| رپورٹ: PTUDC کراچی |
بہاولپور انجینئرنگ لمیٹڈ (BEL) کی انتظامیہ محنت کشوں پر جبر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے در پردہ 80 محنت کشوں کو نکالنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ سالانہ بونس کی مد میں جوایک تنخواہ دی جاتی ہے، 80 مزدوروں کو نکالنے کی صورت میں وہ بچ جائے گی، یہ تقریباً دس لاکھ روپے کی رقم بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جبری طور پر مزدوروں سے زیادہ کام لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایک مزدور SBH1، جو کہ اس کمپنی کی سب سے بڑی پروڈکٹ ہے ایک دن میں 3 بناتا تھا، اب 10 بنانی پڑتی ہیں،ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی صورت میں نوکری سے نکال دئیے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ان 80 مزدوروں کے نکالے جانے سے باقی مزدوروں پر کام کا شدید بوجھ پڑ جائے گا۔ اس کے علاوہ چھوٹی پروڈکٹس کا بھی یہی حال ہے۔ فیکٹری میں کل 200 سے250 ورکرز کام کرتے ہیں جو پاک سوزوکی کے لیے وائیرنگ اور الیکٹریکل مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ انتہائی قیمتی پروڈکشن کے باوجود ان کی اپنی حالت سرمایہ داری کے استحصالی اور جابرانہ نظام کے ظلم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ فیکٹری میں 4 سکیورٹی گارڈز کی جگہ صرف ایک سکیورٹی گارڈ رکھا ہوا ہے۔ ان محنت کشوں کے پاس نہ تو سوشل سکیورٹی کارڈز ہیں اور نہ ہی اولڈ ایج بینیفٹ کی سہولت۔ بلکہ ان میں سے اکثر کو ٹرانسپورٹ کی بھی سہولت میسر نہیں۔
اسی سال یکم جنوری کو مزدوروں نے اپنی تنخواہ میں اضافے اور اجرت سمیت چھٹیوں کے مطالبات پر ہڑتال کر دی تھی جس پر انتظامیہ نے ان سے ایک ہفتے کا وقت مانگا لیکن ہفتے بعد روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وعدے سے مکر گئے۔ اس پر محنت کشوں نے 8 جنوری کو پھر کام کرنے سے انکار کر دیااور فیکٹری گیٹ پر دھرنا دے دیا جس پر انتظامیہ نے مطالبات مان لیے۔ تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا اور ایک گھنٹہ لنچ ٹائم بھی دے دیا گیا مگر صرف 3 ماہ کے اندر ہی انہوں نے انتقامی کاروائیاں شروع کر دیں۔ لنچ کے لیے جو ایک گھنٹہ دیا گیا تھا اسے آدھا گھنٹہ کر دیا گیااور ماہانہ لنچ کے صرف 400 روپے دیے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے محنت کشوں کو سارا دن بھوکے پیٹ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس پر بھی ظلم یہ کہ چھٹی کی صورت میں ان 400 میں سے بھی کٹوتی کی جاتی ہے۔ اسی طرح 4 اپریل کو سرکاری طور پر سندھ بھر میں چھٹی کے باوجود مزدوروں سے جبری کام لیا گیا۔ جبکہ 32 چھٹیاں جن کا وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی رد کر دی گئیں۔ جنوری میں احتجاج کے بعد مطالبات تو مان لیے گئے مگر وقفے وقفے سے 3 محنت کشوں کو فیکٹری سے نکال دیا گیا تھا جس پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) نے برطرفی کے خلاف لیف لیٹ تقسیم کیا اور مل انتظامیہ سے ان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ فیکٹری کے محنت کشوں کو یقین دلایا کہ PTUDC ہر صورت میں محنت کشوں کے ساتھ ہے۔
سرمایہ داروں کی ایک چال یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے زائد پیداوار سٹور کر لیتے ہیں تاکہ اگر محنت کش ہڑتال بھی کر دیں تو بھی منافع حاصل ہوتا رہے اورساتھ ہی محنت کشوں کی ہڑتال کا اثر کم سے کم ہو اور انہیں تھکا کر اپنی بات منوا لی جائے۔ اس منافقانہ چال سے بھی محنت کشوں کو واقف کرنا ضروری ہے۔
PTUDC مل کی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اپنی منافقانہ اور ظالمانہ کاروائیاں روکتے ہوئے وعدے کے مطابق32چھٹیاں اجرت سمیت دی جائیں۔ سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ کارڈز فوری جاری کیے جائیں۔ ماہانہ لنچ 3000 روپے کم از کم ادا کیا جائے۔ تمام محنت کشوں کو موجودہ کرایوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کی سہولت یا کرایہ دیا جائے۔ دوران کام کسی حادثے کی صورت میں محنت کشوں کو مکمل صحت یاب ہونے تک علاج کے اخراجات سمیت تنخواہ ادا کی جائے۔ اگر ادارے سے محنت کشوں کو برطرف کیا گیا تو محنت کش نہ صرف خود ہڑتال کریں گے بلکہ باقی فیکٹریوں کے محنت کشوں کو اپنے ساتھ شریک کرتے ہوئے انتظامیہ کو محنت کشوں کی طاقت کا ایک بار پھر ثبوت دیں گے۔