حیدرآباد میں ایک روزہ مارکسی اسکول

رپورٹ : کامریڈ شفیق کھوکھر:-
یوتھ فار انٹرنیشنل سوشلزم اور آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس کی جانب سے حیدرآباد میں مورخہ 15 اپریل بروز اتوار کے دن ایک روزہ ایریا مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریبا 50 نوجوانوں و خواتین نے شرکت کی۔ جن میں ایک بڑی تعداد سندھ یونیورسٹی اور مہران انجینئیرنگ یونیورسٹی سے تھی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے بھی طلباء و بیروزگار نوجوانوں نے اسکول میں شرکت کرکے اسکول کومقداری و معیاری حوالے سے کامیاب بنایا ، اسکول میں مجموعی طور پر دو سیشنز رکھے گئے تھے جن میں پہلا سیشن سرمایہ داری اور سوشلزم جبکہ دوسرے سیشن میں’’ پاکستان سوشلسٹ انقلاب کے بعد کیا؟‘‘ کو زیرِبحث لایا گیا پہلے سیشن کو چئیر کامریڈ شفیق کھوکھر نے کیا جبکہ لیڈآف دیتے ہوئے کامریڈ ونود نے انسانی تاریخ پرتاریخی مادیت کی روشنی میں تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہا کہ آج ساری انسانی تاریخ ہمیں جھوٹ پر مبنی پڑھائی جاتی ہے جس میں تاریخی طور پر انسانی محنت کے کردار کو نظرانداد کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے جو مختلف معاشی نظاموں سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہے۔ آج محنت کش طبقہ کا جس طرح استحصال ہو رہا ہے اتنا ساری تاریخ میں ہمیں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔آج دنیا بھر کی دولت کا ارتقاز چند ہاتھوں میں ہوچکا ہے جس سے استحصال میں ہر رو ز اضافہ ہورہا ہے ہمیں اس استحصال کی وجہ کو سمجھتے ہوئے اس نظام کو تبدیل کرنا ہوگا اور حقیقی طور پر صرف سوشلسٹ انقلاب کے زریعے ہی آج انسانی بقا کو ممکن بنیایا جاسکتا ہے ۔ اس سیشن میں کامریڈ حاجی شاہ ، افضل ، لاجونتی اور راہول نے کنٹریبیوشن کئے جس کے بعد سیشن کا سم اپ کیا گیا اور تمام سوالات کے جوابات دئے گئے ۔اس سیشن کے بعد لنچ بریک کیا گیا جس کے بعد اسکول کا آخری سیشن جو کہ’’ پاکستان سوشلسٹ انقلاب کے بعد کیا ؟‘‘ کا آغاز کیا گیا جس کو چئیر کامریڈ انیتا نے کیا اور لیڈآف دیتے ہوئے کامریڈ موہن نے کہا کہ پچھلے سیشن میں ہم نے جو تمام بحث کی ہے یہ سیشن ان تمام تر مسائل کے حل کے طور پر رکھا گیا ہے کہ سرمایہ داری میں جو استحصال ہو رہا ہے اسے ایک سوشلسٹ سماج میں کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں اس بات کو ذہنشین کرنے کی ضرورت ہے یہ تمام تر ٹیکنالوجی و وسائل کے ہونے کے باوجود بھی آج دنیا بھر کی ایک بڑی تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے جبکہ چند لوگ دنیا بھر کے وسائل کی مجتماع شدہ دولت کے مالک ہیں۔ یہ سرمایہ دار طبقہ اس نظام میں کبھی اپنی ملکیتوں سے ہاتھ نہیں اٹھائے گا ان سرمایہ داروں سے یہ ملکیتیں صرف محنت کش طبقہ سوشلسٹ انقلاب ہی میں چھین سکتا ہے جسے محنت کشوں کے اجتماعی کنٹرول سے چلا کر سوویتوں کو تعمیر کرکے استحصال کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا سکے ۔ آج پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بدترین دور سے گزر رہا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس کی بنیادی ضروریات سے محروم کیا جاچکا ہے ،بجلی آئے یا نہ آئے لیکن ہر روز اس کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے اور ہر ماہ ایک بھاری بل غریب گھرانوں کو تھمائے جاتے ہیں۔ ہمیں ان سارے بحرانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں آج یہاں پیدا ہوئے تمام مسائل کا خاتمہ چند گھنٹوں میں کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کبھی اس نظام میں نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اس نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا اور صرف منصوبہ بند معیشت کے زریعے ہی نہ صرف اس ملک کو بلکہ پوری دنیا کو ترقی دی جاسکتی ہے ۔ اس سیشن میں کامریڈ شفیق کھوکھر و دیگر نے کنٹریبیوشنز کئے جس کے بعد تمام سوالات کے جوابات و اسکول کا سم اپ کرتے ہوئے کامریڈ حنیف نے کہا کہ آج کی تمام بحث انتہائی اہمیت کی حامل اور ہمیں یہ بات اب سمجھنی ہوگی کہ انقلاب کی تیاری تحریکوں کے دنوں میں نہیں کی جاتی بلکہ ہمیں اس کی تیاری اس سے پہلے کرنی ہوگی اور اس قسم کے اسکول منعقد کرکے ہی ہم اپنی تنظیمی کیڈر بلڈنگ کرتے ہوئے اور عوام میں جاکر ایک عالمی مارکسی بین الاقوامی تعمیر کرسکتے ہیں۔ جس کا مقصد غیر طبقاتی معاشرہ ہو جہاں چیزیں انسانی ضروریات کے لئے بنائی جائی نہ کہ منافعے کے لئے ۔آخر میں انٹرنیشنل گاہ کر اسکو ل کا اختتام کیا گیا ۔