آستین کے سانپ!

[تحریر: لال خان]
’’معمول‘‘ کے طویل ادوار میں سماج جمود کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ تاریخ بظاہر ٹھہر سی جاتی ہے۔ حکمران طبقہ جبر و استحصال کی شدت بڑھاتا چلا جاتا ہے اور بغاوت نہیں ہوتی۔ سماج اس معمول کا اتنا عادی ہوجاتا ہے کہ رائج الوقت سیاسی، سماجی و معاشی نظام ازلی اور ابدی تصور ہونے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ٹھہراؤ لامتناہی ہے، سب کچھ یوں ہی چلتا رہے گا۔ لیکن پھر ’’غیر معمولی‘‘واقعات سماج کی بظاہر پرسکون اور جامد سطح کو چیر کر ابھرتے ہیں اور اس ’’معمول‘‘ کو توڑ دیتے ہیں۔ جنگیں اور انقلابات دہائیوں، بعض اوقات صدیوں کے سکوت کو درہم برہم کر کے تاریخ کا دھارا موڑ ڈالتے ہیں، سماجی شعور کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ پچھڑا ہوا شعور جب جست لگا کر تلخ مادی حقائق کا ادراک حاصل کرتا ہے تو بغاوت پھوٹتی ہے۔ بڑے بڑے برج زمین بوس ہوجاتے ہیں، حکمران طبقے کے پیروں تلے زمین سرکنے لگتی ہے اور ’’چٹان‘‘ جیسی شخصیات اور ریاستی ڈھانچے رائی کے پہاڑ کی طرح بکھر جاتے ہیں۔
لیکن ضروری نہیں کہ ہر بڑا واقعہ بغاوت کو جنم دے۔ رجعتی یانیم رجعتی ادوار میں کچھ المناک واقعات پژمردگی کو اور بھی گہرا کر ڈالتے ہیں۔ بے بسی اور لاچارگی کے عالم میں عوام کا ایک حصہ، خاص کر درمیانہ طبقہ، خود پر جبر کرنے والوں سے ہی نجات کی بھیک مانگنے لگتا ہے۔ پشاور میں بچوں کے قتل عام نے ایسی ہی اذیت ناک کیفیت کو جنم دیا ہے جس کے بعدحکمران طبقہ اور ریاستی آقااپنے جرائم اور مظالم کے داغ ان بے گناہوں کے لہو سے دھونے کی واردات میں مصروف ہیں۔ غم اور سوگ کے بحر میں ڈبو کر عوام کی نفسیات کو اور بھی شل کرنے میں کارپوریٹ میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی میڈیا اب فوجی عدالتوں کی بحث کے گرد سارے ایشو کو گول مول کررہا ہے۔ ریاست کے وہ حصے دہشت گردی کا واویلا کرنے میں سب سے آگے ہیں جن کی دہائیوں پر مبنی پالیسیوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بربریت کی انتہا ہو جانے پر بھی مذہبی جنون اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کی علامت سمجھے جانے والے ملا سر عام زہر اگلتے پھر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی نرسری کا درجہ رکھنے والی مساجد اور مدارس بدستور سرگرم ہیں جس کی سب سے واضح مثال دارالحکومت کی کوکھ میں متحرک لال مسجد مافیا ہے۔ لال مسجد آپریشن میں 14 عام لوگوں، 11 فوجی جوانوں اور درجنوں بچے بچیوں کی اموات کا ذمہ دار مولوی عبدالعزیز اپنی مکروہ سرگرمیاں آج بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے جنونی گروہوں کی سرگرمیوں کو ریاست کے کچھ دھڑوں کی سرپرستی اور تحفظ آج بھی حاصل ہے۔ حکمران طبقے کے کچھ ’’مخیر حضرات‘‘ ایک طرف دہشت گردی سے متاثرہ گھرانوں کو مالی امداد دے کر نیک نامی خرید رہے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی کرنے والوں کو مالا مال کررہے ہیں۔
4 اور 5 جنوری کو ملک کے کئی نامور انگریزی جرائد میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ’’ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی‘‘ نے وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ ارسال کی ہے جس کے مطابق ’’مولانا عبدالعزیز اور لال مسجد مافیا کے رابطے دہشت گرد اور قبضہ گروہوں کے ساتھ ہیں۔ مسلح تنظیم ’’غازی فورس‘‘ کو پھر سے منظم کیا جارہا ہے جس میں لال مسجد اور اس کے متعلقہ اداروں کے تربیت یافتہ افراد شامل ہیں… لال مسجد مافیا کی سرگرمیوں کو نہ روکنے کی صورت میں جڑواں شہروں کے امن و امان کو سخت خطرات لاحق ہے۔‘‘ رپورٹ میں لال مسجد کو رقوم فراہم کرنے والے ملک کے سب سے ’’مخیر‘‘ سرمایہ دار (ملک ریاض) اور اس کی سرپرستی میں کام کرنیو الے راولپنڈی کے مشہور قبضہ گروہ کے سرغنہ (تاجی کھوکھر) کا نام بھی درج ہے۔ ان حضرات نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی تعمیر نو کے لئے نہ صرف رقوم فراہم کی ہیں بلکہ ان اداروں کے بجلی اور گیس کے تمام بل بھی ادا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس ادارے (بحریہ ٹائون) کی رہائشی کالونیوں میں لال مسجد کے ذیلی مدارس بھی تعمیر کروائے گئے ہیں۔
مذہبی جنون کی مالی سرپرستی کرنے والا ملک ریاض ’’تیز ترین‘‘ رفتار سے پیسہ بنانے والا ملک کا امیر ترین شخص ہے۔ اتنے کم وقت میں اتنی زیادہ دولت بنانے کی کوئی مثال پاکستان میں تو کیا، دنیا بھی کم ہی ملتی ہوگی۔ خیرات کرنے میں بھی موصوف کا کوئی ثانی نہیں ہے اور محل یا ہوائی جہاز سے کم کوئی ’’تحفہ‘‘ نہیں دیتے۔ فیصلہ کن ریاستی ادارے اس کی جیب میں ہیں اور مذہبی جماعتوں سے لے کر ’’سیکولر‘‘ پارٹیوں تک، سیاست کے تمام جغادری اس کے مرہون منت۔ کارپوریٹ میڈیا کی ’’آزادی‘‘بھی اس دولت کی باندی ہے۔ ’’آزاد‘‘ میڈیا پر ملک ریاض کے قبضہ مافیا، کاروباری فراڈ اور ریاست یا سیاست میں اس کی مداخلت وغیرہ پر کوئی سوال اٹھانا ضیائی مارشل لا کے دوران ضیاالحق پر تنقید کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ یہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کی ’’جمہوریت‘‘ اور ’’آزادی اظہار‘‘ کی اصلیت۔
صرف دو ہفتے قبل برقعہ پوش مولوی کی سرپرستی میں چلنے والے راجن پور کے ایک مدرسے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا ہے، اطلاعات کے مطابق اس مدرسے میں کم سن خود کش بمبار تیار کئے جاتے تھے۔ پشاور واقعہ کی مذمت تو کجا، مولوی برقعہ سرعام اس قتل عام کے جواز پیش کررہا ہے لیکن ’’دہشت گردی کا صفایا‘‘کرنے میں مصروف ریاست اسے ہاتھ لگانے سے بھی انکاری ہے۔ اس نظام کو ’’ٹھیک‘‘ کرنے میں مصروف ’’سول سوسائٹی‘‘نے شور شرابا ڈال کر آبپارہ تھانے میں ایف آئی آر درج تو کروائی ہے لیکن جہاں ’’اعلیٰ دارے‘‘ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں وہاں پولیس بھلا کیا کرسکتی ہے؟یہ ایف آئی آر اگر کسی غریب آدمی کے خلاف درج ہوتی تو وہ باقی عمر جیل میں سڑتے گزار دیتا۔ اس ملک کے تھانے، کچہریوں اور جیلوں میں اس ’’انصاف‘‘ کی لاکھوں مثالیں مل جائیں گی۔ سزا تو دور کی بات ہے، فوجی عدالت اس خونخوار ملا کو پکڑ بھی سکے گی؟
لیکن یہ صورتحال کیا صرف ایک مسجد یا مدرسے تک ہی محدود ہے؟ اپریل 2014ء میں خفیہ اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صرف راولپنڈی اسلام آباد میں دو درجن مدارس ایسے ہیں جہاں دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے، اسلحہ چھپایا جاتا ہے اور جہادی تیار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں متعلقہ مدارس، ان کے ناظمین اور دہشت گرد گروہوں کے نام اور پتے تک بتائے گئے ہیں۔ آج تک کوئی ایکشن ہوا؟ دارالحکومت میں یہ صورتحال ہے تو ملک کے پسماندہ علاقوں میں کیا حالات ہوں گے؟صرف وفاق المدارس کے تحت کام کرنے والے 18 ہزار مدارس میں مقیم 30 لاکھ طلبہ کی خوراک کا سالانہ خرچہ کم از کم ڈیڑھ سو ارب روپے ہے۔ باقی تمام اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ’’غیر رجسٹرڈ‘‘ مدارس کو شامل کیا جائے تو کل مدارس کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ ان مدارس میں کیا ہوتا ہے، کیا پڑھایا جاتا ہے؟ کس مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھایا جاتا ہے؟ کوئی پوچھنے والا ہے؟ اور عوام کو اب یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ریاست اب دہشت گردی کے خاتمے میں ’’سنجیدہ‘‘ ہو گئی ہے!
دور رس تناظر کے حوالے سے بات کی جائے تو ’’جمہوری‘‘ حکومت کی جانب سے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ حکمران طبقے کی سیاست کے لئے خوشگوار امر نہیں ہے۔ محنت کش عوام کو ’’جمہوریت‘‘ اور ’’آمریت‘‘ کا چکر دینا اب اتنا آسان نہیں رہے گا۔ آمریت ہو یا جمہوریت، حکمران طبقے کی معاشی حاکمیت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ اس ملک میں ’’قانونی‘‘ سرمایہ داری کب کی گل سڑ چکی ہے۔ بدعنوانی اور جرائم کا کالا سرمایہ سیاست، ریاست اور ثقافت کو کھوکھلا کرتا چلا جارہا ہے۔ اسی کالے دھن کی مالیاتی سپلائی دہشت گردی کو نہ صرف منظم اور متحرک کرتی ہے بلکہ اس کی قوت محرکہ بھی ہے۔ کالے دھن کی یہ شہ رگ جب تک چالو رہے گی، معصوم لاشے گرتے رہیں گے، سماج سلگتا رہے گا۔ ریاستی آقاؤں کا سارا جوش خروش دہشت گردی کو ’’کنٹرول‘‘ کرنے تک ہی محدود ہے لیکن یہ عفریت جتنا پھیل چکا ہے اس کے مدنظر یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہوجائے گی۔ ریاستی دودھ پر پلنے والے ماضی کے یہ سپولیے آج اژدھے بن چکے ہیں جن کا سر صرف سوشلسٹ انقلاب کا ہتھوڑا ہی کچل سکتا ہے!