لاہور: ریلوے کے محنت کشوں کا تنخواہوں میں اضافے کے لئے تحریک چلانے کا اعلان

| رپورٹ: PTUDC لاہور |

ریلوے لیبر یونین کی جانب سے متوقع وفاقی بجٹ 2016-17ء اور ریلوے ملازمین کے لائحہ عمل کے لئے ریلوے انجن لوکو موٹو شیڈ لاہور میں اہم اجلاس زیر صدارت صدر لیبر یونین سرفراز خان منعقد کیا گیا جس میں یونین کی قیادت سمیت بڑی تعداد میں محنت کشوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں محی الدین، حاجی نعیم، محمد عمران نے کہا کہ ریلوے کے محنت کش مشکل حالات پر کام کرنے پر مجبور ہیں، شیڈ میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے سیفٹی آلات موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے حادثات معمول بن چکے ہیں۔ عشروں سے پرانے زنگ آلود سینٹری پائپو ں کا گندا پانی پینے سے ملازمین کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ پینے کے لئے صا ف پانی موجو د نہیں جبکہ دوسری طرف ا ن سخت حالات کے باوجود ملازمین اپنا خون پسینہ ایک کر کے ریلوے کا پہیہ چلا رہے ہیں۔ افسر شاہی اپنی عیاشیوں کے لئے کرڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، جس کی واضح مثال نیو انجن شیڈ ہے جہاں پر اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ افسران اپنی من مرضی سے میرٹ کے برخلاف بھر تیاں کر رہے ہیں جن پر اپنے من پسند افراد کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سن کوٹہ میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے اور تمام محنت کشوں کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری عنایت گجر نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوششیں بند کی جائیں اور ان میں تفریق ڈالنے سے باز رہا جائے۔ نئے شیڈ کے ملازمین کو جو مراعات حاصل ہیں وہ ہر شیڈ کے ملازمین کو دی جائیں۔ پاکستان ریلوے کی آمدن میں سب سے زیادہ لاہور کے تاریخی انجن شیڈ کا حصہ ہے لیکن یہاں کے محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہم ریلوے ملازمین کے حقوق کی خاطر سرگرم عمل ہیں، اسی جدوجہد سے ہم نے ملازمین کے لئے ٹیکنکل الاؤنس حاصل کیا۔ ہم اپنے مطالبات کی خاطر جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ آخر میں یونین کے صدر سرفراز خان نے اعلان کیا کہ یکم مئی سے شیڈ میں نئی جدوجہد کاآغاز کیا جائے گا، وفاقی بجٹ پیش ہونے جارہا ہے جس میں ہمارا مطالبہ ہے کہ محنت کشوں کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے، ٹیکنکل الاؤنس میں 15 فیصد سے 25 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ ہر ریٹائر ملازم کے بیٹے کو ملازمت دی جائے اور ریلوے کے تمام ملازمین جن کو ٹیکنیکل الاؤنس نہیں دیا گیا ان کو بونس دیا جائے۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو پہلے مرحلے میں پرامن تحریک کا آغاز کیا جائے گااس کے بعد اس تحریک کا دائرہ کار بڑھا کر مکمل ہڑتال کی جائے گی اور حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہو گی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) کی طرف سے کامریڈ رضوان اختر، عمر شاہد و دیگر نے اجلاس میں شرکت کی اور ملازمین کو اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایا۔