گوجرانوالہ میں ایک روزہ مارکسی سکول

[رپورٹ: ناصرہ وائیں]
گوجرانوالہ میں اٹھائیس دسمبر کو مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیاجس کا موضوع ’’مارکسی اور بورژوا معاشیات‘‘ تھا۔ بیس کے قریب نوجوانوں نے شرکت کی جن میں زیادہ تعدادخواتین کی تھی۔ سیشن کو زاہد بریار نے چیئر کیا۔ سکول کا باقاعدہ آغاز صبغت وائیں کی لیڈ آف سے ہوا۔ انہوں نے موضوع کا جامع احاطہ کیا اور لیڈ آف کا آغاز انسانی جدوجہد کی تاریخ سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کیلئے مختلف قسم کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں، سرمایہ داری کا نام لینے کی بجائے جمہوریت کو نظام کا نام دیا جاتا ہے۔ مختلف مما لک میں مختلف نظام حکومت مو جود ہیں لیکن سرمایہ داری بھی موجود ہے۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں مزدوراپنی قوتِ محنت بیچنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ داری نے انسانوں کوسرمایہ دار کی فیکٹری چلانے کے لئے جبراً مزدور بنایا تھا۔ ایسا کرنے کے لئے اس کے اوزار اور زمین چھین لی گئی تھی۔ اس کے بعد مانگنے والوں اور بے کاروں کو کارخانوں میں کام کرنے پر مجبور کرنے کے لئے سخت سزائیں دی گئیں۔ مارکس کی کتاب ’’سرمایہ‘‘ کے پہلے باب کا احاطہ بڑے سادہ الفاظ، قابلِ فہم اندازاور روزمرہ کی مثالوں سے کیا گیا۔ بتا یا گیا کہ بورژوا سماج میں دولت سے کیا مراد ہے۔ دولت کو ناپنے کی بنیادی اکائی کموڈیٹی یا شئے ہے۔ بارٹر سسٹم کے بارے میں بتایا گیا۔ انسانی محنت طرح فطرت کو کموڈیٹی بناتی ہے۔ پھر انسانی محنت کے دوہرے کردار کے بارے میں بتایا یعنی تجریدی محنت اور مقرونی یا کنکریٹ محنت۔ کنکریٹ محنت جو کہ قدرِ صرف پیدا کرتی ہے مثلاً ایک درزی کی وہ محنت جو کہ کپڑے پر مخصوص طرح سے لگ کر اس کا لباس بنا دیتی ہے، یا نانبائی کی وہ محنت جو کہ آٹے پر لگ کر اسے روٹی بنا دیتی ہے۔ دوسری طرف تجریدی محنت ہے جو کسی بھی محنت کرنے والے کی لگتی ہے۔ یعنی وہ درزی کی بھی لگے گی اور نانبائی کی بھی اور کسی بھی محنت کش کی لگے گی۔ مقرونی محنت شئے پر صرف ہو کر اس میں قدرِ صرف پیدا کرتی ہے۔ جب کہ تجریدی محنت اس میں تجسیم ہو کر قدر پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے ایک شئے دوسری سے تبادلے کے عمل میں آتی ہے۔ سب اشیامیں قدر کا پیمانہ یہ تجسیم شدہ ٹھوس محنت ہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اصطلاحات کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا۔ لیڈ آف کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے بعدمشعل وائیں نے کنٹری بیوشن میں کارل مارکس اور ’’سرمایہ‘‘ کا تعارف کروایا۔
اس کے بعد مہمان کامریڈ فہد، جو کہ امریکہ سے آئے تھے، نے اپنی کنٹری بیوشن میں امریکہ میں پڑھائی جانے والی درسی معاشیات کے متعلق بتایا۔ وہ خود بھی معاشیات کے طالب علم ہیں اور سلسلے میں ان سے کئی دلچسپ سوالات بھی پوچھے گئے۔ انھوں نے بتایاکہ امریکہ میں جا کرانہیں سرمایہ داری کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا اور درست سمجھ آئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں سوشلزم کے متعلق بتا دیا جاتا ہے کہ یہ ’’شیئرنگ‘‘ کا نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے، ان کی تربیت ایسے ہوئی ہوتی ہے کہ وہ شیئرنگ سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ اپنی کوئی چیز شیئرکرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے ترقی یافتہ مغرب میں اجارہ داریوں اور وحشیانہ نجکاری کی بدترین مثالوں سے بھی آگاہ کیا۔ اس کے بعد نجکاری پر بحث کرتے ہو ئے ناصرہ وائیں نے تھیچر ازم کے بارے میں بتایا اور برطانیہ کے ان حالات کا موازنہ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات سے کیا کہ کس طرح موجودہ حکومت تمام قومی اثاثے نجکاری کمیشن کے ذریعے پاکستان کی اشرافیہ کے حوالے کرنے پر تلی ہے جس کا نتیجہ عوام کے معیار زندگی میں مزید گراوٹ کی شکل میں برآمد ہو گا۔ اس کے بعد کامریڈ فروا نے ایک نظم سنائی جو کہ پاکستان کے موجودہ حالات کی عکاس تھی۔ اس کے بعد علی بیگ نے معاشیات کی مختلف تھیوریز کے بارے میں بتاتے ہوئے بحث کو آگے بڑھایاجن میں ٹریکل ڈاؤن اکانومی، کینز کا ماڈل، ریگنومکس، مانیٹرنگ اور فسکل سسٹم وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں مشعل وائیں اور سحر وائیں نے سب کے ساتھ انٹرنیشنل گا کر سکول کا اختتام کیا۔