ظالمانہ نظام کے تحت بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ اور تھرڈ پارٹی کی مجرمانہ روش کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ تمام مزدور راہنماؤں نے مشترکہ چارٹرآف ڈیمانڈ کے ساتھ اتفاق کیا اور کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آنے والی حکومت اس پر عملدرآمد کرے ورنہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جا ئے گی۔
تقریب سے پی ٹی سی ایل ایمپلائز فیڈریشن کے مرکزی راہنما صابر بٹ، ریلوے لیبر یونین لاہور سے عاصم خان، پاکستان پوسٹ یونین (نوپ)کے مرکزی راہنما ظفر اقبال، اسٹیٹ بینک ایمپلائز یونین سی بی اے لاہور کے راہنما عامر خان، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدرڈاکٹرجاوید آہیر، پی ایم جی یونین کے سیکرٹری جنرل مرتضیٰ، ایمکو ایمپلائز یونین سی بی اے کے سابق صدراکرم گجر، شیر بنگال لیبر کالونی کے راہنما چوہدری رشید، صحافی یونین کے راہنما ذوالفقار میتھو، پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے راہنما یوسف بلا، رستم ٹاول فیکٹری کے مزدور راہنما امان اللہ مستوئی، بیروزگا نوجوان تحریک کے مرکزی راہنما راشد خالد، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے راہنما ڈاکٹر آفتاب اشرف اور پیپلز لائرز فورم کے مرکزی راہنما الیاس خان نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے راہنما کامریڈ آدم پال نے سر انجام دیے۔ کانفرنس کے دوران گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے کامریڈ عدنان فاروق اور کامریڈ ملک نوازش نے انقلابی شاعری سے ماحول کو گرمایا۔ جبکہ تقریب کی صدارت پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین لاہور کے صدر اعجاز شاہ نے کی۔ کانفرنس میں لاہور کی مختلف صنعتوں سے مزدوروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں سے بھی نوجوانوں نے مزدوروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شرکت کی جن میں پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج، نیشنل کالج آف آرٹس، ایف سی کالج اور دیگر ادارے شامل ہیں۔

اس لیبر کانفرنس کے موقع پر درج ذیل چارٹر آف ڈیمانڈمتفقہ طور پر منظور ہوا:
یومِ مئی 2013ء کے موقع پر کانفرنس میں موجود تمام ترمزدور تنظیمیں نئی آنے والی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ
1۔ تمام تر محنت کشوں کی کم از کم اجرت افراط زر کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بند کر کے انکوائری کرنے کی مجرمانہ پالیسی بن کی جائے۔
2۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر نجکاری کی مجرمانہ پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
3۔ نجکاری میں دئے گئے تمام اداروں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔ نجکاری کمیشن اور وزارت کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ 27B اور دیگر مزدور دشمن قوانین کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔
4۔ تمام سامراجی پالیسیوں بشمول نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، رائٹ سائزنگ، ری سٹرکچرنگ اور ڈی ریگولیشن کا خاتمہ کیا جائے۔
5۔ تمام کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجزملازمین کو مستقل کیا جائے اور ٹھیکیداری نظام کو ختم کیا جائے۔
6۔ تمام مالیاتی ادارے یعنی بینک اور انشورنس کمپنیاں، لیزنگ کمپنیاں، صنعتی، تجارتی، تعلیمی ادارے اور ہسپتال قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے حوالے کئے جائیں۔
7۔ تعلیمی اداروں میں بورڈ آف گورنرز قائم کرنے کے نام پر نجکاری کی علم دشمن پالیسی فوری طور پر ختم کی جائے۔
8۔ نئی لیبر کالونیاں تعمیر کی جائیں اورتمام لیبر کالونیوں میں محنت کشوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔
9۔ تمام ترسامراجی قرضوں کو ضبط کر کے بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر اور عوام کی تعلیمی اور طبی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔
10۔ تمام بیروزگاروں کو رجسٹر کیا جائے اور انہیں روزگار یا ماہانہ بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔
11۔ خواتین کے ساتھ اجرتوں اور دیگر سہولیات میں امتیازی سلوک ختم کیا جائے۔
12۔ لیبر انسپکشن پر عائد مجرمانہ پابندی کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔ تمام صنعتوں میں ہیلتھ اور سیفٹی کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
13۔ تمام صنعتوں میں سوشل سکیورٹی کارڈ کے بغیر کام کرنے والے محنت کشوں کو ہنگامی بنیادوں پر کارڈ جاری کیے جائیں۔
14۔ فیکٹری میں کام کے دوران حادثے کی صورت میں فیکٹری مالکان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سخت سزا دی جائے۔ کراچی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں جل کر ہلاک ہونے والے محنت کشوں کے قتل کے الزام میں فیکٹری مالکان کو سزا دی جائے۔
لیبر کانفرنس کا اختتام مزدوروں کا عالمی ترانہ انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔