پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن کے زیر اہتمام گوجرانوالہ میں لیکچر پروگرام

[رپورٹ: عمر شاہد]
مورخہ 29دسمبر بروز ہفتہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) کے زیر اہتمام ’پاکستان کا موجودہ سیاسی و معاشی بحران اور اس کا حل‘ کے موضوع پر گوجرانوالہ میں PWD ورکرز یونین کے دفتر میں لیکچر پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی PTUDC کے انٹر نیشنل سیکرٹری کامریڈ لال خان تھے۔ دیگر مہمانان گرامی میں PTUDC کے مرکزی رہنما آدم پال، PTUDC کے مرکزی نائب صدر چنگیز ملک، انقلابی کونسل زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے چیئرمین کامریڈ عمر رشید، اور پیپلز پارٹی کے رہنما الیاس خان شامل تھے۔ اس پروگرام میں ایمپلائز یونین کوکا کولا گوجرانوالہ، پرائم گھی ورکرز یونین، واپڈا ٹاؤن ہاؤ سنگ سوسائٹی ورکرز یونین، بیروزگار نوجوان تحریک سمیت محنت کشوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری کامریڈ عمران ہاشمی نے ادا کی۔ پروگرام کا آغاز سیالکوٹ کے مزدور رہنما کامریڈ ناصر بٹ ایڈووکیٹ کی انقلابی نظم سے ہوا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کامریڈ چنگیز ملک کہا کہ آج پاکستان کی موجودہ بحران زدہ کیفیت میں محنت کش طبقہ پریشانیوں اور مصائب میں گھرا ہو ا ہے جس کی وجہ اس پر روز ڈھائے جانے والے مظالم ہیں مگر اس خطہ کی ایک 1968-69ء کی انقلابی روایت موجود ہے اب وہ روایت بڑے پیمانے پر دوبارہ د ہرائی جائے گی۔ ڈسکہ سے کامریڈ نازیہ اور گوجرانوالہ سے کامریڈ ناصرہ صبغت نے پاکستان میں خواتین کے مسائل پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ عہد میں عورتوں کے مسائل کافی زیادہ بڑھ چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کا باہر نکلنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اس کے لئے عورتوں کو اپنی سوچ بدل کر تاریخ کے میدان میں اتر کر اپنی تقدیر کے فیصلے خود کر نا ہو نگے۔ کامریڈ الیا س خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مروجہ حکمرانوں کے غلیظ کارناموں کی وجہ سے لفظ سیاست ایک گالی بن چکا ہے۔ عام آدمی سیاست سے نالاں ہو چکا ہے جس کی وجہ سے سیاست میں بے حسی اور بے گانگی کا دور دورہ ہے۔ موجودہ پیپلز پارٹی کی قیاد ت اپنے بنیادی منشور سے ہٹنے کی وجہ سے سامراج کی اطاعت کر نے پر مجبور ہے۔ پاکستان کے 65 سالوں میں محنت کشوں کی 139 دنوں کی تاریخ ہے جس دوران انہوں نے ثابت کیا کہ اگر وہ نظام چلا سکتے ہیں تو اس کو روک بھی سکتے ہیں۔ اس دوران ایوب جیسے طاقتور آمر نے بھی اقرار کیا کہ پاکستان میں تمام فیصلے اب سڑکوں پر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ معیشت کالے دھن کی سرائیت کی وجہ سے اب کھوکھلی ہو چکی ہے ملکی زرمبادلہ تیزی سے نیچے گر رہے ہیں موجودہ نظام کے اندر موجودہ بحران کا حل موجود نہیں ا س کے لئے سوشلسٹ انقلاب بر پا کر نا ہو گا۔ کامریڈ لال خان نے پاکستان کے موجودہ بحران پر مفصل لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آدھی آباد ی خواتین پر مبنی ہے عورتوں کی براہ راست شراکت داری کے بغیر انقلاب نہیں آ سکتا۔ موجودہ عہد انسانی تاریخ کا سب سے پر ہیجان، ہنگامہ خیز او ر تیز تر تبدیلیوں کا دور ہے جس میں کسی بھی خطہ میں استحکام اور ترقی نہیں ہے۔ یورپ، امریکی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں محنت کشوں پر معاشی یلغار ہے جہاں ان سے تمام سوشل ویلفیئرفوائد واپس لئے جا رہے ہیں۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بن چکا ہے جسکی وجہ سے امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور جاہ جلال کے باوجود اس بحران زدہ کیفیت سے نکلنے کے قابل نہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد اب دوبارہ امریکی صدر اپنی سردیوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اوباما کو مالیاتی بحران کی وجہ سے اپنی چھٹیاں منسوخ کرنی پڑیں جو بحران کی شدت کا اظہار کرتی ہے۔ اس وقت دنیا میں صرف اسلحہ سازی کی صنعت ترقی کر رہی ہے جس کی وجہ سرمایہ دارانہ بحران کی وجہ سے جنگ و جدل کی کیفیت ہے۔ گزشتہدہائی کی قرضوں کے بلبلے کی وجہ سے یورپ اور امریکی مصنوعی طور پرطلب کو بڑھانے میں کامیاب ہو سکے لیکن 2008ء کے بحران نے انکی تمام تر مصنوعی ترقی کا پردہ چاک کر دیا۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے انہوں نے بنکوں کو بیل آؤٹ کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے عوام پر مزید کٹوتیاں لگائیں گئی۔ حالیہ امریکی الیکشن تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن تھے جس میں عالمی اجاہ داریوں نے اوباما اور مٹ رومنی کو اپنے مفادات کے لئے بڑی بڑی رقوم دیں۔ 2008ء میں امریکہ سے شروع ہونے والابحران یورپ میں پہلے بنکاری کے دیوالیہ پن اورپھر 2010ء میں ریاستی دیوالیہ پن کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پانچ بڑی معیشتیں دیوالیہ ہو چکی ہیں یا دیوالیہ پن کے قریب ہیں جن میں اٹلی، اسپین، پرتگال اور یونان شامل ہیں۔ یونان میں سخت گیر قسم کی کٹوتیاں لگانے کے باوجود وہ بحران کو حل نہیں کیا جا سکا۔ تیسری دنیا کے ممالک کی حالت پر بات کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ افریقہ سے انڈونیشیا تک ہر جگہ عوام بھوک، ذلت اور بے بسی کی وجہ سے پس رہے ہیں لیکن ان ممالک میں بھی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جنوبی افریقہ کی موجودہ سیاہ فارم حکومت نے تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے اور سینکڑوں محنت کشوں پر گولیاں چلوا دیں جس کی وجہ سے درجنوں محنت کش مارے گئے۔ عرب انقلاب نے جہاں کئی آمریتوں کو پا ش پاش کیا وہیں انقلابی قیادت کے نہ ہو نے کی وجہ سے یہ کسی واضح کامیابی کی طرف نہیں جا سکا۔ مصر میں اخوان المسلمین کے خلاف ہونے والے مظاہرے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ انقلاب ابھی بھی جاری ہے اور یہ مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھے گا۔ اسی طر ح پوری دنیا میں تحریکیں چل رہی ہیں جس کی وجہ سے عوامی شعور میں تیز تر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی لوگ موجودہ بحران سے تنگ آ چکے ہیں وہ تمام پرانے چہروں کو دیکھ کر اکتا چکے ہیں۔ پاکستان میں 27 دسمبر 2007ء کو تحریک کے جمہوری قتل کی وجہ سے تحریک وقتی طور پر تھمی ہے مگر یہ بہت شدت اور توانائی سے پھٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹراٹسکی کے مطابق تمام کل انسانیت کے انقلاب کا بحران سمٹ کر محض انقلابی قیادت کے بحران میں سمٹ چکا ہے اس لئے ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کر کے ہی ہم موجودہ ذلتوں، بحرانوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد علاج اور تعلیم پر پیسے لینا سنگین ترین جرم قرار دے دیا جائے گا۔ لوٹی ہوئی تمام دولت اور جائیداد کو ضبط کر لیا جائے گااور بینکوں میں موجود سرمایہ داروں کا تمام پیسہ صبط کر کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش زیادہ بہتر انداز میں اس ملک کو چلا سکتے ہیں اور استحصال کا خاتمہ صرف تب ہی ممکن ہے جب یہاں سرمایہ دارانہ ریاست کا خاتمہ کر کے مزدور ریاست قائم کی جائے۔
آخر میں کامریڈ آدم پال نے تمام حاضرین کا شکریہ اد ا کیا اور سوشلسٹ انقلاب کا عزم کرتے ہوئے مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کیں جن کو حاضرین نے متفقہ رائے سے منظور کیا۔
*پرائم گھی کے محنت کشوں کی اپنی یونین رجسٹر کروانے کے درمیان حائل حکومتی رکاوٹیں ختم کی جائیں، پولیس کی جانب سے ہراساں نہ کیا جائے اور انکی یونین کو باقاعدہ رجسٹر ڈیا جائے۔
* لیبر ڈیپارٹمنٹ اور فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے کوکاکولا کے محنت کشوں کے CBA ریفرنڈم میں ناجائز رکاوٹ ختم کر تے ہوئے جلد ا ز جلد ان کے ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے۔