لودھراں: بیوروکریسی کی بے حسی باپ بیٹے سمیت چار زندگیوں کے چراغ بجھا گئی

[رپورٹ: PTUDC لودھراں]
بیوروکریسی کی بے حسی، غفلت اور نااہلی باپ بیٹے سمیت چار زندگیوں کے چراغ بجھا گئی۔ لودھراں چک 97/M کے نزدیک ڈسپوزل اپریشن کے دوران چار زندگیاں ختم ہو گئیں جن میں سگے باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطا بق ذمہ دار مقامی بیورو کریسی اور ٹی ایم اے ہے کیو نکہ مرنے والوں میں کو ئی ٹیکنیکل آدمی نہیں تھا۔ اسی وجہ سے جب وہ ڈسپوزل میں اترے تو غلط پلیٹ کھو ل دی جس سے زہریلی گیس نکلی۔ دم گھٹنے سے مرنے والوں میں ماشکی شفیع، ٹینکی ڈرائیورغلام حسین اور چوکیدار غلام شبیر شامل ہیں۔ غلام شبیر کا بیٹا سکول سے واپسی پر شور سن کر باپ کو دیکھنے بھاگا اور کنویں میں جھانکنے پر زہریلی گیس کے اخراج کی وجہ سے موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ مصطفیٰ بیلدار تا حال بے ہوش ہے۔ شہریوں کے مطا بق ان ہلاکتوں کے ذمہ داران ٹی ایم اے کے تمام افسران اور ضلعی انتظامیہ ہے کیو نکہ یہ ٹیکنیکل سٹاف کا کام تھا نہ کہ ماشکی، ڈرائیور، چوکیداریا بیلدار کا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہو نا چاہئے۔ دس لاکھ کی لاگت سے آنیوالا حفاظتی سامان اور آکسیجن سلنڈر موجود ہیں مگر افسر شاہی انہیں استعمال نہیں ہونے دے رہی۔ انتظامیہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے ڈسپوزل میں اپریشن کے دوران اکثر زہریلی گیس ہو تی ہے اور یہ کسی عام آدمی کا نہیں ٹیکنیکل سٹاف کا کام ہے مگر اہم ذرائع کے مطا بق ٹی ایم اے کے افسروں اپنے رشتہ داروں کے نام پر ٹھیکے لیکر خودٹھیکیداری کررہے ہیں۔ شرح منافع میں اضافے کے لئے عام محنت کشوں سے تمام کام لیا جارہا ہے اورٹیکنیکل سٹاف بھرتی نہیں کیا جارہا۔ گذشتہ سال رات کے وقت سابقہ ڈی سی آصف لودھی نے ٹی ایم اے کے افسران کو ٹینڈر میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا مگر سیاسی پشت پناہی کہ وجہ سے کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔ افسر شاہی کی ہوس کے نتیجے میں محنت کش ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔ یہ لوگ محنت کشوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈز نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد ادارے کے محنت کشوں کو ساتھ ملاتے ہوئے کرپٹ افسر شاہی کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔