تلہار: بیروزگار نوجوان تحریک کے زیر اہتمام لیکچر

[رپورٹ : خالد چانگ]
بیروزگار نوجوان تحریک کی جانب سے 27 جون 2014ء کو تلہار شہر میں ایک لیکچر پروگرام منعقد کیا گیا جس میں شہر کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں، محنت کشوں اور طلبا نے شرکت کی۔ لیکچر کا موضوع ’’دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور پاکستان پر اس کے اثرات ‘‘ تھا۔  اسٹیج سیکریٹری کے فرائض کامریڈ گوپال نے ادا کئے جبکہ موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے بیروزگار نوجوان تحریک کے رہنما راہول نے کہا کہ عام طور پر ہمیں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پاکستان یا دوسرے ممالک پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر ہم ساری دنیا کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں بآسانی معمول ہوسکتا ہے کہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اور کسی ایک ملک میں ہونے والا کوئی ایک واقع پوری دنیا پر اثر ات چھوڑتا ہے،   اس کی واضع مثال حالیہ دنوں عراق میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں کہ جس میں موصل میں رونما ہونے والی تبدیلی کی بدولت پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسی اور کتنی ہی مثالیں موجود ہیں لیکن آج پوری دنیا میں بیروزگاری ایک بہت سنگین اور سلگتا مسئلہ ہے جس پر حکمران طبقات کی جانب سے کسی قسم کی کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی، یورپ سمیت امریکہ میں کروڑوں  کی تعداد میں بیروزگار موجودہیں جو ہر روز جینے کے لئے سسکتے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو سامراج کہلوانے والا ملک خود آج اپنے اندونی مسائل میں اس قدر گھرا ہوا ہے کہ اب اکثریتی آبادی کا اپنی  حکومت پر سے اعتبار ختم ہوتا جارہا ہے، بے گھری سے لیکر تنخواہوں اور دوسری مراعتوں میں کٹوتیاں اب امریکہ اور یورپ کا معمول بن چکی ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں اگر پاکستان جیسی پسماندہ  سرمایہ دار ریاست کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں  بخوبی معلوم ہوسکتا ہے  کہ یہاں کا حکمران طبقہ بیروزگاری یا اس قسم کے دوسرے مسائل کو حل کرنا تو دور انہیں  تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں ہے، اس کا واضع اظہار پاکستان لیبر اسٹیٹسٹک  بیورو کی حالیہ دنوں جاری کردہ رپورٹ ہے جس کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہاں کا حکمران طبقہ صرف اور صرف نان اشوز پر سیاست کرنا جانتا ہے۔ پاکستان کے عوام کا کوئی بھی مسئلہ یہاں کا حکمران طبقہ اب حل کرنے سے قاصر ہے اور اس سماج کو ایک انقلابی سرجری درکار ہے، پوری دنیا میں آج تحریکیں موجود ہیں لیکن آج تمام بحرانات سمٹ کر قیادت کے بحران میں تبدیل ہوچکے ہیں اور ہمیں اس بحران کو ختم کرنے کے لئے لینن اسٹ نظریات پر مبنی انقلابی پارٹی کی تعمیر کرنی پڑے گی۔  انقلابی قیادت ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس کے ذریعے اس نظام کو اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے۔ لیکچر کے بعد سوال جواب کا سیشن شروع ہوا جس پر کامریڈ راہول نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے لیکچر کا سم اپ کیا۔