فیصل آباد میں یومِ مئی کے موقع پرشاندار جلسہ

رپورٹ: کامریڈ عصمت:-
فیصل آباد میں یومِ مئی کے موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین نے سرگودھا روڈ پر واقع نرسنگ سکول کے ہال میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا جس کا موضوع ’’سرمایہ داری کا بحرا ن ، محنت کشوں پر اس کے اثرات اور حل ‘‘تھا۔جلسے کے مہمانِ خصوصی کامریڈ لال خان تھے جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض زرعی یونیورسٹی کی طالبہ کامریڈ عصمت نے ادا کئے۔جلسے میں 30خواتین سمیت 150افراد نے شرکت کی۔کامریڈ لال خان نے اپنی تقریر میں سرمایہ داری کے عالمی بحران اور اس کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ یہ بحران دنیا بھر میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے شعور کو جھنجوڑ رہا ہے جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عرب بہار کے بعد یورپ ، امریکہ اور روس میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے عالمی طور پر ایک نئی جدوجہد کا آغاز کیاہے۔کامریڈ لال خان نے کہا دنیا میں سے معاشی بحرانات ، جنگ، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے مشروط ہے اور سرمایہ داری کوصرف اور صرف عالمی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سے ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے۔
ریلوے سے تعلق رکھنے والے مزدور رہنما عاشق چوہدری نے ریلوے کے محنت کشوں کے مسائل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مزدور انقلاب ہی محنت کشوں کو ان مسائل سے نجا ت دلا سکتا ہے۔1968-69ء کے انقلاب کے چشم دید گواہ اور اس کے دوران مختار رانا کے ساتھی ،ڈاکٹر عزیز نے 1968-69ء کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخ اپنے آپ کو بلند سطح پر دہرائے گی اور ہمیں ایسے انقلابی لمحات کی تیاری ایک انقلابی پارٹی بنا کر کرنا ہوگی جو محنت کشوں اور نوجوانوں کی قیادت کرتے ہوئے اس سر زمین پر ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرے۔پیپلز یوتھ آرگنازیشن کے ضلعی صدر کامریڈ ذوالقرنین نے سرمایہ دارانہ نظام میں فنونِ لطیفہ، ادب، موسیقی اور ثقافتی اقدار کی گراوٹ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس گلے سڑے نظام نے نوجوان نسل کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ کامریڈ بینش نے انقلابی نظم پڑھ کر سنائی۔زرعی یونیورسٹی سے کامریڈ اقصیٰ نے انقلابات میں خواتین کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی اور سرمایہ دارانہ نظام میں عورتوں کو درپیش مسائل بیان کیے۔کامریڈ ارتقاء نے ’’آکوپائی وال سٹریٹ ‘‘ تحریک اور برطانیہ میں طلبا کی تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں پاکستان میں اس سے بھی بڑی تحریکیں ابھر سکتی ہیں جن کے لئے ہمیں نظریاتی ، ذہنی اور تنظیمی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تحریکوں کو کامیاب سوشلسٹ انقلاب میں بدلا جا سکے۔ٹیکسٹائل کی صنعت سے تعلق رکھنے والے کامریڈ راشد نے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیروزگاری پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بہت جلد ٹیکسٹائل کے مزدوروں کو منظم کرتے ہوئے لوڈ شیڈنگ کے خلاف بڑی تحریک کا آغاز کریں گے۔نرسنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والی کامریڈشازیہ نے نرسز اور میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل کا تذکرہ کیا۔کامریڈ عمر رشید نے انقلابات میں طلبا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ نوجوان اور طلبا کسی بھی انقلابی تحریک کا آغاز کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سائنسی سوشلزم کے نظریات کو نوجوانوں میں بہت پذیرائی مل رہی ہے اور ہم نوجوانوں کو ایک انقلابی تنظیم میں منظم کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائی سے کام لے رہے ہیں۔اس بار پاکستان میں ابھرنے والی انقلابی تحریک ایک سوشلسٹ انقلاب پر ہی منتج ہو گی ۔
آخرمیں کامریڈ لال خان نے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے اور تمام تر بحث کو سمیٹے ہوئے کہا کہ اس خطے کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ۔ 1968-69ء کے واقعات اپنے آپ کو بلند پیمانے پر دہرانے جا رہے ہیں لیکن اس بار یہ انقلاب مکمل ہوگا کیونکہ ہم ایک موضوعی عنصر کی شکل میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ منظم اور تیار بھی ہیں۔ پاکستان میں برپا ہونے والے سوشلسٹ انقلاب سے ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا جو مصنوعی سرحدوں کو چیرتا ہوا عالمی سرمایہ داری کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گا۔کامریڈ لال خان کے سم اپ کے بعد انٹرنیشنل گا کر جلسے کا اختتام کیا گیا۔